از کشمیر بنام وزیراعظم پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان صاحب السلام علیکم!
نمائندہ عوام پاکستان جناب وزیر اعظم پاکستان!

آپ سے ایک عام کشمیری مخاطب ہے، وہ کشمیری جس کی کہیں بھی شنید نہیں ہوتی۔ جس کے بہت سے دکھ درد اور قرب ہیں۔ میں آپ کو پاکستان کی عوام کا نمائندہ سمجھتے ہوئے مخاطب ہوں، آپ پچھلے ستر سالوں سے خود کو کشمیر کا وکیل اور ہمارے بنیادی حق یعنی حق خود ارادیت کا سب سے بڑا حامی کہلواتے رہے ہیں۔

جناب وزیراعظم!

میں سمجھتا تھا کہ پاکستان کے عوام اور ان کی نمائندہ حکومتیں قومی غلامی کا دکھ زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں، اس لیے کہ آپ نے خود انگریز سامراج سے آزادی حاصل کی ہے۔ آج ہم ویسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں جس سے برصغیر کے انسان 1947ء سے قبل گزرے ہیں۔ آج اپنے اس خط کے ذریعے آپ کو اور آپ کے ذریعے پاکستان کی عوام کو اپنے دکھوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

آج جب آپ دنیا میں کہیں جاتے ہیں تو فخر سے پاکستانی کہلوا کر اپنا تعارف کرواتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کا ہر باشندہ اپنی قومی شناخت فخر سے بتاتا ہے لیکن میں کیا بتاؤں؟

دنیا کے سب سے آسان سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا، ہماری نسلیں اس کنفیوژن کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔

جناب وزیراعظم!

ہمارا ایک خطہ تو آگ اور خون میں لت پت ہے جبکہ دوسرا تعلیم، روزگار، علاج اور بنیادی ضروریات سے محروم پتھروں کے دور میں گزر بسر کر رہا ہے۔ یہاں برائے نام سی حکومت بھی ہوتی ہے جو شاید دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے، یہ ایسی حکومت ہے جس کے پاس تنخواہیں وصول کرنے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں ہوتا، جس کو دنیا میں کہیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔

اصولاً یہ خط آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو لکھنا چاہیے مگر آزاد کشمیر کی 73 سالہ تاریخ یہی بتا رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی ڈوریں کبھی رائیونڈ سے تو کبھی لاڑکانہ سے کھینچی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں ان سے شکوہ بھی کیا کیا جائے اور انہیں احساس ذمہ داری بھی کیا دلوائی جائے۔

جناب وزیراعظم!

ریاست جموں و کشمیر کا یہ حصہ جو 5 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے ، اسے 1947ء میں آزادی کا بیس کیمپ کہا گیا اور تب سے آج تک آزادی کا نام صرف سرکاری سطح پر کشمیر کے ساتھ لکھ دیا گیا۔

کسی بھی ریاست کی بنیاد چار ستونوں پر ہوتی ہے اور آزاد کشمیر چاروں شانے چت ہے۔

پہلے نمبر پر عدلیہ ہے مگر یہاں عدلیہ مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں غریب ہی پھنستے ہیں جبکہ امیر اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر مقننہ ہے، جس کے پاس بہت سے اختیارات ہیں جن کو بروئے کار لا کر قانون سازی کرتے ہیں مگر یہاں کے ایوان میں ایسے چہرے پیچھلے تیس تیس سالوں سے قابض ہیں جنہیں مقننہ کے اختیارات کا ہی نہیں پتا۔ ایوان میں بیٹھنے والے جن کا کام قانون سازی کرنا ہے ، وہ آج تک برادری ازم کی سیاست اور اپنوں کو نوازنا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

تیسرا ستون انتظامیہ ہے جو محض سیاسی لوگوں کی سہولت کار ہے۔ انتظامیہ نے رشوت اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

چوتھا ستون صحافت کو سمجھا جاتا ہے مگر افسوس ریاست کا سرکاری ٹی وی چینل برائے نام ہے۔

جناب وزیراعظم!یہ ہے ریاست کے ستونوں کا حال ، اب اگر ریاست کی ذمہ داریوں کی بات کی جائے تو انصاف، صحت اور تعلیم بنیادی اور اولین ذمہ داریاں ہیں مگر ایک عام شہری کو کیا حاصل ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔

ریاست میں صحت کی یہ حالت ہے کہ انٹرنیشنل لیول تو دور نیشنل لیول کا ہسپتال بھی موجود نہیں۔ عام شہری کے ٹیکس سے چلنے والی حکومت کے تنخواہ دار ڈاکٹر محض یہ بات لکھنے کے پیسے لے رہے ہیں کہ اس مریض کو اسلام آباد کسی ہسپتال میں لے جائیں۔

جناب وزیراعظم! ریاست میں شرح خواندگی تسلی بخش ہے مگر تعلیمی کمزوروں کو دور کرنے کا کوئی بندوبست نہیں، سرکاری سکولز تباہ حال ہیں اور پرائیویٹ سکولز اپنی من مانی کرتے ہیں۔ ایک ہی کلاس میں متعدد سلیبس پڑھائے جاتے ہیں اور سب سے بڑی محرومی یہ کہ کشمیر کی تاریخ و مطالعہ سے بچوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ نصاب میں کشمیر کی تاریخ شامل ہی نہیں کی گئی بلکہ مطالعہ پاکستان کو لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جا رہا ہے۔

جناب وزیراعظم! آزادی کے بیس کیمپ میں بیٹھنے والے یہ سیاسی لوگ آزادی تو دور لوگوں کو بنیادی سہولیات تک نہیں دے سکتے۔ آپ کو شکایت درج کروانے کا مقصد یہ ہے کہ اس بار پھر سے اقتدار کی منڈی لگنے لگی ہے۔ اس بار پھر سے کوئی ہم پر پانچ برسوں کے لیے مسلط ہو جائے گا، مگر عوام اقتدار کی تبدیلی نہیں حقیقی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن سسٹم کو بہتر کیا جائے، الیکشن لڑنے کی اہلیت میں یہ شق شامل ہے جو الحاق پاکستان کا حامی ہے وہی الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ مگر کشمیر کے ایوان میں پہنچے کے لیے کشمیر سے مخلص ہونے کی شق کیوں نہیں شامل؟

الحاق پاکستان کی شق کو ختم کیا جائے کیونکہ اس سے کشمیریوں کا حق، حق خود ارادیت چھینا جا رہا ہے۔

جناب وزیراعظم!آپ خود کو کشمیر کا وکیل، کشمیر کا سفیر کہتے ہیں اور مختلف فورمز پر کشمیریوں کی آواز بھی بلند کی ہے۔ کیا یہ کافی ہے؟ 73 سالوں سے کشمیری آزادی کے منتظر ہیں۔ 5 فروری 2021ء کوٹلی میں کھڑے ہو کر آپ نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں گے۔ ہم ان کے فیصلے کا احترام کریں گے، کشمیری اپنا فیصلہ خود کریں گے مگر زمینی حقائق مختلف ہیں۔

کشمیر کے وہ فرزند جو کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتے ہیں، جو ہر کشمیری کو اس کا حق، حق خود ارادیت دلوانا چاہتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ مودی کے چنگل سے کشمیر کو نکال کر پھر ان کی مرضی کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کو تو قید و بند  سے نوازا جاتا ہے، ان پر مختلف مقدمات بنا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انہیں الیکشن لڑنے سے روکا جاتا ہے، انہیں آزادی کی بات کرنے پر خاموش کروایا جاتا ہے۔

جناب وزیراعظم! زمینی حقائق مختلف ہیں ، جس کشمیر کی آزادی کی بات آپ نے کی اور پھر انہیں یہ حق دینے کا وعدہ کیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اسی کشمیر کے ایک حصے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا گیا، اسی کشمیر کو نقشے پر پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا۔ تو پھر ایک عام کشمیری کا سوال تو بنتا ہے ناں کہ تقریری اور زمینی حقائق مختلف کیوں ہیں؟

جناب وزیراعظم! میرے وطن کی مٹی شہداء کے خون سے رنگی جا چکی ہے۔ 5 اگست 2019ء سے اب تک کتنی ماؤں نے اپنی جوان اولاد لٹا دی، کتنی بہنوں نے اپنی عصمت لٹنے کے بعد موت کو گلے لگایا، کتنے ہی باپ ایسے ہیں جن کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا گیا، کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنی ہی عورتیں بیوہ ہوئی۔ ایک عام کشمیری اس کا خون کس کے ہاتھ تلاش کرے؟

جناب وزیراعظم!

اگر آپ کشمیر کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان میں کشمیر کا سفارت خانہ کھولا جائے۔ کشمیریوں کو اپنا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر خود لڑنے دیا جائے۔ او آئی سی (OIC) میں کشمیریوں کو نمائندگی دلوائی جائے۔ کشمیر کمیٹی کو وزارت خارجہ کے ساتھ منسلک کر کے آزاد کشمیر سے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا جائے، اس کے لیے آئینی ترمیم کی جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کو آزادکشمیر کے نمائندے کے ذریعے اجاگر بھی کیا جا سکے اور دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کے خطے کو کتنی آزادی حاصل ہے۔

آزاد کشمیر کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی پولیس فورس میں سے آزاد کشمیر میں آئی جی کی تعیناتی عمل میں لائے۔ جب آزاد کشمیر پاکستان کا صوبہ نہیں تو آئی جی کی تعیناتی بھی احسن قدم نہیں۔

آزاد کشمیر کی وزارت امور کشمیر کو ختم کیا جائے تاکہ کشمیر کے معاملات کشمیر کونسل کے ذریعے حل کریں۔ آزاد کشمیر کی اپنی حکومت جس میں صدر، وزیراعظم اور سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کا سیٹ اپ موجود ہے ، اس کو پاکستان کا ایک وزیر ڈیل کرے۔ یہ انتہائی غیر مناسب ہے۔

گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر کی طرح کا سٹیٹس دیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کو آپ خود بھی تسلیم کریں اور اپنے دوست ممالک سے تسلیم کروائیں۔

کشمیر کے لیے وہ کیا جائے کہ تاریخ آپ کو یاد رکھے ورنہ کتنے ہی وزیراعظم اس منصب کے بعد بے نام ہو چکے ہیں۔

میں لکھتے وقت انجام کا سوچ کر اپنے قلم کو سزائے موت دینے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے وطن میں سچ لکھنا اگر جرم ہے تو مجھے یہ جرم دل و جان سے قبول ہے، میرا قلم، میرا سر سب حاضر ہیں۔ میرے سستے لہو کے کچھ قطرے اس مٹی کو سیراب کر سکیں تو میرے لیے اس سے بڑی اعزاز کی بات کیا ہو سکتی ہے۔ پھر چاہے مجھے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے یا پھر سولی چڑھا دیا جائے۔

ایک عام کشمیری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *