بگ ڈاگ الٹرا: بچ جانے والا فاتح، ایک ایسی انوکھی دوڑ جس کی کوئی فنش لائن نہیں

جسٹن گولڈنگ - بی بی سی سپورٹس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نے سوچا ہے کہ آپ ایک گھنٹے میں چار اعشاریہ ایک چھ میل دوڑ سکتے ہیں؟ شاید۔

کیا آپ یہی فاصلہ فوراً اگلے گھنٹے بھی طے کر سکتے ہیں؟ شاید۔

لیکن کیا آپ مسلسل تیسرے گھنٹے بھی اتنا فاصلہ دوڑ سکتے ہیں؟ اب شاید آپ کی ٹانگیں تھک رہی ہوں گی۔

لیکن اگر آپ کو ایسا مسلسل دو یا تین دن تک کرنا ہو، بغیر رکے، ہر گھنٹے بس دوڑتے رہنا ہو، تو کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟

یہ کہنا مشکل ہے کہ آپ کتنی دیر تک اس ریس میں بھاگتے رہیں گے، کیونکہ جناب یہ وہ ریس ہے جو صرف اُس وقت ختم ہوتی ہے جب سارے بھاگنے والے تھک کر گر جاتے ہیں یا رک جاتے ہیں اور سب سے آخر میں جو صرف ایک ہی شخص بچتا ہے، وہی اس ریس کا فاتح قرار دیا جاتا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ایسے بہت سارے رنرز ہیں ہیں جو بہت دیر تک بھاگنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موجودہ عالمی ریکارڈ بیلجئیم سے تعلق رکھنے والے ایک دندان ساز کے پاس ہے جو مسلسل 75 گھنٹے، یا 312 میل مسلسل دوڑتے رہے۔

آئیے، آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ‘بگ ڈاگ بیک یارڈ الٹرا’ میں۔ سب سے کٹھن، اور سب سے عجیب ترین وہ دوڑ جس کا شاید آپ نے کبھی نام بھی نہ سنا ہوگا۔


مگر سب سے پہلے اس کے نام کے بارے میں کچھ بات کر لیں۔

امریکی ریاست ٹینیسی میں ہر سال منعقد ہونے والی اس ریس کے آرگنائزر گیری کینٹرل اور ان کی اہلیہ سینڈرا نے اس ریس کا نام اپنے پالتو کتے بگ ڈاگ سے منسوب کیا ہے۔

لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وہ بذات خود اپنا زیادہ تر وقت ریس کے آغاز اور اختتامی پوائنٹ پر موجود ٹیبل کے نیچے بیٹھا دھوپ سینک رہا ہوتا ہے یا سو رہا ہوتا ہے، اور کبھی کبھار ازراہ تکلف آنکھ کھول کر دیکھ لیتا ہے کہ کون لوگ ہیں جو اس کے آس پاس سے بھاگتے ہوئے گزر رہے ہیں۔

گیری اور سینڈرا کا ٹینیسی کے ایک دیہی علاقے بیل بکل میں بڑا سے ایک فارم ہے جہاں وہ موجود جنگلات میں بنے راستوں پر دن میں دوڑنا شروع کرتے ہیں اور پھر حفاظتی اقدام کے تحت رات کے وقت اسی فارم کے گرد بنی سڑک پر دوڑتے ہیں۔

اور اس ریس کو ‘الٹرا’ کہنا اس ریس کے چیلنج کو دیکھتے ہوئے بالکل مناسب ہے کیونکہ یہ بہت ممکن ہے کہ آپ اس ریس میں 300 میل تک دوڑ کر اپنی جان ہلکان کرتے رہیں اور پھر بھی آپ کے نام کے آگے درج ہوگا: ‘ریس ختم نہیں کی’۔

زوم کے ذریعے ہم سے بات کرتے ہوئے گیری اس ریس کے بارے میں کہتے ہیں ‘یہ ایسا ہے کہ جیسے منہ پر کسی نے مکا مار دیا ہو۔ بہت زور سے نہیں، بس ہلکا سا۔ لیکن بار بار۔ اور پھر آپ جب ایک مکا اپنی طرف آتا دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ جھینپ جاتے ہیں۔’

فرانسیسی سافٹ وئیر انجنئیر گوئیلاؤم کالمیٹس نے 2017 میں اس ریس میں شرکت کی جس میں انھوں نے 59 گھنٹے مسلسل دوڑتے ہوئے 245 میل طے کیے اور یہ ریس جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ بہت تکلیف دہ تھا، لیکن اس تکلیف میں مزہ بھی بہت تھا۔’

ایسا ہی کچھ کہا امریکی میگی گوٹیرل نے، جنھیں 2019 میں پہلی خاتون فاتح بننے کا اعزاز ملا جب وہ 250 میل مسلسل بھاگنے میں کامیاب ہوئیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘مجھے خود کو تکلیف دینے میں مزہ بھی آتا ہے۔ الٹرا رنرز آرام کرنے کے لیے مساج کرانے نہیں جاتے۔’

یہ مقابلے بہت سادہ سے ہوتے ہیں۔ شرکت کرنے والوں کے لیے عارضی طور پر قائم کیے گئے خیمے جو ان کے لیے اگلے کئی دنوں کے لیے گھر ہوتا ہے۔ ہلکا پھلکا کھانا اور آرام کی غرض سے سے ایک فولڈنگ کرسی ہوتی ہے جس پر بیٹھ کر وہ سستا سکتے ہیں۔

دو سال قبل ہونے والی ریس میں 216 میل بھاگ کر ‘تیسرے’ نمبر پر آنے والے کینڈین ڈیوڈ پراکٹر کہتے ہیں کہ اس ریس کا زیادہ چرچا نہیں ہوتا ہے۔

‘ہم لوگ بیچ رات کو دوڑ رہے تھے اور پولیس کی گاڑی ہمارے پاس سائرن بجاتے آئی کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔’

کیا آپ نے کبھی کوشش کی ہے کہ آپ جلدی جلدی اپنے کھانا تناول کریں، رفع حاجت کے لیے جائیں، قیلولہ کریں اور اپنے موزے تبدیل کریں، اور یہ تمام کام کرنے میں 15 منٹ سے بھی کم وقت لیں؟

چند خوش قسمت لوگ وہ ہوتے ہیں جنھوں نے اپنے دوستوں کی مدد لی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب تک یہ ریس ختم ہوتی ہے، اس وقت تک وہ افراد جو ریس سے باہر ہو چکے ہوتے ہیں، وہ بھی بھاگنے والوں کی مدد میں مصروف ہوتے ہیں۔

پراکٹر کہتے ہیں کہ اتنا بھاگ بھاگ کر انسان کا ذہن ماؤف ہو جاتا ہے۔

‘آپ کو کوئی ایسا بندہ چاہیے ہوتا ہے جو آپ کو بتائے کہ کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے، باتھ روم جانا ہے۔’

پھر اس ریس س منسلک دوسری قسم کی بھی مشکلات ہیں۔ 2019 میں جیتنے والی گوٹیرل نے تقریباً اپنی گھر واپسی کی فلائٹ مس کر دی تھی کیونکہ مسلسل 60 گھنٹے ریس کرنے میں مصروف تھیں۔

اس ریس میں شرکت کرنے والے افراد اتنی دیر تک بھاگ رہے ہوتے ہیں کہ ان کو سونے کا موقع نہیں ملتا اور وہ ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اور پھر سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ انسان خود کو مزید بھاگنے پر کیسے راضی کرے جب آپ جسمانی اور ذہنی طور پر تھک کر ٹوٹ چکے ہوتے ہو اور ایسی صورت میں رک جانا سب سے آسان کام ہوتا ہے۔

اور اسی حوالے سے پھر ذہنوں میں سوال آتا ہے: ایسا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

گذشتہ تین سال سے اس ریس میں شرکت کرنے والی میگی گوٹیرل اس بارے میں کہتی ہیں کہ ‘یہ بہت مزے کی ہے۔’

سویڈن سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ یوہان سٹین نے 2018 میں یہ ریس جیتی جب وہ 68 گھنٹے تک مسلسل بھاگتے ہوئے 283 میل طے کرنے میں کامیاب ہوئے۔

وہ اس ریس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی خاص ریس ہے اور اس کی قواعد بھی بہت شاندار ہیں۔

کورٹنی ڈاؤللٹر امریکہ سے تعلق رکھنے والی پروفیشنل الٹرا رنر، یعنی نہایت طویل فاصلوں کی ریس میں شرکت کرنے والی کھلاڑی ہیں اور وہ 2018 میں اس ریس میں یوہان ٹسین کے مقابلے میں چار میل کے فرق سے دوسرے نمبر پر آئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک زبردست ذہنی چیلنج ہے۔ کورٹنی کو ایسی ریسوں میں شرکت کرنے کی عادت ہے۔

سنہ 2017 میں امریکی ریاست یوٹاہ میں ہونے والی ایک 240 میل کے فاصلے پر مبنی ریس میں وہ فاتح رہیں تھیں اور دوسرے نمبر پر آنے والا شخص ان سے دس گھنٹے پیچھے تھا۔

کورٹنی کے لیے بگ ڈاگ ریس کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کے لیے ‘کیا ممکن ہے، بجائے صرف جیتنے کے لیے ریسنگ کرنا۔ اگر اہم خود کو محدود نہ کریں، تو بڑا اچھا لگتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں۔’

اس ریسنگ کی شرائط میں شامل ہے کہ جب ریس شروع ہو، تو تمام شرکا زمین پر ریس ٹریک پر پینٹ ہوئے ایک باکس کے اندر موجود ہوں۔ گیری کینٹرل گھنٹی بجا کر ہر چکر کا آغاز کرتے ہیں جس کا فاصلہ 4.16666 میل ہوتا ہے۔

اس کی منطق یہ ہے کہ اگر اس فاصلے کے چکر کو 100 گھنٹے تک بھاگا جائے تو وہ 100 میل کا فاصلہ طے ہو جائے گا۔

اور ریس کے آغاز میں کوئی اس باکس میں شامل نہ ہوا تو تو وہ ڈس کوالیفائی ہو جاتا ہے۔

ریس کے اختتام پر جو پوسٹر لگا ہوا ہے اس پر درج ہے ‘یہاں کوئی اختتام نہیں’۔ اور ریس کے دوران بھاگنے والوں کو پریشان کرنے کے لیے صرف ریس کی طوالت نہیں بلکہ ساتھ ساتھ کچھ ایسے شائقین بھی ہیں جو رستے بھر ان کو پریشان کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں اور بہتر یہی ہے کہ وہ ریس چھوڑ دیں۔

گیری کینٹرل جنھوں نے یہ ریس 2011 میں شروع کی تھی، کہتے ہیں کہ ‘سب کچھ آپ کے ذہن میں ہے۔’

ریس شروع کرنے کی وجہ بنی تھی کہ گیری چاہتے تھے کہ ایک ایسا مقابلہ ہو جس میں اُن بھاگنے والوں کو انعام ملے جو ذہنی طور پر سب سےمضبوط اور ہمت والے ہوں، بجائے جسمانی طور پر فٹ بھاگنے والوں کو۔ ‘یہ جسم و ذہن کے درمیان ایک جنگ ہے۔’

گیری کینٹرل اس نوعیت کی انوکھی ریس کرانے کے لیے مشہور ہیں۔ انھوں نے چند برس قبل ‘بارکلے میراتھن’ شروع کی تھی جو کہ اس قدر مشکل ہے کہ اس میں شرکت کرنے والوں میں سے 99 فیصد افراد یہ مقابلہ ختم ہی نہیں کر پاتے اور اس میراتھن پر نیٹ فلکس نے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی ہے۔

کینٹرل کی بگ ڈاگ ریس کے لیے رنرز کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح خود کو ایک ایسی ریس کے لیے تیار کریں جو چھ گھنٹے میں بھی ختم ہو سکتی ہے، اور 60 گھنٹے میں بھی۔

اس جواب کے لیے بگ ڈاگ ریس کے کامیاب رنرز کہتے ہیں کہ ایسا غلطی سے بھی سوچیں مت۔

ڈیوڈ پراکٹر کہتے ہیں کہ ‘ہم اپنے ماضی اور مستقبل کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ آپ صرف وہی کنٹرول کر سکتے ہیں جو اگلے دس سیکنڈز میں ہوگا۔ باقی چھوڑ دیں۔’

میگی گوٹیرل کہتی ہیں کہ ‘آپ اختتام کا انتظار نہیں کرتے، آپ کھیل شروع ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔’

لیکن ذہنی مشکلات کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی اتنی ہی مشکل ہو رہی ہوتی ہے۔ جوڑوں میں درد، پیروں میں چھالے اور بہت سے دیگر مسائل۔پھر اتنی دیر بھاگنے کا مطلب ہے کہ پیٹ کو خالی نہیں رکھا جا سکتا۔

اور چکروں کے بیچ میں جو دورانیہ ہوتا ہے صرف اسی کے دوران ریس کرنے والوں کو سستانے کا کچھ موقع ملتا ہے۔ لیکن اگر آپ آہستہ بھاگتے ہیں تو بمشکل چند سیکنڈز ملتے ہیں جبکہ تیز بھاگتے ہوں تو آپ کو شاید 20 منٹ کے لیے قیلولہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

اس ریس کے بارے میں گیری کینٹرل کہتے ہیں کہ یہ تاش کے پتوں کے کھیل ‘پوکر’ کی مانند ہے۔

اس ریس کو جیتنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ تمام کے تمام دیگر شرکا بھاگنا چھوڑ دیں اور آپ آخری انسان ہوں جو دوڑ رہے ہوں۔

‘اس ریس میں دوڑنے والا ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ وہ خود کو ایسے پیش کرے کہ وہ بالکل بھی نہیں تھکے ہیں اور ٹھیک ہیں، حالانکہ اندر سے وہ ختم ہو رہے ہوتے ہیں۔’

گوئیلاؤم کالمیٹس کہتے ہیں کہ ادھر نظر کا دھوکہ ہوتا ہے اور جو کچھ آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس پر یقین ہی نہیں کر سکتے۔

‘لوگ اپنے اصلیت صرف اپنے خیموں میں ظاہر کرتے ہیں، جہاں انھیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔’

چار سال قبل ہونے والی ریس کے فاتح گوئیلاؤم کالمیٹس اگلے برس 2018 کی ریس میں 225 میل کا فاصلہ طے کر کے پانچویں نمبر پر تھے اور 2019 میں گھٹنے میں چوٹ کے باعث 96 میل طے کر کے ریس ختم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ’ اگر آپ ریس چھوڑ رہے ہوں اور آپ دوسروں کو مسلسل بھاگتے ہوئے دیکھیں تو بہت برا محسوس ہوتا ہے۔’

ایک اور رنر کہتے ہیں کہ وہ ریس کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ انتہا درجے کی تکلیف نہ محسوس کریں یا زخمی نہ ہوں جائیں، تو ریس ختم نہیں کریں گے۔

‘میں تب تک بھاگتا رہوں گا، جب تک مجھ میں بھاگنے کی ہمت نہ ختم ہو جائے۔’

تین سال قبل ہونے والی ریس کے فاتح یوہان سٹین کہتے ہیں کہ جب وہ مقابلہ جیت گئے تو انھیں کوئی خوشی نہیں محسوس ہوئی۔

‘میں خوش نہیں تھا۔ یہ کھیل ختم ہو گیا تھا۔ جب میں آخری چکر پورا کر رہا تھا تو میری کوئی ہمت نہیں تھی۔ وہ سب سے مشکل چکر تھا پوری ریس کا۔’

کالمیٹس بھی کہتے ہیں کہ 2017 میں ہونے والی ریس میں وہ بہت خفا ہوئے تھے جب ان کے ساتھ بھاگنے والا آخری ساتھی ہاروے لویئس ریس سے دستبردار ہو گئے۔

‘وہ 59واں چکر تھا، 60واں نہیں۔ اور 60 چکر بہتر ہندسہ ہوتا۔’

میگی گوٹیرل کہتی ہیں کہ انھیں بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ 2019 والی ریس میں ان کی جیت خواتین کے لیے کتنی اہم تھی۔

اس ریس کے آخر میں نیند سے بدحال میگی کہتی ہیں کہ ‘ایک رنر کی اہلیہ نے مجھے سے کہا کہ تو ہمارے صنف کے لیے بھاگ رہی ہو۔ اس کی بات سے مجھے بہت ہمت ملی۔ میں تیز رفتار نہیں ہوں لیکن میں ضدی بہت ہوں۔ اور میرے دماغ میں کچھ آ جائے تو پھر میں چھوڑتی نہیں ہوں۔’

گیری کینٹرل سے جب پوچھا کہ بگ ڈاگ ریس جیتنے والوں میں ان کا سب سے پسندیدہ رنر کون تھا تو وہ کہتے ہیں کہ یہ بڑا مشکل سوال ہے اور ایسے ہی ہے کہ آپ کسی سے پوچھیں کہ ان کی پسندیدہ اولاد کون ہے۔

‘لیکن ایک عورت کو یہ ریس جیتتے ہوئے دیکھنے کی بہت خوشی تھی۔ آپ تیز رفتاری اور طاقت کو ہٹا دیں، تو آپ کو نظر آئے گا کہ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ مقابلہ کرتی ہیں۔’

یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس قدر دشوار ریس جیتنے والوں کو کیا ملتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو جیتنے والوں کو ایک فوج میں استعمال ہونے والے کتا کا پٹہ ملتا تھا۔ اب یہ انعام تبدیل کر دیا گیا ہے اور سونے کا ایک سکہ ملتا ہے۔

اور اگر آپ بہت خوش قسمت ہوئے، تو شاید گیری کینٹرل آپ سے گلے بھی مل لیں۔

میگی کہتی ہیں کہ اگر آپ شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ ریس کر رہے ہیں تو بہتر ہے کہ نہ ہی کریں۔ گوئیلاؤم کالمیٹس بھی ان کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ یہ کرتے ہیں تاکہ آپ اس کا تجربہ حاصل کریں۔ یہ ایک ایڈونچر ہے۔’

گیری کینٹرل کہتے ہیں کہ انھیں نہیں اندازہ تھا کہ اس ریس کو جیتنے والے اتنے طویل فاصلے تک بھاگ سکیں گے۔

چار سال قبل 2017 مقابلے کے فاتح گوئیلاؤم کالمیٹس کہتے ہیں کہ وہ اس ریس میں شرکت کرنے ٹینیسی دوبارہ آئیں گے۔ 2018 کے فاتح یوہان سٹین نے بھی اپنی شرکت کا یقین دلایا ہے۔

میگی گوٹیرل کہتی ہیں کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، وہ اس مقابلے میں ضرور شرکت کریں گی۔

اور وہ اکیلی نہیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ 100 گھنٹے (چار سو میل) تک مسلسل بھاگنے کا ریکارڈ بنایا جائے۔ ‘میں وہاں پہنچنا چاہتی ہوں۔’

‘میں خود کے لیے ہدف نہیں طے کرتی لیکن اگر میں چار سو میل تک پہنچ گئی تو میں رک جاؤں گی۔ لیکن اگر کسی نے 400 کو بھی عبور کر لیا تو مجھے پھر واپس آنا پڑے گا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18855 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp