ایران نے 60 فی صد تک یورینیم کی افزودگی شروع کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد باغر قالیباف سپیکر بننے کے بعد خطاب کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا ہے کہ ایران نے نطنز جوہری تنصیب پر حملے کے بعد، یورینیم کی افزودگی کا درجہ 60 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ خبر ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باغر قالیباف کے حوالے سے ملک کے سرکاری ٹی وی نے جاری کی ہے، تاہم یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ ایران کتنی مقدار میں یورینیم کو افزودہ کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور دیگر عالمی قوتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں امریکہ کو واپس لانے اور اس کے عوض ایران پر عائد معاشی پابندیاں اٹھانے کے لیے ویانا میں بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر ہونے والے حملے میں اس کے سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچا تھا۔ ایران اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کے حوالے سے کہا کہ ایرانی قوم اپنی قوت ارادی سے معجزہ کر سکتی ہے اور کسی بھی سازش کو ناکام بنا دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افزودگی کا عمل جمعہ کو نصف شب کے بعد شروع کیا گیا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق، ایران میں سویلین جوہری شعبے کی دیکھ بھال کے ادارے اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ، علی اکبر صالحی نے بھی بعد ازاں یورینئیم کی سطح 60 فیصد تک کرنے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ افزودگی کا پہلا اعلان ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر کی جانب سے کیوں کیا گیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، قالیباف، پاسدارانِ انقلاب کے ایک سخت موقف رکھنے والے لیڈر ہیں اور رواں سال جون میں ہونے والے انتخابات میں ان کا نام ایک ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

ایران نے اس سے پہلے کبھی 60 فیصد تک یورینیم افزودہ نہیں کی۔ تاہم یہ اب بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کی سطح سے کم ہے۔

ایران اب تک 20 فیصد یورینیم افزودہ کر رہا تھا، لیکن تکنیکی اعتبار سے وہ ہتھیار بنانے کی جانب ایک قدم تھا. تاہم جوہری معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران 3.67 فیصد تک یورینیم افزودہ کرے گا۔

نطنز پر گزشتہ اواخرِ ہفتہ ہونے والے حملے کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ بجلی فراہم کرنے والے الیکٹریکل گرِڈ میں خرابی پیدا ہونے سے زیر زمین افزودگی کے لیے بنائے گئے ہال اور زمین کے اوپر بنائی گئی ورکشاپوں میں بلیک آؤٹ ہوا تھا۔ تاہم بعد میں ایران نے اسے باقاعدہ حملہ قرار دیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے ریسرچ سینٹر کے سربراہ، علی رضا زیکانی نے سرکاری ٹیلی وژن کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حملے سے کئی ہزار سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو گئے ہیں۔تاہم، کسی دوسرے عہدیدار نے ایسے کوئی اعدادو شمار پیش نہیں کئے اور نہ ہی سبوتاژ کے بعد وہاں کی کوئی تصاویر جاری کی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سیٹیلائٹ سے لی گئی جو تصاویر حاصل کی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کے اوپر بنائی گئی تنصیب کو بظاہر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

جوہری توانائی کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ایجنسی نے اسی ہفتے اپنے انسپیکٹر نطنز بھیجے تھے، جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے اب زیرِ زمین نہیں بلکہ زمین کے اوپر بنائی گئی ایک تنصیب میں یورینئیم کی 60 فیصد افزودگی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے دور رکھا جائے گا۔ اسرائیل دو مرتبہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں پر ان کے جوہری پروگرام رکوانے کیلئے بمباری کر چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2182 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *