انڈیا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے باعث آخری رسومات کے لیے طویل انتظار

کرتی دوبے - بی بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Hospital beds

REUTERS/Francis Mascarenhas

انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے سے ملک کے بہت سے شہروں میں شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں آخری رسومات کی ادائیگی میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کی فہرست میں انڈیا دوسرے نمبر پر ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے انڈیا نے برازیل کی جگہ لے لی ہے اور حکومت اس وبا کی دوسری لہر سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

دوسری وبا کی شدت کی وجہ سے اس کو ’سونامی‘ سے تشبہہ دی جا رہی ہے جبکہ ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش ختم ہو گئی ہے اور ہر روز ایک ہزار مریض ہلاک ہو رہے ہیں۔

ہم ہر روز پچاس سے ساٹھ افراد کی چتائیں جلا رہے ہیں

مہاراشٹرا جو ملک میں وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے وہاں شمشان گھاٹوں میں اتنی بڑی تعداد میں لاشیں لائی جا رہی ہیں کہ ان سب کی آخری رسومات ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

Ambulances

BBC

پونے شہر کے مردہ خانے میں کام کرنے والے ایک شخص وارن جگنام نے کہا کہ ’ابھی دن کا ایک بجا ہے اور ہم 22 لاشوں کو جلا چکے ہیں۔‘

جگنام نے مزید کہا کہ وہ ہر روز پچاس سے ساٹھ مردے جلا رہے ہیں۔ ’ہمارے پاس مردوں کو رکھنے کے لیے دو ریفریجیریٹر ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں لاشیں لائی جا رہی ہیں کہ لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کے ساتھ باہر طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی نئی ‘انڈین‘ قسم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

انڈیا: کورونا وائرس کی وبا پر قابو کیوں نہیں پا سکا؟

کووڈ-19: وہ خاتون جو انڈیا میں ’کورونا کی آواز بنی‘

انڈیا: کورونا متاثرین کے علاج میں استعمال ہوٹل میں آتشزدگی، سات ہلاک

وارن نے کہا کہ ان کی شفٹ آٹھ گھنٹے کی ہے لیکن کام اتنا زیادہ ہے کہ انھیں کئی کئی گھنٹے شفٹ کے بعد بھی کام کرنا پڑتا ہے۔

Crematorium workers

BBC
راج کوٹ میں بغیر پی پی ای کے لوگ مردوں کا کریا کرم کر رہے ہیں.

وہ ان چند ورکروں میں شامل ہیں جنہیں مردوں کی چتا جلاتے وقت احتیط کے لیے پی پی ای کٹ مہیا کی گئی ہیں۔

لیکن راجکوٹ اور گجرات جہاں کورونا وائرس کی وبا شدت اختیار کرتی جا رہی ہے وہاں سرکار کے تحت چلائے جانے والے شمشان گھاٹوں میں کام کرنے والے کارکنوں کو ماسک اور دستانوں کے بغیر کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ کبھی کبھار انھیں ایمبولینسوں کے ساتھ جاتے وقت ہسپتالوں سے دستانے مہیا کر دیے جاتے ہیں لیکن اکثر ان کے پاس احتیاط کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ملک کے کئی بڑے شہروں میں لاشوں کو جلائے جانے اور دفنانے کی جو تعداد سامنے آ رہی ہے وہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی سرکاری طور پر بتائی جانے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں ایک شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلائے جانے کے لیے گیس اور لکڑیاں اتنی دیر تک جلائی گئیں کہ لوہے کے پرزے بھی پگھلنے لگے۔

رشتہ داروں کی لاشوں کے لایے بارہ گھنٹے کا انتظار

صرف شمشان گھٹاوں اور قبرستانوں ہی میں کام کرنے والے مایوسی اور بے بسی محسوس نہیں کر رہے۔

Crematorium workers

Getty Images

اپنے بیمار عزیزوں کو ہسپتال میں داخل کرانے کے لیے ایک ہستپال سے دوسرے ہسپتال کے چکر لگانے کے بعد لوگوں کو ان کی موت کی صورت میں آخری رسومات ادا کرنے کے لیے بھی طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

کچھ ہسپتال دانستہ طور پر لاشیں لوگوں کے ورثہ کے حوالے کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ شمشان گھاٹوں پر ایک ساتھ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

گجرات کی ریاست سے تعلق رکھنے والے ہیمنت یادو کا کہنا ہے کہ انھیں ایک ہپستال سے اپنے بھائی کی لاش لینے میں 12 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

ہیمنت کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے بھائی سے فون پر بات کی تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ صحت یاب ہو رہے ہوں۔ ’ہم نے سوچا کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر گھر لوٹ آئیں گے لیکن پھر ہمیں ہسپتال سے فون آیا کہ وہ مر گئے ہیں۔‘

لوگوں کو مردہ خانوں کے باہر قطاروں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور انھیں ٹوکن نمبر جاری کیے جا رہے ہیں۔

شکتی لال ترویدی جنہوں نے حال ہی میں اپنے ایک عزیر کا کریا کرم کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ ٹوکن جاری ہونے کے بعد بھی مردہ خانے سے اپنے عزیز کی لاش لینے میں انھیں چھ گھنٹے لگے۔

صورت حال انتی خراب کیوں ہے؟

اپریل سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی دوسری لہر سے انڈیا ہل کر رہ گیا ہے۔

Ambulances

EPA/RAJAT GUPTA

انڈیا میں پندرہ اپریل کے بعد سے وائرس کے روزانہ دو لاکھ سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں جو کہ پہلی لہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ پہلی لہر کے دوران اس مرض کا شکار ہونے والوں کی روزانہ تعداد زیادہ سے زیادہ 93000 تک پہنچی تھی۔

دہلی، ممبئی، لکھنؤ اور احمد آباد جیسے شہروں میں ہسپتالوں میں نئے مریضوں کو داخلہ دینے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ دیگر بہت سی ریاستوں سے بھی کووڈ وارڈز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش باقی نہ رہنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

کورونا کے ٹیسٹ کی رپورٹس ملنے میں بھی تاخیر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریضوں کا وقت پر تشخیص نہیں ہو رہی اور اس سے ان کے علاج میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کی حکومت نے دوسری لہر سے متعلق خدشات کو نظر انداز کیا اور اس کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔

دوسری لہر کی شدت کی وجہ ماہرین کے مطابق ملک میں ہونے والے کرکٹ میچوں میں ماسک پہنے بغیر بڑی تعداد میں شائقین کی شرکت، بڑے بڑے انتخابی جلسے اور ہندوؤں کا سالانہ کمبھ میلا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp