آزاد صحافت کے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایوب دور گزرے پچاس سال ہو گئے اور پچاس سال بیت جانے کے بعد بھی ہم آج عہد ایوبی کے دور میں سانس لے رہے ہیں۔ اظہار پر کڑی پابندیاں ہیں۔ کوئی سر پھرا بھڑاس نکالنے کے لیے اظہار کر دے تو اس کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ بات یہاں نہیں رکتی بلکہ گولیاں ماری جا رہی ہیں۔

اخبار نویس کے ہاتھ میں تو صرف قلم ہوتا ہے، توپ و تفنگ نہیں، پھر میڈیا پر کڑا سنسر کیوں؟ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے مارشل لا نافذ کیا تو ساتھ ہی اخبارات پر سنسر لگ گیا۔ ’افواہیں پھیلانا بھی جرم قرار دیا گیا۔ مارشل لا لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے ہاں آئی اور آتے ہی بولی، اب کیا ہوگا؟‘

’کس بات کا؟ میں نے وضاحت طلب کی۔‘ عینی بولی: ’اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر گفتگو کرنا بھی جرم ٹھہرا۔‘ ہاں، میں نے کہا: ’گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ سازی کے زمرے میں آ کر گردن زدنی قرار دی جا سکتی ہے۔‘

عینی بڑے کرب سے بولی: ’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟‘ میں نے مارشل لا کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے بولی: ’ارے بھئی! روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو عجیب نعمت ہے۔‘

حکمران دودھ کے دھلے نہیں ہوتے اور نہ عقل کل ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ باشعور ملک کے حکمرانوں کی غلطیوں پر اخبار نویس تنقید کرتے ہیں تو وہ اپنی اصلاح کر کے آگے بڑھتے ہیں مگر ہمارے ہاں معاملہ بالکل الٹ ہے۔ تنقید کرنے والے کو سبق سکھایا جاتا ہے تر دماغوں کی سوچ ختم کرنے کے لیے گولیاں ماری جاتی ہیں حکمرانوں کے نزدیک اچھا اخبار نویس وہ ہے جو ان کے جائز اور ناجائز کاموں پر تحسین کی ڈونگرے برسائے۔ بات صرف اخبار نویسوں تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ شخص ”طاقتور حلقوں“ کی نظر میں راندہ درگاہ ہو جاتا ہے جو ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرے اور انھیں اصلاح پر زور دے۔

دسمبر دو ہزار سترہ کی بات ہے جنرل باجوہ پارلیمان کو سیکیورٹی معاملات پر بریفنگ دینے کے لیے ایوان بالا جاتے ہیں۔ پارلیمنٹرین ایوان میں اپنے تحفظات و خدشات کا تقاریر کے ذریعے اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو وزرات اعظمی سمیت پارٹی کے بھی تمام عہدوں سے فارغ کر کے ہمیشہ کے لیے نا اہل کر دیا جاتا ہے ان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں۔ کلثوم نواز مرحومہ نواز لیگ کی امیدوار ہوتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں تحریک لبیک پاکستان اور جماعت الدعوة کا امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لیتا ہے۔

ایوان بالا میں نون لیگ کے سینئیر رہنما و سابق وزیراطلاعات پرویز رشید تقریر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر جنرل صاحب آپ نے بٹھایا ہے جس کی وجہ سے حکومت اور لوگوں کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ لاہور کے ضمنی انتخابات میں بھی ان جماعتوں کے امیدواران کو کھڑا کیا گیا جس کے ذمہ دار بھی آپ لوگ ہیں۔ جنرل باجوہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں جس پر پرویز رشید نے جواب دیا آپ انھیں فوج میں بھرتی کر لیں اس کے بعد ایوان بالا میں ماحول تلخ ہو گیا۔ پرویز رشید نے تین سال قبل جو کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ طاقتور حلقے جمہوریت کے حق میں اٹھنے والی توانا آواز پر لبیک کہتے مگر انھوں نے پرویز رشید کو سبق سکھانے کا اعادہ کیا اور سینیٹ انتخابات میں انھیں نکال باہر کیا۔

کراچی میں حامد میر پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی قدرت نے انھیں زندگی سے نوازا۔ بزرگ دانشور عرفان صدیقی کو رات گئے ان کے گھر سے اٹھایا گیا جیسے وہ اس ملک کے شہری نہیں بلکہ ان کا تعلق دشمن ملک سے ہو۔ تین روز قبل پیمرا کے سابق چیئرمین اور معروف صحافی ابصار عالم گھر کے باہر نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

بات ہو رہی تھی عہد ایوبی کی تو شہاب آگے چل کر لکھتے ہیں کہ قرۃ العین باغیانہ خیالات کی لڑکی نہیں تھیں اور نہ ان کے قلم کی روشنائی میں تخریب پسندی، فحاشی، تلخی اور بے راہ روی کی کالک تھی۔ ’میرے صنم خانے‘ کی مصنفہ زندگی کی چلبلاہٹوں، ہلکی پھلکی رنگینیوں، رعنائیوں، ثقافتی تصادموں، سماجی بوکھلاہٹوں اور دل و دماغ کی فسوں کاریوں میں کچھ حقیقی اور کچھ رومانوی رنگ بھرنے کی ملکہ تھی۔ لیکن سنسرشپ کے تخیل سے اسے شدید ذہنی جھٹکا لگا۔ اس جھٹکے کے ردعمل نے اس کے قلم کی باگ کا رخ ’آگ کا دریا‘ کی طرف موڑ دیا۔

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ’جب مجھے سیکرٹری اطلاعات بنایا گیا تو صدر سے لے کر وزیروں تک اور گورنروں سے لے کر چیدہ چیدہ ممبران اسمبلی تک چہار طرف سے فرمائشوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ کسی کو گلہ ہوتا اس کی تصویر نہیں چھپی، کوئی کہتا کہ فلاں تنقید غلط ہے اور حکومت کا وقار گرانے کے لیے اچھالی جا رہی ہے۔ عام مخلوق خدا کی طرح کچھ وزیر بیمار پڑے رہتے تھے ان کی بیماری کی خبر چپھتی تو وہ اسے شرانگیزی قرار دے کر اخبار نویس کو سبق سکھانے کا عہد کرتے۔‘

ہم آج بھی عہد ایوبی کے دور میں جی رہے ہیں۔ ہم ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور دس قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ حالات اس وقت درست ہوں گے جب ہماری نیت درست ہو گی۔ سیاست دان تو تحمل سے مخالف کی بات سنتا ہے اور پھر ڈائیلاگ کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالتا ہے۔ عمرانی کابینہ میں وزراء کی زبانیں شعلے برسا رہی ہوتی ہیں۔ بردباری نام کی چیز ان کے قریب سے کبھی نہیں گزری۔ وزراء تو وزراء رہے ہمارے امام الوزراء عمران خان خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ ان کی تقریروں کا آغاز ”میں“ سے شروع ہوتا ہے اور ”میں“ پر ختم ہوتا ہے۔ ملک درست سمت میں اسی صورت سفر کرنا شروع کرے گا جب ”میں“ ”ہم“ میں تبدیل ہو گی بصورت دیگر ہم اسی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 142 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments