محمد علی ایج: گیارہ سال پہلے انڈیا فرار ہونے والے قتل کے ملزم سے متعلق نئی معلومات پر پولیس پُرامید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوبی ویلز میں پولیس سنہ 2010 میں ایک 17 سالہ لڑکے کے قتل کے کیس میں مفرور شخص کو نئی اطلاعات ملنے کے بعد تلاش کر رہی ہے۔

عامر صدیقی کو 11 سال قبل کارڈف میں واقع ان کے گھر میں اُس وقت چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب اُن کے قاتل غلط گھر میں گھس گئے تھے۔

ویلز میں پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے سے قبل ہی 43 سالہ محمد علی ایج انڈیا فرار ہوگئے تھے۔

ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ویلز کے ’انتہائی مطلوب‘ شخص ہیں۔ محکمے نے اس ہفتے کے شروع میں ملزم کی نئی تصاویر جاری کی تھیں۔

علی ایج کو 2011 میں انڈیا میں قتل کی سازش کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

لیکن وہ 2017 میں نئی دہلی کے ریلوے سٹیشن کے بیت الخلا سے اس وقت فرار ہو گئے تھے جب ان کی برطانیہ حوالگی سے متعلق کوششیں جاری تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مجرم نے خاتون کا پیچھا کیا اور قتل کے بعد لاش کے حصے مختلف جگہوں پر پھیلا دیے

لاہور میں اپنے ہی گھر والوں کے قتل کی وجہ پب جی یا آئس کا نشہ؟

‘بکنی کِلر’ جس کی کئی ممالک کی پولیس کو برسوں تلاش رہی

جب سڑک پر چاقو سے شوہر نے بیوی کا قتل کیا تو راہ گیروں نے کیوں نہیں روکا؟

افسران نے بتایا کہ کارڈف کے ریور سائیڈ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایج کی تصاویر معلومات کی اپیل کے ساتھ اس ہفتے کے اوائل میں جاری کی گئی تھیں جس کے بعد انھیں نئی معلومات موصول ہوئی ہیں۔ یہ تصاویر 2013 میں اس وقت لی گئی تھیں جب اُنھیں انڈیا میں حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ نئی معلومات عامر کی ہلاکت کے 11 سال بعد سامنے آئی ہیں۔ عامر کو اُن کے والدین کے سامنے قتل کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر پر اپنے قرآن کے استاد کی آمد کے منتظر تھے۔

ساؤتھ ویلز پولیس نے ایک بیان میں کہا ’حالیہ عوامی اپیل کے نتیجے میں معلومات موصول ہوئی ہیں اور ساؤتھ ویلز پولیس ان افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے جنھوں نے ان سے رابطہ کرنے کے لیے وقت نکالا۔

اس کیس میں جیسن رچرڈز اور بین ہوپ کو 2013 میں کم سے کم 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان دونوں کو ایک کاروباری شخص نے 1000 پاؤنڈ کی رقم ادا کی تھی جو املاک کے معاہدے کی ناکامی پر ناراض تھا اور قریبی گلی میں رہنے والے چار بچوں کے باپ کو مارنا چاہتا تھا۔

جج نے ان کے مقدمے کی سماعت میں عامر کو ایک ‘ذہین، شریف اور شائستہ لڑکا‘ قرار دیا جس سے ان کے ’خاندان والے بہت محبت کرتے تھے۔’

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایج کا سراغ لگانے اور اسے برطانیہ واپس لانے کے لیے نیشنل کرائم ایجنسی اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

پولیس نے بتایا کہ عامر کے اہل خانہ کو معلومات دی جا رہی ہیں۔ ان کی مدد خصوصی تربیت یافتہ افسران کرتے ہیں اور عوام سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات ملنے پر پولیس سے رابطہ کریں یا پولیس ویب سائٹ کے ذریعے اطلاع دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp