ایپل کے نئے اپ ڈیٹ آئی او ایس 14.5 کے بارے میں پانچ اہم باتیں ج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Apple boss Tim Cook

BBC
Apple boss Tim Cook

ایپل نے اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ آئی او ایس 14.5 کا اعلان کیا ہے۔

اس میں سب سے اہم ایک نیا فیچر ‘ایپ ٹریکنگ ٹرانسپرنسی’ ہے جس کے ذریعے اگر کوئی صارف چاہتا ہے کہ اس کی آن لائن سرگرمیوں کو کوئی کمپنی ٹریک کرے تو اسے ‘آپٹ اِن’ کے بٹن کے ذریعے خود انھیں اجازت دینی ہوگی۔

اس نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بارے میں وہ پانچ باتیں جنھوں نے ہماری توجہ حاصل کی:

اب صارف اپنا آئی فون ماسک کے باوجود ان لاک کر سکیں گے

ایپل کا نیا آپریٹنگ سسٹم آپ کو ماسک پہنے ہوئے بھی اسے ان لاک کرنے دے گا۔ لیکن اس میں ایک بڑی خرابی ہے۔

جب صارف نے ماسک پہنا ہو تو ایپل کا فیس ریکگنیشن (چہرے سے صارف کو پہچاننے کا فیچر) عام طور پر کام نہیں کرتا۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ کے پاس ایپل واچ بھی ہو اور فون ان لاک کرتے وقت آپ نے یہ پہن رکھی ہو۔

ایپل کا کہنا ہے کہ ‘کلائی پر ایپل واچ پہن کر، اسے ان لاک کر کے محض آئی فون کے قریب لانا ہوگا۔ اس کے بعد آپ صرف ایک نظر آئی فون پر ڈالیں گے اور ایپل واچ صارف کو بتا دے گی کہ ان کا فون ان لاک ہوگیا ہے۔‘ اس طرح آئی فون کو ماسک پہنے ہوئے ایپل واچ کے ذریعے ان لاک کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اگر کسی کے پاس آئی فون ہے مگر ایپل واچ نہیں تو یہ فیچر کسی کام کا نہیں۔

ایپ ٹریکنگ ٹرانسپرنسی

اس نئے اپ ڈیٹ کے بعد جب بھی آپ کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں گے تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ آیا آپ اس ایپ کو اپنی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔

فیس بک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں ان معلومات کی مدد سے ہر کسی کو ان کے رویے کے مطابق اشتہارات دکھاتی ہیں۔

فیس بک نے عوامی سطح پر اس تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔ ظاہر ہے اگر فیس بک آپ کو جانتا ہی نہیں ہوگا تو وہ اشتہارات دینے والوں سے کس بات کے پیسے لے گا۔

مگر اس تبدیلی پر ایپل سے کئی طرح کے سوال کیے جا رہے ہیں۔

اگر ایپ بنانے والے اشتہارات سے پیسے نہیں کما سکیں گے تو وہ ایسی سروسز کے لیے براہ راست صارف سے پیسے مانگیں گے۔ اور ان ادائیگیوں سے ایپل کو مالی فائدہ ہوگا۔

نئی ایموجیز

ایپل نے اپنے اپ ڈیٹ میں متعدد نئی ایموجیز متعارف کرائی ہیں۔

مثال کے طور پر اب مزید کئی ایموجیز میں جِلد کے رنگ کا انتخاب کیا جاسکے گا۔

ایپل کا کہنا ہے کہ سانس باہر نکالنے، بل کھاتی آنکھیں، بادلوں میں ڈھکے چہرے، دل میں آگ، دل کی مرہم پٹی اور داڑھی والی خاتون جیسے نئے ایموجیز متعارف کرائے گئے ہیں۔

سِری

ایپل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی وائس اسسٹنٹ سِری کو مزید متنوع بنا رہا ہے۔

ایپل کے مطابق ‘سِری میں اب کوئی پہلے سے طے شدہ آواز نہیں ہوگی بلکہ صارفین ڈیوائس کو سیٹ اپ کرتے وقت اس کا انتخاب کر سکیں گے۔’

انگریزی میں اب صارفین آواز میں کئی آپشنز میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔

ایپل کا کہنا ہے کہ سِری کی نئی آوازوں کے لیے Neural Text to Speech ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جس سے یہ بہت حد تک قدرتی سنائی دیتی ہیں نہ کہ مشینی۔

ایپل کا کہنا ہے کہ یہ نئی اپ ڈیٹس تنوع اور ہر نسل کے افراد کی نمائندگی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

تاہم ایپل کی اکثر مصنوعات چین میں بنائی جاتی ہیں جہاں ایغور افراد کے ساتھ چینی حکام کے سلوک پر خاموشی کی وجہ سے ایپل کو تنقید کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنے گھر پر ہو یا بیرون ملک ایپل کو تنوع سے متعلق اپنے پیغام میں یکسانیت لانی چاہیے۔

ایئر ٹیگز

ایپل کا نیا آپریٹنگ سسٹم نئے لانچ کیے گئے ایئر ٹیگز کے ساتھ کام کرے گا۔

چھوٹی سی یہ ڈِسک چابیوں یا پرس کے ساتھ لگائی جا سکتی ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی چیز گم ہو جائے تو آپ اسے Find My ایپ کے ذریعے تلاش کر سکتے ہیں۔

ایپل کی یہ ڈِسک مارکیٹ میں پہلے سے موجود پروڈکٹ ’ٹائل‘ سے مماثلت رکھتی ہے۔

گذشتہ ہفتے سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران ایپل پر ٹائل کو کاپی کرنے پر تنقید کی گئی تھی۔

ٹائل کی جنرل کونسل کرسٹ دارو نے کہا تھا ’ہم مقابلے کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن یہ ایک منصفانہ مقابلہ ہونا چاہیے لیکن ایپل کی مقابلے کی سوچ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔‘

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایپل نے ٹائل کو اپنے Find My ایپ کے ساتھ استعمال نہیں ہونے دیا جس سے ایپل کے اپنے ایئر ٹیگز کو اس جانبداری سے فائدہ ہوا ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ ان کی پروڈکٹ مختلف ہے۔ ایپل کی چیف کمپلائنس آفیسر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ٹائل کی پروڈکٹ کاپی نہیں کی۔۔۔یہ مارکیٹ میں موجود کسی بھی چیز سے انتہائی مختلف ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp