احمد مسعود: افغان مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا والد کی طرح طالبان سے مقابلے کے لیے تیار

بی بی سی - مانیٹرنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسے وقت پر جب امریکی افواج بالآخر افغانستان سے نکل رہی ہیں، شمالی اتحاد کے مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود افغانستان میں بہت سے لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

احمد مسعود نے اپنے حالیہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کو روکنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔

ان کے والد احمد شاہ مسعود کو نائن الیون کے واقعے سے صرف دو روز پہلے القاعدہ نے ہلاک کر دیا تھا۔ افغانستان میں احمد شاہ مسعود کو سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

برطانیہ سے تعلیم یافتہ 31 برس کے احمد مسعود اکثر ٹی وی پروگراموں میں قومی مصالحت پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

احمد مسعود کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سیاسی نظام میں مرکزیت کے خاتمے کے لیے اصلاحات، معتدل اسلام اور عبوری حکومت کی ضرورت ہے۔

احمد مسعود کو ملک کی تاجک آبادی میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انھیں ایک پختہ کار اور طلسماتی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے جو اپنے والد کے حامیوں کو ایک بار پھر متحد کر سکے ہیں۔

احمد مسعود چند برس پہلے ہی سیاسی میدان میں اترے ہیں اور اکثر ملکی اور غیر ملکی لیڈروں سے ملتے نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔

حال ہی میں ان کی ملاقات فرانس کے صدر ایمیونیل میخواں اور پیرس کے میئر سے بھی ہوئی ہے۔

احمد مسعود سنہ 1989 میں پیدا ہوئے اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ انھوں نے سنہ 1997 سے 2009 تک تاجکستان اور ایران میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ان کے خاندان کے کچھ افراد مصر منتقل ہو گئے جہاں وہ اب بھی رہائش پذیر ہیں۔

احمد مسعود نے پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر برطانیہ کا رخ کیا۔ انھوں نے 2010-2011 میں برطانیہ کی سینڈہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی اور بعد میں کنگز کالج لندن سے وار سٹڈیز میں ڈگری حاصل کی۔ احمد مسعود نے لندن کی سٹی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل پالیٹکس میں ماسٹر کیا۔

احمد مسعود کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں قیام امن کے لیے پچھلی باتوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں افغانستان نے گذشتہ دو عشروں میں الیکشن، جمہوریت اور معتدل اسلام کے بارے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔

تولو نیوز ٹی وی کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں احمد مسعود نے کہا :’اگر امن کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو ہم نے اپنے آپ کو تیار کیا ہوا ہے اور مزید کر رہے ہیں۔‘

ان کے اس انٹرویو کو افغانستان میں بہت پسند کیا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

حال ہی فرانسیی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اپنی تیاری کا ذکر کیا تھا۔

احمد مسعود نے کہا: ’اگر وہ (طالبان) سمجھتے ہیں کہ اب احمد شاہ مسعود یا ناردرن الائنس موجود نہیں تو احمد مسعود موجود ہے اور لوگ پہلے ہی اپنے آپ کو مسلح کر رہے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں۔‘

احمد مسعود نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی نظام سے مرکزیت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے صدر شمالی کوریا کے صدر سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔

تحزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

افغانستان کے ایک نمایاں سیاسی تجزیہ کار یعقوب یسنا نے کہا کہ میں نے ابھی تک کوئی ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جو قومی اہمیت کے معاملات کے بارے میں اتنی واضح سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔

’اگر ہمارے سیاسی اور نسلی رہنما چھوٹی چھوٹی سیاسی رشوتوں کے بدلے اس موجودہ سیاسی نظام کو قبول نہ کریں تو ملک کا سیاسی نظآم تبدیل ہو جائے گا۔‘

سیاسی تجزیہ کار احمد سعیدی نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ احمد مسعود کی صلاحیتیں امید کا ذریعہ ہیں اور وہ زندگی کی حقیقتوں سے چھپنے کے بجائے ان کو سامنے لاتے ہیں۔

البتہ افغانستان کی حکومت کے حامی اخبار ڈیلی افغانستان کا کہنا ہے کہ احمد مسعود کے پاس چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کی کمی ہے اور ان کے پاس والد کی ساکھ کے علاوہ کچھ نہیں۔

احمد مسعود جیسے نوجوان رہنما طالبان کے خلاف دوسری مزاحمت کی امید دلاتے ہیں لیکن اس نسل کی کامیابیوں کا تعین تو تاریخ ہی کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp