کورونا وبا: پوری دنیا کو انڈیا کے کووڈ بحران کی پرواہ کیوں کرنی چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


A COVID-19 coronavirus patient sits on her bed at the Intensive Care Unit of the Sharda Hospital, in Greater Noida

AFP

’میں نے کبھی بھی ایسی خوفناک صورتحال نہیں دیکھی۔ میں یقین نہیں کرسکتا کہ ہم انڈیا کے دارالحکومت میں ہیں۔ لوگوں کو آکسیجن نہیں مل رہی ہے اور وہ جانوروں کی طرح مر رہے ہیں۔‘ یہ کہنا تھا جینت ملہوترا کا جو بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔

مسٹر ملہوترا انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ایک شمشان گھاٹ میں مدد فراہم کررہے ہیں جہاں کورونا وائرس کے انفیکشن کے بے مثال اضافے کے تحت ہسپتال بھرے پڑے ہیں۔

ملک میں پیر کے روز لگاتار چھٹے دن نئے کیسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ‘بلیک مارکیٹ میں آکسیجن سیلنڈروں کی قیمت 10 گنا بڑھ گئی ہے‘

موت کے منڈلاتے سائے میں ڈری سہمی دلی کا آنکھوں دیکھا حال

وہ تصاویر جو انڈیا میں کورونا بحران کی شدت کو بیان کرتی ہیں

وہ شہر جہاں سانس لینا بھی عیاشی بن گیا ہے

جہاں ایک طرف انڈیا میں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے وہیں چین، امریکہ، مغربی یورپ کا بیشتر حصہ اور افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں میں 25 اپریل سے قبل دو ہفتوں کے دوران اب تک ہونے والی سب سے کم اموات درج ہوئی ہیں۔

کچھ ممالک لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے حالیہ موسم گرما میں ویکسین لگائے جانے والے امریکی مسافروں کی واپسی کا اشارہ بھی کیا ہے۔

لیکن کیا انڈیا کی بدتر صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے؟

انڈیا کا کووڈ بحران کتنا بڑا ہے؟

Mass cremations at a crematorium ground in Delhi (22 April)

Reuters
کووڈ متاثرین کی لاشوں کی تعداد میں بدستور اضافے کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر آخری رسومات ادا کی گئیں

فروری میں، یہاں یومیہ اموات کی تعداد گھٹ کر سینکڑوں میں اور متاثرین کی تعداد 12،000 تک آگئی تھی، جس سے انڈیا میں بہت سے لوگوں کو امید ہو چلی تھی کہ ملک وبا کی بدترین صورتحال سے بچ گیا ہے۔

لیکن اس ملک میں 17 اپریل سے روزانہ 200،000 سے زیادہ کووڈ کیس رپورٹ ہورہے ہیں یہ پچھلے سال ستمبر میں روزانہ 93،000 کیسز کے عروج سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔

اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے 25 اپریل سے پہلے کے سات دنوں میں اوسطا 2336 افراد ہلاک ہوئے جو کہ پہلی لہر کے عروج کے دوران اوسط تعداد سے دگنا ہے۔

بی بی سی کے ہیلتھ اینڈ سائنس کے نمائندے جیمز گیلیگر کہتے ہیں: ‘انڈیا واضح طور پر جدوجہد کر رہا ہے۔ خوف مجھے وبا کے آغاز کی یاد دلاتا ہے جب کورونا وائرس ایک انجان وجود تھا۔‘

’کووڈ مکمل طبی نگہداشت کے باوجود بھی مہلک ثابت ہوسکتا ہے، لیکن جب پسپتال بھر جاتے ہیں تو پھر ایسی زندگیاں بھی ضائع ہوجاتی ہیں جن کو بچایا جاسکتا تھا۔’

دہلی میں صورتحال خاص طور پر سنگین ہے جہاں آئی سی یو کے بیڈ خالی نہیں ہیں۔

In this picture taken on April 23, 2021, relatives wait next to a Covid-19 coronavirus patient laying on a stretcher in a hospital complex for admission in New Delhi.

AFP
کئی ہسپتالوں میں کووڈ کے مریض داخل نہیں کیے جا رہے

بہت سارے ہسپتال نئے آنے والے مریضوں کو لوٹا رہے ہیں اور کم از کم دو ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی ختم ہونے کے بعد مریضوں کی اموات ہوئی ہیں۔

بیمار افراد کے لواحقین ہسپتال میں جگہ، آکسیجن کی فراہمی اور وینٹیلیٹرز کے لیے سوشل میڈیا پر اپیل کر رہے ہیں۔

وبا کے لیے کرائے جانے والے ٹیسٹ کے نتائج آنے میں تین دن کا وقت لگ رہا ہے۔ اس دوران شمشان (مردے کو نذر آتش کی جانے والی جگہ) چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

Relatives of a Covid-19 victim perform the last rites during cremation at Nigambodh Ghat crematorium, on April 25, 2021 in New Delhi, India.

Getty Images
انڈیا میں کووڈ سے ہونے والی بیشتر ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہو رہیں

اسی طرح کے مناظر دوسرے بڑے شہروں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر انڈیا میں تقریباً ایک کروڑ 79 لاکھ سے زائد افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے جبکہ دو لاکھ سے زائد اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ بڑے پیمانے پر انفیکشن اور اموات رپورٹ ہی نہ ہوئے ہوں۔

ملک کی زیادہ آبادی اور لاجسٹیکل مسائل کووڈ کی جانچ کرنا یا اموات کے درست طور پر ریکارڈ کرنا واقعی مشکل بنا دیتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر یورپ یا امریکہ کی نسبت انڈیا میں بحران کے صحیح پیمانے کو جاننا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

یہ کتنا برا ہوسکتا ہے؟

Patients breathe with the help of oxygen provided by a Gurdwara, a place of worship for Sikhs, under a tent installed along the roadside amid Covid-19 coronavirus pandemic in Ghaziabad on April 26, 2021.

Getty Images
آکسیجن کی کمی سے کئی لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جن کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں

گیلیگر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’افسوسناک طور پر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال خاصی خراب ہوجائے گی۔‘

’ایک چیز جو بارہا دیکھی گئی وہ یہ ہے کہ کیسز میں اضافے کے چند ہفتوں بعد اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

’یہاں تک کہ اگر انڈیا راتوں رات اس وائرس کو پھیلنے سے روک سکتا ہے تو بھی اموات تیزی سے بڑھتی رہیں گی کیونکہ بہت سے لوگ پہلے ہی انفکشن سے متاثر ہوچکے ہیں۔ یقینا، انفیکشن کے خاتمے کی کوئی علامت نہیں ہے، کیسز کب تک بڑھتے رہیں گے اس کا انحصار لاک ڈاؤن کی کامیابی اور ویکسین لگائے جانے کی رفتار پر۔‘

یہ واضح رہے کہ عالمی سطح پر انڈیا میں ابھی تک سب سے زیادہ کیسز نہیں رپورٹ پوئے اور نہ ہی اموات ہوئی ہیں۔ جان ہاپکنز کورونا وائرس ریسورس سینٹر کے پیر (28 اپریل) تک مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، امریکہ میں اب تک تین کروڑ بائیس لاکھ سے زائد کیسز اور 574308 اموات ہوچکی ہیں۔

Chart showing number of daily cases and deaths in india

BBC

لیکن یہ انڈیا کا حجم اور کیسز اور اموات میں ڈرامائی اضافہ ہے جو اس طرح کی تشویش کا باعث ہے۔

طبیعیات اور حیاتیات کے پروفیسر اور ماہر گوتم مینن نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی، جہاں نئے کیسز میں مسلسل تیزی سے اضافے کے نتیجے میں صحت کا نظام موجودہ تعداد کے دباؤ سے نمٹنے کے قابل نہیں رہا۔ ‘

انڈیا میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں کے پاس بھی اپنی وسیع آبادی کا احاطہ کرنے میں کہیں زیادہ بڑے چیلینجز ہیں اور بہت سے شہریوں کو صحت کی سہولیات تک بالکل بھی رسائی حاصل نہیں ہے۔

باقی دنیا کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

وبائی بیماری ایک عالمی خطرہ ہے۔

ابتدائی دنوں کے بعد سے، سائنس دانوں اور ماہرین صحت نے پتہ لگا لیا کہ کورونا وائرس کا انفیکشن ہوائی سفر کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک جاتا ہے۔

Newly-arrived passengers from California and Turkey wait to be tested for coronavirus (COVID-19) at Tegel (TXL) airport on July 29, 2020 in Berlin, Germany.

Getty Images
کووڈ کی روک تھام کے لیے قومی سرحدوں پر بہت کم رکاوٹیں لگائی گئیں

اب تک وائرس کے پھیلاؤ میں قومی سطح پر بہت محدود رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اگر غیر معینہ مدت تک سفری پابندیاں اور سرحدیں بند کرنا ناممکن نہیں تھا تو یہ یقینا غیر حقیقت پسندانہ عمل ہے۔

جیمز گیلیگر نے مزید کہا: ’وبائی بیماری نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ایک ملک کا مسئلہ ہر ایک کا مسئلہ ہے۔‘

’کورونا وائرس کی نشاندہی پہلے چین کے ایک شہر میں ہوئی، اب یہ ہر جگہ ہے۔ انڈیا میں ریکارڈ کی جانے والی تعداد دوسرے ممالک تک پھیل سکتی ہے، اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے سفری پابندیاں متعارف کروائی ہیں اور انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد وائرس کی نئی اقسام کے لیے ایک افزائش گاہ ہیں۔

انڈیا میں پیدا ہونے والا ایک نیا خطرہ؟

انڈیا کے حالات کووڈ کے خلاف عالمی لڑائی کے لیے بہت بری خبر ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے کلینیکل مائیکروبایولوجی کے پروفیسر روی گپتا کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی زیادہ آبادی اور کثافت اس وائرس کے لیے خود میں تغیر لانے کے لیے بہترین انکیوبیٹرہیں۔‘

اگر اس طرح کے مثالی حالات میں وائرس کو تبدیلوں کا وقت ملا تو پوری دنیا میں یہ وبائي شدت کو طول دے سکتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’وائرس کو تبدیل ہونے کے جتنے زیادہ مواقع ملتے رہیں گے اس سے یہ خدشتہ بڑھتا جائے گا کہ یہ ان لوگوں کو بھی متاثر کرے جو ویکسین لگوا چکے ہیں۔‘

Crowds of people are seen shopping during a weekly market at Kandivali (a suburb in North-West of Mumbai)

Getty Images
انڈیا کی آبادی کے باعث وبا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھا

برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کے وائرس کی نئی شکلیں اس وبائی امراض کے دوران پہلے ہی پریشانیوں کا سبب بنی ہوئی ہیں، جو پوری دنیا میں پھیل گیا ہے اور پروفیسر مینن نے انڈیا میں نئی ​​قسموں کی وارننگ دی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ان میں سے کچھ سپائک پروٹین کے علاقوں سے وابستہ ہیں جو وائرس کو خلیوں سے بہتر طور پر منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ اینٹی باڈیز کے تعلق کو کمزور کے قابل بناتے ہیں۔

’واقعی مختلف حالتوں کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہے۔ پہلے ہی B.1.617 مختلف حالت (جس کی شناخت انڈیا میں پہلی بار کی گئی تھی) کو انڈیا سے باہر متعدد ممالک میں پایا گیا ہے، امکان ہے کہ زیادہ تر یہ امپورٹ ہوا ہے۔‘

انڈیا (اور باقی دنیا) پھیلاؤ کو کیسےروک سکتا ہے؟

بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں کہ انڈیا کو آکسیجن کی کمی اور کووڈ کے کیسز میں تباہ کن اضافے کو سنبھالنے میں مدد ملے۔

برطانیہ نے وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کونسینٹریٹر ڈیوائسز بھیجنا شروع کر دا ہے اور امریکہ بیرون ملک خام مال بھیجنے پر پابندی ختم کر رہا ہے، جس سے انڈیا کو ویکسین بنانے میں مدد ملے گی۔

A worker arranges medical oxygen cylinders to transport to hospitals for the Covid-19 coronavirus treatment in a facility on the outskirts of Hyderabad on April 23, 2021.

AFP
دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہونے پر لوگوں کی جانیں گئیں

مختلف ممالک بھی مدد کے طبی عملہ اور پی پی ای کٹس بھیجنے کی پیش کش کر رہے ہیں۔

انڈین حکومت نے ملک بھر میں 500 سے زائد آکسیجن جنریشن پلانٹس کو سپلائی بڑھانے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

لیکن یہ وہ اقدامات ہیں جو بیماری لگنے سے نہیں، اموات کو روکنے کے لیے ہیں۔ دنیا کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کی آبادی کو ویکسین دینا اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے جو ڈرامائی انداز میں بڑھا رہا ہے۔

جب ویکسین تیار کرنے کی بات آتی ہے تو یہ ملک اس کا پاور ہاؤس ہے۔

یہ ملک ویکسین کا ایک وسیع پروگرام چلاتا ہے، دنیا کی 60 فیصد ویکسین بناتا ہے اور یہاں ایس آئی آئی سمیت نصف درجن بڑے مینوفیکچررز موجود ہیں۔

An elderly woman reacts as she is inoculated with the Covid-19 coronavirus vaccine at a government hospital on the outskirts of Ajmer

AFP
انڈیا میں ویکسینیشن کی سب سے بڑی مہم جاری ہے

لیکن بی بی سی انڈیا کے نامہ نگار سوتک بِسواس کے مطابق: ’بڑے پیمانے پر بالغوں کی ویکسینیشن کا پروگرام جیسے سارس کووڈ 2 جو کووڈ 19 کا سبب بنتا ہے، کے خلاف ویکسینیشن پروگرامز کو غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

انڈیا کی ویکسینیشن مہم، جو دنیا کی سب سے بڑی مہم ہے، 16 جنوری کو شروع ہوئی تھی اور اس کا مقصد جولائی تک 250 ملین افراد کو ٹیکے لگانا تھا۔ اب تک، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 118 ملین کے آس پاس کو ’صرف‘ پہلی خوراک موصول ہوئی ہے۔ یہ کل آبادی کا محض 9 فیصد سے بھی کم ہے۔

ابتدائی طور پر یہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور فرنٹ لائن عملے تک ہی محدود تھا، اس کے بعد اسے 45 سال سے اوپر والوں کے لیے مختلف مرحلوں میں بڑھایا گیا۔

لیکن اتنی بڑی آبادی اور ملک میں لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کی دشواریاں اسے پیچیدہ عمل بنا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے عمل کو اپنے ہدف کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ رفتار سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

’یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملک میں اس عمل کو تیز کرنے اور نوجوانوں کو شامل کرنے کے لیے کافی ویکسین اور ریاستی صلاحیت موجود ہے یا نہیں‘۔

ویکسینیشن

Getty Images
اندیا جولائی تک 25 کروڑ افراد کو ویکیسن لگانے کے ہدف پر عمل پیرا ہے

جب تک کہ اتنی بڑی آبادی کو کامیابی کے ساتھ ویکسین نہیں لگائی جاتی یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

پروفیسر مینن کا کہنا ہے کہ ’کووڈ 19 جیسی متعدی بیماریوں کا مسئلہ کسی ایک قوم یا یہاں تک کہ اقوام کے ایک چھوٹے سے گروہ کا مسئلہ نہیں ہے۔

’ہمیں دنیا کی زیادہ سے زیادہ بھلائی کے لیے جانچ، ویکسینیشن، اور تحقیق کے بارے میں مزید بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔‘

جیسا کہ صحت عامہ کے عہدیداروں اور سیاست دانوں نے وبائی مرض کے ابتدائی دنوں سے ہی کہا ہے کہ ’جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہوتا کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18943 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp