EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

’آئرن مین‘ جیسا ایگزو سکیلیٹن لباس جو عنقریب ہم میں سے کئی لوگ پہن سکیں گے

برنڈ ڈبسمین جونیئر - بزنس رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کریں کہ آپ نے اعلیٰ ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ایک باڈی آرمر یا دفاعی لباس پہن رکھا ہے جو آپ کو زیادہ مضبوط بناتا ہے اور اسے پہننے کے بعد آپ بالکل بھی تھکتے نہیں۔

اس ٹیکنالوجی کو ایگزو سکیلیٹن کہتے ہیں اور اسے دیکھ کر مشہور سپر ہیرو فلم آئرن مین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

تاہم اب اس طرح کے سامان کو دنیا میں عام سطح پر تیار کیا جا رہا ہے اور پہنا جا رہا ہے۔ اسے بنانے والی کیلیفورنیا کی ایک کمپنی سوٹ ایکس جلد اسے عام صارفین کے لیے متعارف کرائے گی۔

کمپنی کے بانی ہمایوں کازرونی کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بات پر کوئی شک نہیں کہ بالآخر ایسے سامان کو بھی ہارڈ ویئر کی دکانوں پر فروخت کیا جائے گا۔‘

’قیمت نیچے آنے پر آپ آسانی سے انھیں کسی ہوم ڈیپو (ہارڈ ویئر کی مشہور امریکی کمپنی) کی دکانوں پر خرید سکیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

فاسٹ فوڈ پر انسان اور روبوٹ کی جنگ

ویب ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے فحش مواد آج بھی اہم؟

مس مارول: گیمنگ کی دنیا کی پہلی پاکستانی نژاد مسلمان سپر ہیرو

مصنوعی طاقتوں والے فوجی بنانے کی دوڑ: کیا چین واقعی ’سُپر سولجر‘ بنا رہا ہے؟

آسان لفظوں میں ایگزو سکیلیٹن ایک بیرونی ڈیوائس ہے جو صارف کو ڈھانپ کر اسے محفوظ رکھتی ہے، زیادہ طاقت فراہم کرتی ہے اور برداشت بڑھا دیتی ہے۔

کبھی کبھار انھیں ایسا ربوٹ کہا جاتا ہے جسے آپ پہن سکتے ہیں۔ انھیں کسی بیٹری اور کمپیوٹر کی مدد سے چلایا جاسکتا ہے اور ان میں موٹر اور ہائیڈرولکس جیسے آلات نصب ہوتے ہیں۔ یا پھر بنیادی طور پر ان کے اندر صرف سپرنگ یا ایسے آلات لگے ہوتے ہیں جو کسی چیز کے مشقت طلب اثر کو کم کر دیتے ہیں۔

ایسنچر نامی کمپنی کے ماہر ایڈریان سپراگ کہتے ہیں کہ ’انسانوں اور مشینوں کو ایک نظام میں جوڑ دینے سے نئے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔

’ابتدائی درخواستوں کی توجہ فوجی یا طبی مقاصد پر مرکوز تھی لیکن گذشتہ کئی برسوں کے دوران ان کے استعمال کے مختلف کیسز سامنے آئے ہیں۔‘

ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ اس وسعت سے اب صنعتی ملازمین بھی ایگزو سکیلیٹن استعمال کر رہے ہیں۔ عام صارفین کے لیے ان کی مختلف اقسام زیرتعمیر ہیں تاکہ لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کی جاسکے، جیسے چلنا، سیڑھیاں چڑھنا اترنا، خود سے کچھ بنانا یا کوئی دوسرا کام کرنا۔

اے بی آئی ریسرچ نامی ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق اس کے نتیجے میں ان کی بڑے پیمانے پر فروخت ممکن ہوسکتی ہے۔ ایگزو سکیلیٹن سے عالمی آمدن سنہ 2020 میں 39 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی مگر 2030 میں یہ 6.8 ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔

سوٹ ایکس نامی کمپنی کے دفاعی لباس کو اب مختلف گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں، جیسے جنرل موٹرز اور فیاٹ، ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

پروفیسر کازرونی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں برکلے ربوٹکس اینڈ ہیومن انجینیئرنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی جانب سے ایگزو سکیلیٹن بنانے کا بنیادی مقصد پٹھوں کی تھکاوٹ روکنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس سے کمر، کندھوں اور گھٹنوں کے پٹھوں کی حرکت 50 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ پٹھوں کی حرکت کم ہونے کا مطلب ہے ان میں زخم پیدا ہونے کا امکان بھی کم ہو جانا۔‘

’اس کا مطلب فیکٹری یا پلانٹ کا مینیجر زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے، انشورنس پر کم خرچ آئے گا اور انجری کی وجہ سے کام کے دن ضائع نہیں ہوں گے یعنی کم خرچ اور زیادہ پیداوار۔‘

جنرل موٹرز بھی سویڈن کی ایک کمپنی بائیو سروو کے بیٹری سے چلنے والے ایگزو سکیلیٹن دستانے میں دلچسپی لے رہی ہے۔

اس دستانے کا نام آئرن ہینڈ رکھا گیا ہے اور اس میں ہر انگلی میں سینسر اور موٹر نصب ہیں۔ یہ دستانے خود بخود کوئی چیز اٹھانے یا پکڑنے کے لیے اسے پہننے والے کو ضرورت کے مطابق قوت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح یہ دستانے سارا زور خود لگاتے ہیں اور پہننے والے کو تھکنے نہیں دیتے۔

بائیو سروو کا کہنا ہے کہ وہ دستانے پہننے والے کی قوت کو طویل دورانیے تک مسلسل 20 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔

کینیڈا کی سافٹ ویئر کمپنی مائی پلینٹ کے سربراہ جیسن کوٹرل نے ایگزو سکیلیٹن کے استعمال پر کئی سروے کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا نے حال ہی میں ان کے وسیع استعمال کے بارے میں سمجھنا شروع کیا ہے۔

’اس کے اثرات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ صنعتی یا زرعی شعبوں میں مشقت کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے جن کی جسمانی قوت برقرار رہ سکے اور وہ خطرات سے نمٹ سکیں۔‘

ایگزو سکیلیٹن

Getty Images

’ایسی ڈیوائس جو اس شخص کے کام میں مدد کرے گی اس سے صنعتی شعبوں میں بڑی تبدیلی واقع ہو جائے گی۔‘

کوٹرل اس کی مثال سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈیلٹا ایئر لائنز نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ پورے جسم کے لیے ایک ایگزو سکیلیٹن کی آزمائش کر رہے ہیں جسے یوٹا کی کمپنی سارکوس ربوٹکس نے بنایا ہے۔ اس طاقتور سوٹ کو ایئر لائن کے اس عملے نے آزمایا ہے جو سامان منتقل کرتا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کی مدد سے آٹھ گھنٹے میں مسلسل 90 کلو تک وزن اٹھایا جا سکتا ہے۔

کوٹرل کے مطابق ’ریستوران میں ویٹر کو ہی دیکھ لیں۔ کیا وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بازو پر ٹرے اٹھائے پھرتے ہیں؟‘

سب سے اعلیٰ درجے کے ایگزو سکیلیٹن میں مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر سافٹ ویئر استعمال کیے گئے ہوتے ہیں۔ یہ خود بخود فیصلہ کرنے اور ماحول سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں منصوعی ذہانت کی ماہر پروفیسر سینڈرا واچر کہتی ہیں کہ باڈی سوٹ کا خیر مقدم کرنا چاہیے مگر کچھ احتیاط کے ساتھ۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس پیشرفت کو طبی اور حفاظتی مقاصد کے لیے بہت کارآمد سمجھتی ہو۔ مشینوں کی مدد سے محنت طلب، خطرناک اور مشکل کاموں میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

’مثلاً ایسے ربورٹ جو چیزیں اٹھانے اور رکھنے کے دوران آپ کے کندھوں، کمر اور سر کو بچا سکتے ہیں، یہ بہت اہم ہیں۔ یہ ربورٹکس کی صنعت کے دلچسپ فوائد میں سے ایک ہیں۔‘

’مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ربوٹکس سے ملازمین کی نگرانی کا کام لیا جاتا ہے۔ کیا یہ سوٹ آپ کی حرکات جانچ رہے ہیں کہ آپ کتنا تیز کام کرتے ہیں اور کتنے وقفے لیتے ہیں؟

’کیا اس معلومات کا موازنہ دوسرے ملازمین کی معلومات سے کیا جا رہا ہے تاکہ انھیں کوئی سکور دیا جا سکے؟ تب کیا ہو گا جب آپ دوسروں کے مقابلے کم رفتار سے کام کریں گے؟ یا زیادہ وقفے لیں گے؟‘

تاہم اس وقت تک ایگزو سکیلیٹن کی ٹیکنالوجی کا عام استعمال کئی وجوہات کی بنا پر رُکا ہوا ہے جن میں بیٹری کی صلاحیت، محدود حرکات اور اس پر آنے والی لاگت کچھ اہم عوامل ہیں۔

ایسنچر کمپنی کے سپراگ کہتے ہیں کہ ’(ایک مکمل جسم کے لیے ایگزو سکیلیٹن) کی اوسطاً قیمت 45 ہزار ڈالر کے قریب ہے تاہم جب انھیں زیادہ تعداد میں بنایا جائے گا اور ٹیکنالوجی بہتر ہو جائے گی تو قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘

سوٹ ایکس کے پروفیسر کازرونی کہتے ہیں کہ قیمت میں کمی سے تفریحی مقاصد کے لیے بھی ایگزو سکیلیٹن کی فروخت شروع ہو جائے گی جو ان کے مطابق ممکنہ طور پر ایک بڑی مارکیٹ بن سکتی ہے۔

ان کی کمپنی فی الحال ایک ایسی ڈیوائس بنا رہی ہے جو پہننے والے کے گھٹنوں کے لیے آرام بخش ہو گی۔

’یہ صرف ان لوگوں کے لیے نہیں جو پیدل سفر یا چڑھائی کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی ہے جو پُرخطر کاموں کا جنون رکھتے ہیں یا ان لوگوں کے لیے جو گھٹنوں میں درد کے بغیر زیادہ چلنا یا چڑھائی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تمام عمر کے لوگوں کے لیے ہو گی اور اس سے آپ کو مدد ملے گی۔‘

تحریر کے لیے وِل سمیل نے اضافی رپورٹنگ کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19972 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp