جب حکام کو خوفزدہ خاتون نے درخت پر چھپے ہوئے ایک ’پراسرار جانور‘ کے اطلاع دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کروسوں

Getty Images

یورپی ملک پولینڈ کے شہر کراکوو میں جب جانوروں کی فلاح و بہبود کے افسران کو جو درخت میں چھپے ایک غیر معمولی جانور سے متعلق اطلاع ملی، تو انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہاں پہنچنے پر ان کا سامنا کس سے ہوگا۔

ان کو اطلاع دینے والی خاتون نے کہا تھا ‘لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیاں نہیں کھول رہے کیوں کہ انہیں خوف ہے کہ کہیں یہ ان کے گھروں میں نے گھس جائے۔‘

لیکن جب حکام وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ جس کے بارے میں اتنا خوف پھیلا ہوا تھا وہ نہ تو پرندہ تھا، نہ ہی کوئی رینگتا جانور بلکہ وہ ایک کروسوں تھا۔

دی کراکوو انیمل ویلفئیر سوسائٹی نے اس واقع کی تصدیق کی ہے۔

حکام نے اس خاتون سے پوچھا کہ دو تین دن سے درخت پر لٹکا یہ جانور کیا ہو سکتا ہے، کیا یہ کوئی پرندہ ہے؟

یہ بھی پڑھیے

قرونِ وسطیٰ کا ’بیہودہ‘ نام والا پھل جو پراسرار طور پر غائب ہو گیا

کرہ ارض کی سب سے چھوٹی ’چھپکلی‘ مڈغاسکر میں دریافت

شیر اور بکرے کی دوستی، آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

خاتون کا جواب تھا کہ ‘جانور’ دکھنے میں ‘لاگن’ جیسا تھا۔ جو کہ پولش زبان میں لاگون (دلدل) کو کہا جاتا ہے۔ لیکن پھر انہیں یاد آیا کہ صحیح لفظ ‘لیگوان’ ہے، جو کہ پولش میں اگوانا کو کہا جاتا ہے۔

https://www.facebook.com/Krakowskie.Towarzystwo.Opieki.nad.Zwierzetami/posts/4691666100848852

انیمل ویلفئیر کے اہلکار اس بات سے واقف تھے کہ جنوبی پولینڈ کے اس شہر کے ٹھنڈے موسم میں اگوانا جیسے رینگنے والے جانور کا بچنا مشکل تھا۔ انہیں لگا کہ شاید کسی نے اپنے پالتو جانور کو اس طرح کھلے میں چھوڑ دیا ہوگا۔ تاہم جب وہ موقع پر پہنچے تو انہیں درخت میں ایک بنا سر، بنا ہاتھ پاؤں کے چیز ملی۔ ایک کروسوں، جسے شاید کسی نے پرندوں کے لیے کھڑکی سے باہر پھینکا تھا۔

دی کراکوو انیمل ویلفئیر سوسائٹی نے واقع کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کے ذہن میں اگر شک ہو تو انہیں ہمیشہ انیمل ویلفئیر کو رپورٹ کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18959 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp