رمضان: ملیے اُن غیر مسلم افراد سے جو اس مہینے میں مسلمانوں کی طرح روزے رکھتے ہیں

سروج پتھیرانا - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سری لنکا، مسلمان، رمضان

Handout
نیڈائن پار (دائیں) اپنی بہترین دوست ثریا دین کے ساتھ جنھوں نے اُنھیں رمضان میں ساتھ روزہ رکھنے کی ترغیب دی

سری لنکا میں مرکزی اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والے نوجوان سیاستدان ریہان جے وکرمے نے 13 اپریل کو ایک حیران کُن اعلان کیا۔

اُنھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میں بدھسٹ ہوں اور بودھ فلسفہ حیات کے مطابق زندگی گزارنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں۔‘

’ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں رمضان کے مقدس مہینے میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ روزے رکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوگا سو میری خوش قسمتی کے لیے دعا کریں۔‘

وہ سری لنکا کے جنوبی شہر ویلی گاما کی اربن کونسل کے چیئرمین ہیں اور جب سے 14 اپریل کو رمضان شروع ہوا ہے، تب سے وہ دن کے اوقات میں کھانے اور پینے سے پرہیز کر رہے ہیں۔

اس سال غیر معمولی اتفاق یہ ہوا ہے کہ اکثریتی طور پر بدھسٹ ملک سری لنکا میں مسلمانوں نے ماہِ رمضان کا آغاز اسی دن کیا جب سنہالا اور تمل برادریوں نے اپنے نئے سال کا آغاز کیا۔

مگر سری لنکا کے کثیر المذہبی معاشرے کو تقریباً دو سال پہلے اُس وقت جھٹکا لگا جب اسلامی عسکریت پسندوں نے ایسٹر کی تقریبات کے دوران گرجا گھروں پر خود کش حملے کیے جس میں 270 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

بدھسٹ سیاستدان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ماہ طویل اسلامی روایت میں شمولیت کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ اُن حملوں کے بعد پیدا ہونے والے مسلمان مخالف جذبات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ریحان جے وکرمے کو ٹوئٹر پر متعدد لوگوں نے سراہا اور ان کے اقدام کی حمایت کی مگر اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر مسلم ہوتے ہوئے رمضان منانا صرف اُن کا ہی خاصہ نہیں ہے۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں مقیم صحافی میری این ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ وہ بھی کافی عرصے سے ایسا کر رہی ہیں۔

’میں کیتھولک ہوں اور رمضان میں روزے رکھتی ہوں۔ اس سے ذہن صاف ہوتا ہے، شعور، رحمدلی اور نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ گڈ لک!‘

سری لنکن وزیرِ اعظم کے دفتر میں ڈائریکٹر جنرل (بین الاقوامی اُمور) انورادھا کے ہیراتھ نے کہا کہ وہ بھی ایک مرتبہ رمضان کے روزے رکھ چکی ہیں۔

اُنھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مجھے یاد ہے کہ میں نے بھی بہت عرصہ پہلے موراتوا یونیورسٹی میں ہوتے ہوئے یہ کیا تھا۔ میرے دوست @sifaan مجھے صبح کھانے کے لیے جلدی اٹھایا کرتے تھے اور پھر دوپہر میں لیکچرز کے دوران کھانے کو دیا کرتے تاکہ میں روزہ ختم کروں۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کا یہ تجربہ کافی اچھا رہے گا۔‘

نسل پرستی کے خلاف

ریحان جے وکرمے کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ فیصلہ ہمارے ملک کے چند رہنماؤں کی جانب سے پھیلائی گئی نسل پرستی کے خلاف احتجاجاً کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں بلکہ یہ نسل پرستی کے خلاف احتجاج ہے۔‘

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسٹر سنڈے حملوں کے بعد سے سری لنکا کی اقلیتی مسلم برادری کو نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سری لنکا کی تقریباً 70 فیصد آبادی بدھسٹ ہے۔ باقی آبادی ہندوؤں، مسلمانوں اور کیتھولک مسیحیوں پر مشتمل ہے۔

’جب میں مسلمان لوگوں کو یہ دکھاتا ہوں کہ بطور اکثریت ہم اُن کا خیال کرتے ہیں، تو میں اُنھیں ایک احساسِ مقصد، ایک احساسِ تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ میں اُنھیں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ہم اُن کا خیال کرتے ہیں۔‘

ریحان کے چند ناقدین نے ان پر مسلمان ووٹوں کے پیچھے بھاگنے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے جواب میں اُنھوں نے اپنے ایک حامی کی جانب سے ٹوئٹر پر کیے گئے تبصرے کا تذکرہ کیا: ’مذہبی ہم آہنگی پھیلا کر ووٹ حاصل کرنا مذہبی منافرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔‘

سری لنکا، مسلمان، رمضان

Handout
صحافی میری این ڈیوڈ ایک کیتھولک مسیحی ہیں مگر 15 سال سے زیادہ عرصے سے رمضان کے روزے رکھ رہی ہیں

میری این ڈیوڈ کیتھولک ہیں اور گذشتہ 15 برس سے بھی زیادہ عرصے سے ماہِ رمضان منا رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذات کو دوبارہ مرکز پر لانے کے لیے اور حقیقی چیزوں پر غور کرنے کے لیے یہ وقت استعمال کرتی ہیں۔

’روزہ رکھنا اس مسلسل سوچ کو کافی حد تک ختم کرنا ہے کہ کیا کھانا ہے، اس سے آپ بار بار بلاوجہ کھانے کے بارے میں سوچ کر اپنی توجہ نہیں کھوتے کیونکہ آپ کا دل چاہ رہا ہوتا ہے یا آپ سست ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سے دن میں مزید نظم و ضبط اور ترتیب پیدا ہوتی ہے۔‘

اُن کا خیال ہے کہ روزہ رکھنے سے اُن کی توجہ بہتر ہوتی ہے اور وہ صحتمند محسوس کرتی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’دن کے وقت روزہ رکھنا اُن لوگوں کے لیے کوئی بہت بڑی قربانی نہیں ہے جن کے پاس زندگی کی دوسری مراعات اور ملازمتیں پہلے ہی موجود ہیں۔‘

’یہ اُن لوگوں کے لیے مشکل ہے جو مزدوری کرتے ہیں، یا اس گرمی میں باہر کام کرتے ہیں، یا اُن لوگوں کے لیے جن کے پاس اس وقت کھانے کے لیے اچھا اور صحتمند کھانا نہیں ہے۔‘

اُن کے نزدیک رمضان کا ایک اہم پہلو اُن لوگوں کے بارے میں سوچنا ہے جو سری لنکا میں آسانی سے غذا حاصل نہیں کر سکتے۔

اُن کا اصرار ہے کہ ’دینا‘ اہم ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ کھانے سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو دوسروں کو عطیہ دیا جائے، مجبوروں کو کھلایا جائے اور اُن کی ضروریات پوری کی جائیں تاکہ وہ بھی روزہ رکھ سکیں۔‘

سری لنکا، مسلمان، رمضان

Handout
میری این کی افطار، جس میں سرخ چاول، روٹی، بیف قیمہ، سلاد، شربت، کھجوریں اور پانی ہوتا ہے

اتحاد اور اظہارِ یکجہتی

دنیا کی دوسری جانب امریکہ میں ایک اور غیر مسلم نیڈائن پار ہیں جو رمضان کا اہتمام کرتی ہیں۔ وہ مسیحی ہیں اور اُنھیں اُن کی ایک دوست مسلمان خاتون نے رمضان سے متعارف کروایا تھا۔

’یہ میرے پیارے دوستوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ جب میں رمضان میں روزے رکھتی ہوں تو پیغمبر عیسیٰ کی پیروکار ہونے کے طور پر یہ اپنے مذہبی عقیدے کی پاسداری بھی ہے۔‘

نیڈائن ایک مصنفہ، کاروباری تربیت کار اور ٹیچر ہیں۔ وہ ریاست مشیگن کے شہر گرینڈ ریپڈز سے تعلق رکھتی ہیں۔

’اب کافی عرصہ ہوگیا ہے مگر تقریباً سات سالوں سے پانی کی پابندی کو چھوڑ کر میں نے رمضان کے روزوں کی روایتی پابندیوں کی پاسداری کی ہے۔ میں صبح سورج نکلنے سے پہلے ناشتہ کرتی ہوں اور سورج غروب ہونے تک ہر طرح کے کھانے سے اجتناب کرتی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’برادری کا احساس اور مختلف ثقافتوں اور مذہبی عقائد کے حامل دوستوں کے ساتھ تعلقات کی استواری اس مشترکہ سفر میں میرا سب سے پسندیدہ حصہ ہے۔‘

اور سب سے اہم چیز انسانیت ہے۔ ایک پورے ماہ کے لیے کھانے سے اجتناب کرنا تاکہ خود کو پابند کرنے کے ایک جسمانی اقدام سے کوئی روحانی سچ آشکار ہوجائے ہم سب کو یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ ہم اپس میں کتنے جُڑے ہوئے ہیں۔ مجھے اس سے خوشی ملتی ہے۔‘

مل جل کر رہنے کا وقت

سری لنکا کی جانب واپس آتے ہیں جہاں میری این ڈیوڈ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف قربانی اور نظم و ضبط کی بات نہیں ہے بلکہ مل جل کر رہنے اور پیاروں کے ساتھ خوشیاں منانے کا وقت بھی ہے۔‘

’جب ہم دوستوں یا خاندان کے ساتھ روزہ کھولنے باہر جاتے ہیں یا اُنھیں گھر بلاتے ہیں تو یہ کسی ڈنر پارٹی کی ہی طرح ہوتا ہے، بس اس میں شراب نہیں ہوتی۔ ہم نئے کھانے آزماتے ہیں اور ہر کوئی لطف اندوز ہوتا ہے، بھلے ہی کچھ دن کے بعد آپ زیادہ نہیں کھا پاتے۔‘

آپ کو جس چیز کی سب سے زیادہ کمی محسوس ہوتی ہے وہ پانی ہے، خاص طور پر اس موسم میں۔ مگر اس کے فوائد اس قربانی سے کہیں زیادہ ہیں۔ میں نے جب سے روزہ رکھنا شروع کیا ہے، تب سے مجھے جس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے وہ صرف پانی ہے۔ باقی سب کچھ آسان ہے ایک مرتبہ آپ خود کو اس حساب سے ڈھال لیں اور مقصد سمجھ کر کریں۔‘

سری لنکا، مسلمان، رمضان

Getty Images
نیڈائن ایک باعمل مسیحی ہیں مگر وہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ روزے رکھ کر میں خود کو خدا سے قریب محسوس کرتی ہوں

نیڈائن کے لیے روزہ رکھنا اُن کی روحانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

’میں ہر اس شخص کو اس کی تجویز دوں گی جو تھک چکا ہے اور جوابات کی تلاش میں ہے۔ جب ہم ہر وقت بھوک مٹانے کے چکر میں رہتے ہیں تو ہم مقدس مقامات اور لمحات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ خودکار مشین بن جانا اور خدا پر اپنے انحصار کو بھلا دینا آسان ہوجاتا ہے۔‘

وہ مانتی ہیں کہ پانی اور کھانے سے اجتناب نے اُن کے عقیدے کو ایک نیا زاویہ دیا ہے۔

’ہم اپنی ضرورت سے آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں۔ ہماری ضروریات کو ایک نیا رخ ملتا ہے۔ ہم خدا کا تجربہ کرتے ہیں۔‘

سری لنکا، مسلمان، رمضان

Getty Images
سری لنکن مسلمان کولمبو کی ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے ہیں

مگر یہ آسان نہیں ہے

جے وکرمے کے لیے یہ نیا تجربہ آسان نہیں رہا ہے۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں صبح چار بجے اٹھا اور ناشتے میں کچھ کھجوریں، دہی اور پھل کھائے۔ اس کے بعد میں نے شام ساڑھے چھ بجے تک کچھ نہیں کھایا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس نئے تجربے کے بعد وہ دن کے اختتام پر تر و تازہ محسوس کر رہے ہیں مگر اُنھیں اس حوالے سے بھی شک ہو رہا ہے کہ کیا وہ پورا مہینہ یہ عمل جاری رکھ سکیں گے۔

’میں تب تک جاری رکھوں گا جب تک ہو سکے گا۔ مگر بالکل ہی پانی نہ پینا بہت مشکل کام ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp