کووڈ 19: سونگھنے کی حس کھونے والوں کو 'سونگھنے کی ٹریننگ' کا مشورہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کووڈ

Getty Images

کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے بعد سامنے آنے والے مضر اثرات پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سونگھنے کی حس واپس لانے کے لیے ‘سونگھنے کی ٹریننگ’ کروائی جائے اور اس دوران سٹیرائڈز کا استعمال نہ کیے جائیں۔

یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کے دوران متاثرہ شخص کو متعدد ماہ تک مختلف اشیا کی مہک سونگھائی جاتی ہیں تاکہ اس کے دماغ کو دوبارہ ان کی مہک کو پہچاننے سے متعلق ٹریننگ دی جا سکے۔

بین الاقوامی ماہرین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ سونگھنے کی ٹریننگ کرنا انتہائی سستا اور آسان عمل ہے۔

اور سٹیرائڈز کے برعکس یہ کسی بھی قسم کے مضر اثرات سے بھی پاک ہے۔

سونگھنے کی حس کا ختم ہو جانا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی ایک اہم علامت ہے۔ اس کے علاوہ سامنے آنے والی علامات میں بخار اور مسلسل کھانسی شامل ہیں۔

زیادہ تر کیسز میں سونگھنے کی حس کی بحالی مرض سے صحتیابی کے فوراً بعد ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مسلمان روزے کی حالت میں بھی کورونا ویکسین لگوا سکتے ہیں‘

سپتنک وی: روس کی کووڈ ویکسین یورپ میں تقسیم کا باعث کیوں بن رہی ہے؟

کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

تاہم ہر پانچ میں سے ایک شخص نے رپورٹ کیا ہے کہ انھیں بیمار ہونے کے آٹھ ہفتے بعد بھی مسائل کا سامنا رہا۔

ایک طریقہ علاج جو ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کیا جا رہا ہے وہ ‘کورٹیکوسٹیرائڈز’ ہیں جو جسم میں انفیکشن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور یہ دمے کے عارضے کے علاج کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

تاہم پروفیسر کارل فلپوٹ جو یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا ناروچ میڈیکل سکول سے تعلق رکھتے اور اس حوالے سے تحقیق بھی کر رہے ہیں بتاتے ہیں کہ اس حوالے سے بہت کم شواہد ملے ہیں کہ ‘کورٹیکوسٹیرائڈز’ سونگھنے کی صلاحیت میں واپس لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘اور کیونکہ ان کی جانے مانے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں اس لیے ہمارا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں وائرس سے متاثر ہونے کے بعد علاج کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔’

کووڈ

Getty Images

‘خوش قسمتی سے زیادہ تر لوگ جنھوں نے کووڈ کی وجہ سے سونگھنے کی حس کھوئی وہ اسے صحتیابی کے فوراً بعد پا لیں گے۔’

ان سٹیرائڈز کے مضر اثرات میں سیال کا جمع ہونا، بلند فشار خون اور رویے میں تبدیلی شامل ہے۔

تاہم حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین ‘سونگھنے کی ٹریننگ’ کو زیادہ مفید قرار دیتے ہیں۔

اس ٹریننگ کے دوران ایسی چار اشیا کی مہک سونگھی جاتی ہے جن کی مہک کی آسانی سے شناخت ہو سکے، وہ جانی پہچانی ہو اور مختلف بھی ہو۔ مثال کے طور پر کینو، پودینہ، لہسن یا کافی۔ ایسا دن میں دومرتبہ متعدد ماہ تک کرنا ہو گا۔

پروفیسر فلپاٹ کا کہنا ہے کہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ 90 فیصد افراد چھ ماہ بعد اپنی سونگھنے کی حس بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اگر یہ بحال نہ ہو تو سونگھنےکی ٹریننگ سے دماغ کی مشق کروائی جاتی ہے تاکہ وہ مختلف خوشبوئوں کی شناخت کے قابل ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ نیوروپلاسسٹی کے ذریعے بحالی کی ایک تکنیک ہے جو دماغ ایک تبدیلی یا انجری کے بعد تنظیم نو کا موقع دیتا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18888 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp