گوگل ارجنٹائن کا ویب ایڈریس ایک شخص نے دو پاؤنڈ میں خرید لیا

جیمز کلےٹن - نارتھ امریکہ ٹیکنالوجی رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Nicolas Kurona

BBC
نکولس کُورونا

گذشہ ہفتے بدھ کو ارجنٹائن میں گوگل کی ویب سائٹ دو گھنٹوں کے لیے غیر فعال تھی اور اس دوران ایک ویب ڈیزائنر نے ‘گوگل ارجنٹائن’ کی ڈومین کو صرف دو پاؤنڈ میں خرید لیا۔

تیس برس کے نکولس کُورونا نے کہا ہے کہ وہ Google.com.ar نام کی ایک ڈومین کو معمول کے قانونی طریقے سے خریدنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اسے خریدنا ممکن ہوگا۔’

گوگل ارجنٹائن نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایک مختصر وقت کے لیے کسی اور نے یہ ڈومین حاصل کر لی تھی۔’ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس کے فوراً بعد ہی اس ڈومین کا کنٹرول واپس لے لیا گیا تھا۔

اس کہانی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ نکولس بدھ کی شام کو بیونس آئرس کے مضافات میں ایک ڈیسک پر بیٹھے کام کر رہے تھے۔ وہ کسی کلائینٹ کے لیے اُس کی ویب سائیٹ تیار کر رہے تھے۔

اُنھیں واٹس ایپ پر پیغامات آنے لگے کہ گوگل کی ویب سائٹ بیٹھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گوگل سے ٹکر لینے والی خاتون کی جیت

’گوگل لینز‘ کتنے کمال کی چیز ہے؟

گوگل آپ کے بارے میں سب جانتا ہے؟

‘اُس وقت میں اپنے براؤزر پر گوگل ارجنٹائن کی ویب سائیٹ پر گیا، وہ اس وقت کام نہیں کر رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ تو کوئی حیران کن ہے۔’

اس کے بعد وہ ارجنٹائن کے نیٹ ورک انفارمیشن (این آئی سی) کی ویب سائٹ پر گئے، یہ وہ ادارہ ہے جو ارجنٹائن کے کنٹری کوڈ ar والی ڈومینز کو کنٹرول کرتا ہے۔ انھوں نے وہاں گوگل کو تلاش کیا اور دیکھا کہ گوگل ارجنٹائن کی ڈومین بکنے کے لیے دستیاب تھی۔

Screengrab of NIC page, allowing Nicolas to buy www.google.com.ar

BBC
این آئی سی کی سکرین کی فوٹو جس میں دکھایا گیا ہے کہ نکولس www.google.com.ar ڈومین کو خرید سکتا ہے۔

یہ سوچنے کے باوجود کہ وہ یہ ڈومین خرید نہیں سکیں گے، انھوں نے اقدامات پر عمل کیا اور پھر ’مجھے خریداری کے انوائس کے ساتھ ایک ای میل موصول ہوئی’۔

نکولس نے بی بی سی کو این آئی سی انوائس بھی دکھائی۔ انھوں نے گوگل ارجنٹائن کا ڈومین نام 270 پیسو (2 برطانوی پاؤنڈ) میں حاصل کیا۔

‘میں حیران رہ گیا’

حیرت زدہ ہو کر، نکولس نے www.google.com.ar کو اپنی سرچ بار میں ٹائپ کیا اور اینٹر دبایا۔ نکولس نے کہا کہ ‘میرا ذاتی ڈیٹا نمودار ہوا۔’

‘میں سکرین کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔’

بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق 21:52 پر نکولس نے گوگل ارجنٹائن کی ڈومین خریدی۔ لاکھوں لوگوں کی جو سرچز www.google.com.ar پر آرہی تھیں ’وہ ایک لحاظ سے میرے پاس آرہے تھے‘۔

نکولس نے کہا ‘میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا کبھی بھی کوئی غلط ارادہ نہیں تھا، میں نے اسے خریدنے کی کوشش کی اور این آئی سی نے مجھے اس کی اجازت دے دی۔‘

نکولس کی وہ شام صرف چند ہی منٹوں میں ایک بڑی خبر میں بدل گئی۔

انھوں نے کہا کہ ‘جب خریداری کا عمل مکمل ہو گیا اور میرا ڈیٹا ظاہر ہوا، تو میں جانتا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔۔میں واقعتاً بے چین تھا۔’

جو واقع نکولس کے ساتھ پیش آیا اُنھوں نے اسے ٹویٹ کیا تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ یہ واقعہ کیسے ہوا تھا۔

https://twitter.com/Argentop/status/1385062114113556480?s=20

یہ ممکن کیسے ہوا؟

ایک نظریہ یہ ہے کہ گوگل اپنے ڈومین کی تجدید کرنا بھول گیا تھا۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ ڈومین کے لیے اس کے لائسنس کی میعاد ختم نہیں ہوئی ہے اور جولائی 2021 تک اس کی میعاد باقی تھی۔

اوپن ڈیٹا کورڈووا گروپ (جو میعاد ختم ہونے والی ارجنٹائن ڈومین سے باخبر رہنے کے لیے وقف ہے، اور رجسٹرڈ افراد کو ٹریک کرنے کا کام کرتا ہے) اس بیان کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گوگل کے نام کی ڈومین کیوں فروخت کے لیے دستیاب ہوا تھا۔

نکولس کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ کیا ہوا ہے، لیکن میڈیا کی اتنی توجہ حاصل کرنا انھیں ‘قدرے عجیب’ لگتا ہے۔ انھیں ٹوئٹر کے کچھ طبقوں میں ہیرو کی حیثیت سے سراہا گیا ہے، اور ان کے ٹویٹ کو اسی ہزار افراد نے لائیک کیا ہے۔

نکولس کا کہنا ہے کہ انھیں اب خوشی ہے کہ وہ کسی پریشانی میں نہیں پھنسے ہیں۔

گوگل اس کی تحقیقات کر رہا ہے کہ بدھ کو کیا ہوا۔ لیکن کسی بھی وجہ سے، کم سے کم چند منٹوں کے لیے ہی سہی، گوگل نے اس ہفتے گوگل ارجنٹائن کا کنٹرول کھو دیا تھا، کم از کم اس تیس برس کے ویب ڈیزائنر کو تو ایسا ہی لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp