دیپ جلتے رہے (آخری قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکریہ درد لادوا، ان کا بھی شکریہ کہ جو
لمحہ بہ لمحہ گاہ گاہ واقف حال تو رہے

آپ سب لوگ بڑی محبت سے اس خود نوشت سے جڑے رہے، آنکھیں سرخ کیں، مسکرائے، اور ڈھیروں دعائیں بھی دیں، تب ہی زندگی کے سفر کے مختلف صبر آزما پڑاؤ بیان کرنے کا حوصلہ ہوا۔

قصے سے ہٹ نہ جائے کہیں قصہ گو کا دل
ہنسا پڑا مجھے کبھی رونا پڑا

’ہم سب‘ ٹیم کا شکریہ۔ اگر ’ہم سب‘ نہ ہوتا تو یہ خود نوشت کبھی منظر عام پر نہ آتی۔ پھر احمد نے ہمارے مقصد کو دیکھتے ہوئے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ اکثر جب تعطل پیدا ہوتا تو اگلے حصے کی بابت استفسار کرتے۔ آپ بیتی کے دوران، بیتے مناظر جب آنکھوں میں سمٹے، تو کبھی ان پر بے تحاشا پیار آیا، کبھی ہمدردی محسوس ہوئی، کبھی غصہ آیا اور کبھی خود ترسی میں اس حد تک مبتلا ہوئے کہ الفاظ میں کڑواہٹ گھل گئی اور اس حد تک کہ جوں کا توں جانے بھی دیا۔

تحریر چھپ کر آتی تو خیال آتا کہ اگر یہ دو جملے حذف کر دیے جا تے، یا اس واقعے کو تحریر نہ کیا جا تا تو ایسی کون سے قیامت آ جاتی۔ ان کے کہنے پر کہ ’مجھے سناؤ کیا لکھا ہے تو خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف کر دیتے، مگر ایک خوف دامن گیر رہتا کہ کسی سے سنیں گے تو ضرور، اب ہو گا کیا؟ اور ایسا ہی ہوتا۔ کہتے تم نے مجھے نہیں سنائی، لیکن میں نے سن لی ہم ان کا چہرہ دیکھتے ایک ملال اور دکھ نظر آتا، ہم کریدنے کی کوشش کرتے، برا لگا؟

ہاں، مگر اتنا نہیں جتنا تم نے سہا۔ ایسا سمجھنا ان کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، سہا تو انہوں نے ہے ہم نے تو محض حصہ ڈالا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ مشکل وقت جھیلنے، کرب، مصیبت اور مایوسی سے نکلنے کا حوصلہ بھی ان ہی سے ملا۔

نا امیدی کو مگر اس نے نہ آنے دیا پاس
چاہے وحشت سے کوئی کام بنا ہو کہ نہ ہو

احمد نوید، درویش صفت اور سادہ لو ح ہیں۔ غصہ جتنی تیزی سے آتا ہے اتنی تیزی سے چلا جاتا ہے۔ ان کے مزاج میں عدم توازن لاکھ سہی لیکن نظریات اٹل ہیں۔ ثواب، گناہ، جنت دوزخ کے لیکچر دیتے ہیں نہ ہی مشورہ۔ جب بھی کسی سے ملتے ہیں اس کی تعلیم، مشغولیات، یا نوکری کی کرید نہیں کرتے۔ ہمارے والد اور احمد کی بہت سی عادتیں ملتی جلتی ہیں۔ آزاد رہنا اور آزاد رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی سب کو بے مہار آزادی ہے، جو چاہے پہنو، جو چاہے پکاؤ، جو کھاؤ، جو خرچ کرو، جہاں جاؤ، جس وقت جاؤ، زندگی کے کوئی سے پلان بناؤ انہیں کسی بات سے کوئی مطلب نہیں۔ ان کی اس عادت نے بڑی سیکھ دی کہ آزادی دینے ہی میں انسان خود کو تہذیب اور اخلاق کا پابند سمجھتا ہے۔

احمد کی زندگی کے مقصد، ارادے اور شام کو کیا کریں گے، سے تو سب واقف ہوتے ہیں، لیکن اگلے لمحے کیا کریں گے، یہ کشف آپ پر اچانک ہی ہو گا۔

اگر دو جگہ سے بلاوہ آ جائے تو اسلام آباد کے بجائے ملتان کو ترجیح دیں گے، لیکن کوچ کے اڈے سے واپسی اور اسلام آباد کی راہ لیں گے۔ کبھی دونوں جگہ انکار کر کے، بڑے اسمارٹلی دونوں جگہ موجود گی کو ممکن بنا دیں گے۔ ان کے شب و روز ان کی مرضی کے پابند ہیں۔ رات کو سویرا، سویرے کو شام اور شام کو دوپہر بنا دیں۔

شادی کے بعد ، زندگی کے تیس برس، وحشت، جنون، اداسی، مفلسی، بے بسی، امید، مایوسی، خوشی، غم، ہجر، وصال، قہقہہ، ماتم، سوگ، خلوت، جلوت، شکوہ، تشکر، پریشانی، آسودگی، خوشخبری، وہم، یقین سبھی زندگی کا عنوان ٹھہرے۔ لیکن وقت کو اس آپ بیتی میں ایک اور عنوان کا اضافہ کرنا تھا۔

اے وقت کے مرہم اب کچھ تو یہاں رہنے دے
اک زخم ابھی ہے جو اچھا نہ ہوا ہو گا

وبا کے دنوں میں انجکشن ناپید ہوا، متبادل دوا کا بھی انتظام نہ ہوا تو ایک بار پھر وحشتوں نے دیوانگی کو راستہ دیا، جس کے زیر اثر انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے اپنے بیوی بچوں کے بارے میں ایسا کیا کہا کہ انہوں نے انہیں ہم سے کوسوں دور بھیج کر ہم سے محفوظ کر دیا گیا۔

ہمارے پیروں، آنکھوں اور سینے میں سانسوں کے علاوہ ہر چیز ساکت ہو چکی تھی۔ اپنا موبائل یہ توڑ چکے تھے۔ رابطے کی کوئی صورت نہ تھی۔ ادھر ان کا جنون جب بے قابو ہوا تو پیغام دے دیا گیا کہ اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ رابطہ ہوتے ہی وحشتوں کو قرار آیا۔ ان کے چاہنے والوں نے ان کا ٹکٹ کٹا دیا۔ سراسیمگی کی حالت میں ہمارے پاس پہنچے۔

دیوداس کی داسی کی طرح ہم ان سے جدائی کے گھنٹے، منٹ، اور سیکنڈ کا حساب نہ لگا سکے کہ وقت تھم گیا تھا۔ جب گزری ساعتوں کا عنوان انتظار ٹھہرا، جب جنون کے آثار نعمت اور بھکاری کا کشکول رحمت محسوس ہوا۔ جب گھر کی ہر دیوار چہرہ ہو گئی۔ جب زندگی میں پہلی بار ڈگڈگی بجانے والے سے التجا کی کہ بچہ جمہورا سے کہے کہ مجنوں، بھکاری، بے گناہ قیدی، لب دم مریض، کچھ بھی بنائیو مگرکسی کو لاپتہ فرد کا وارث نہ بنائیو۔

سوچتے ہیں، اچھا ہوا، وہ آٹھ دن ہماری زندگی میں آئے۔ زندہ درگور ہونا اس محاورے کے معنی بغیر اوڑھے کہاں کھلنے تھے کہ کوئی مشورہ، نصیحت، دعا، دوا، خزاں بہار، بچے کی ہنسی، کوئی سہانا، منظر کچھ اچھا نہیں لگتا ڈوبتے دل کو صرف ملن کی آس تھامے رکھتی ہے۔ ان آٹھ دنوں کو آٹھ سطور کے بجائے آٹھ قسطوں میں بھی بیان کیا جا سکتا تھا، لیکن اب معلوم ہوا کہ ایسی اذیت سہنے کے بعد اس کا ذکر بھی کتنی تکلیف دیتا ہے۔

یہ خود نوشت ہماری ہی نہیں ہمارے ساتھی کی بھی ہے۔ احمد نوید مر جاتے، کھپ جاتے، مگر ہم آج وہ نہ ہوتے جو ہیں۔ عورتوں کو اپنے وجود کا کارن سمجھنے والے تو کروڑوں ہوں گے، پر اقرار کوئی کوئی کرتا ہے۔ احمد نوید ان میں سے ایک ہیں۔

اس طرح کی آپ بیتی کا خوب صورت موڑ نہیں ہوا کرتا۔ سو سوچا کہ بس اب شاید نیا کہنے کو کچھ بھی نہیں، گھر تبدیلیاں، انجکشن میں تاخیر کی گوں نہ گوں وجوہات، اور بروقت انجکشن لگے بھی تب بھی مزاج کی ناہمواریاں سنگ ہیں۔

آج جب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ ماں سے کیے گئے وعدے کا پاس کر سکی۔ امی کا نفی میں ہلتا ہوا سر، اور خاموش آنکھوں کی التجا، اسے چھوڑنا مت، اس کا خیال رکھنا۔

کچھ اتنا بے خیال کسی دھیان نے کیا
منظر کے بیچ ہم سے رکا ہی نہیں گیا

ماں جو پیدا کرنے، مارنے، رلانے، ہنسانے تڑپانے اور بھوکا رکھنے پر قدرت رکھتی ہے، اس کے بیٹے کو چھوڑ دینے کا مطلب ہوتا کہ ہم اپنی قدرت مٹی میں ملا دیں۔ ایک ماں کی قدرت نے دوسری ماں کی قدرت کو جلا بخشی اور معجزہ دکھایا کہ آج ہمارے بچے شجر سایہ دار کی صورت بڑی شان سے زمین پر اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں وہ عورت جنتی ہوتی ہے جو اپنے میاں سے پہلے مرتی ہے، مگر ہم ان سے پہلے اس دنیا سے نہیں جانا چاہتے۔ تمنا تو یہی ہے کہ اس دنیا سے اس دنیا کا سفر بھی ان کے ہمراہ ہو ورنہ ہم امی کے شکوے کا کیا جواب دیں گے۔

احمد کو اکیلا چھوڑ دیا!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments