محبت اور ہمارا معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت سچی یا جھوٹی نہیں ہوتی۔ انسان محبت کو سچائی یا جھوٹ کے دروازے تک لاتے ہیں۔

محبت کے بارے میں میرا نظریہ مختلف ہے، میرے مطابق وصل یار سکون قلب ہے اور ہجر یار کرب کا نام ہے۔ محبوب کو حاصل کرنے کا نام محبت نہیں، محبت ایک ایسے جذبے کا نام ہے جس میں مسلسل زندہ رہا جائے۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے جو محبت کے داعی تھے اور شادی کے بعد جلد ہی علیحدگی ان کا اپنا انتخاب تھا اور ایسے بھی بہت سے لوگ دیکھے جن کے ہاں چھ چھ بچے پیدا ہو گئے اور محبت نام کا جذبہ بیدار تک نہ ہو سکا، اس لیے محبت کی منزل شادی ہی ہو، یہ ضروری نہیں۔

دوسری بات گھر سے بھاگ کر شادی کرنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ بالغ لڑکا لڑکی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے ہیں مگر ہمارا فیملی سسٹم ان کو یہ اجازت نہیں دیتا، کسی سے چھپ چھپ کر تعلق رکھنے کے بجائے ڈنکے کی چوٹ پر اظہار کرنا اور اپنانا معیوب نہیں ہو سکتا۔ مگر اسی معاشرے میں ایک سائیکی یہ بھی قائم ہے کہ بھاگ کر شادی کرنے والے خوش نہیں رہ سکتے، یہ شادیاں زیادہ عرصہ نہیں چل سکتیں حالانکہ ان کو توڑنے میں خود گھر والوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔

بھاگ کر شادی کرنا ایک برا عمل سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی، کیسے کسی کی عزت کو بھگا کر لے جائے کوئی مگر یہ غیرت تب کہاں ہوتی ہے جب رشتے سے انکار محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ لڑکا دوسری کاسٹ کا ہے، لڑکا زیادہ کماتا نہیں، ہمیں لڑکا پسند نہیں جبکہ شادی تو لڑکی کو کرنی ہوتی ہے۔ میں بھاگ کر شادی کرنے کے حق میں نہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ بھاگ کر شادی کرنے والوں کو ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

ہمارا معاشرے چند روایات کے گرد گھومتا ہے اور ان سے باہر نکلنا مشکل کام ہے۔ اگر ہم محبت کو سمجھنا شروع کر دیں تو گھر سے بھاگنے کا کلچر ختم ہو سکتا ہے، گھر کی عزت کو عزت کے ساتھ رخصت کرنا سیکھ جائیں تو عزتیں نیلام نہ ہوں۔

یہ میری رائے ہے ، اختلاف آپ کا حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *