ہماری اخلاقی حالت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر معاشرے کے افراد کے مابین ایک دوسرے کے لیے عزت و احترام، دکھ سکھ بانٹنے اور مصیبت میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ بیدار رہے تو معاشرے کی خوب صورت تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔

قرآن بھی ایک عام فرد سے اسی اخلاقی کردار کے مظاہرے کا تقاضا کرتا ہے جس کے مطابق سب انسان ایک دوسرے کو نیک عمل کی تلقین کرتے رہیں اور صبر و حکمت سے حالات کو بدلنے کی کوشش کریں۔

انسان کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے ہر دور میں انبیائے کرامؑ بھیجے جاتے رہے۔ رسول کریم ﷺ نے حسن اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : ”میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے خدا کی جانب سے بھیجا گیا ہوں۔“ ابن خلدون نے کہا ہے کہ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے، جب کہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔

افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کر گئے ہیں۔

افسوس! ہم انتہائی تنگ نظر بن گئے ہیں۔ ہم غلط چیزوں یا عمل کی اصلاح کرنے کے بہ جائے زبانی جمع خرچ کر لیتے ہیں۔ ہمارا اصلاح کا درس اپنے گھر سے شروع نہیں ہوتا، بل کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی تاک میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ معاشرے کی حالت زار پر صرف رسماً کڑھتے اور عمل میں صفر ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں کیوں کہ باقی لوگ بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم بے ایمانی کرتے ہیں کیوں کہ ایمان دار کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں ہے۔

ہم ناجائز طریقوں سے پیسہ اس لیے کما رہے ہیں کیوں کہ معاشرے میں صرف پیسے والے کی عزت ہے۔ ہر برائی کا جواز تلاش کرنا ہماری زندگی کا غالب حصہ ہے۔ ہم برائی کو بھی فیشن سمجھتے ہوئے اس لیے اپناتے ہیں کہ معاشرے کے بیشتر لوگ یہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم تعلیم شعور حاصل کرنے کے لیے نہیں بل کہ پیسہ کمانے کے لیے حاصل کرتے ہیں۔

معاشرہ اکائی سے بنتا ہے۔ ہر شخص معاشرے کا حصہ ہے۔ ہم خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہر برائی اور خرابی دوسروں میں ہے۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں میں خرابیاں اور برائیاں دیکھنے لگتا ہے۔ ہم اپنی ذمہ داریوں سے صرف نظر اور اپنی برائیوں کا جواز پیدا کرتے ہیں۔

عام فرد نے دیکھا کہ حکمران اور مقتدر طبقہ کرپشن میں ملوث ہیں تو انہیں بھی جہاں موقع ملا بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے۔ جنہیں کہیں انصاف نہیں ملتا، وہ دوسروں پر ظلم کرنے سے پیچھے نہیں رہتے۔ تیز رفتار گاڑی چلا کر لوگوں کو مار ڈالنے والے ڈرائیورز، کھلے عام رشوت لینے والا اہل کار، بدعنوان سرکاری افسران، بددیانت تاجر، ان جیسے بے شمار لوگ اپنے دائرۂ اختیار میں سب سے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *