’سپین کے ہنسانے والے آدمی‘ ایل ریسٹاس اب دنیا میں نہیں رہے: ’آج بہت دکھی دن ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Screenshot showing Juan Joya Borja laughing uncontrollably

YouTube

ایل ریسٹاس کے نام سے کون واقف نہیں۔ انٹرنیٹ ان کی مسکراہٹ والی میمز سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن ہزاروں چہروں ہر مسکراہٹ بکھیرنے والی اس شخصیت کے مداح آج اداس ہیں۔ سپین کے یہ معروف کامیڈین 65 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

ایل ریسٹاس کا اصلی نام ہوآن جویا بورجا تھا لیکن زیادہ تر لوگ انھیں ایل ریسٹاس کے نام سے ہی جانتے ہیں جس کا مطلب ہے ’گیگلز‘ یعنی دبی دبی ہنسی۔

انٹرنیٹ پر بیشتر لوگ انھیں ’سپین کا ہنسانے والا آدمی‘ کے نام سے بھی پہچانتے ہیں۔

بورجا 2014 میں نیشنل ٹیلی ویژن پر آنے کے بعد وائرل ہوئے تھے۔ وہ ایک کہانی سناتے ہوئے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے اور بس پھر کیا تھا یہ منظر ناظرین کو اتنا بھایا کہ انھوں نے اس پر ذیلی عنوانات ڈب کرنا شروع کردیے۔

مقامی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز ہسپتال میں ان کی وفات ہوئی۔

بورجا کو گذشتہ سال طبی مسائل کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ مارچ میں انھوں نے اپنے مداحوں کا فنڈ اکٹھے کرنے کی مہم کا انعقاد کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

یہ مہم ایک ٹانگ کٹ جانے کے بعد بورجا کو الیکٹرک موبلٹی سکوٹر دلانے کے لیے چلائی گئی تھی۔

https://twitter.com/VekneimArt/status/1387720137265057793

ایل ریسٹاس شہرت کی بلندیوں پر کیسے پہنچے؟

اس کامیڈین کو تقریباً 20 سال قبل جیسوئس کوینٹرو کے پیش کردہ ٹیلی ویژن شوز میں آنے کے بعد شہرت ملی تھی۔

جس کلپ نے انھیں سب سے زیادہ شہرت دلائی وہ مشہور کلپ ہسپانوی شو ریتونس کولوراوس کے دوران فلمایا گیا تھا۔

اس شو میں میزبان نے ان سے باورچی خانے میں مددگار عملے کے طور پر کام کرنے والے تجربے کے متعلق پوچھا تھا۔

2007 میں اس شو کے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیے گئے کلپ میں، بورجا، کوینٹرو کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک رات انھوں نے 20 برتن سمندر میں چھوڑ دیے تاکہ وہ صاف ہو جائیں۔

اگلی صبح انھوں نے آ کر دیکھا کہ لہریں سب کچھ بہا کر لے گئی ہیں۔

اس کہانی کو سنانے کے بعد انھیں اور میزبان کو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے اور میز پر ہاتھ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بس یہی وہ موقع تھا جب بورجا کی تقریباً بنا دانتوں والی مخصوص مسکراہٹ اس شو کا سب سے بہترین لمحہ بن گئی۔

سالوں بعد، تقریباً 2014 میں انٹرنیٹ صارفین نے اسی کلپ کو من چاہے ذیلی عنوانات کے ساتھ دوبارہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔

جی ہاں بالکل اسی طرح جیسے ایڈولف ہٹلر کے آخر دنوں پر بنائی جانے والی فلم ’ڈاؤن فال‘ کے مناظر سے ساتھ ہوا۔ اس منظر کی بھی بے شمار پیروڈیز کی گئیں۔

https://twitter.com/skallagreir/status/1387718776351870976

بورجا کو مصر کی سیاست سے لے کر ایپل کی تازہ ترین مصنوعات کی ریلیز تک، ہر مسئلے پر متعدد زبانوں میں ڈب کیا گیا۔

ڈب کی گئی ان ویڈیوز کے علاوہ اصل ویڈیو کو لاکھوں افراد نے دیکھا اور بورجا کو انٹرنیٹ پر ایک مشہور شخصیت بنا دیا۔

آج بھی انٹرنیٹ پر ان کا ہنستا ہوا چہرہ بہت مقبول ہے جس میں گیمنگ کے سٹریمنگ پلیٹ فارم ’ٹویچ‘ پر جذبات دکھانے کے لیے اس کا استعمال شامل ہے۔

ہسپانوی میڈیا کی شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین انھیں خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں۔ کئی افراد نے ان کا میم دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ’آج بہت دکھی دن ہے۔‘

اے بی سی سیولے کے مطابق، صحت خراب ہونے کے بعد ورجن ڈی روکا یونیورسٹی میں بدھ کی سہ پہر وہ اس دنیا کو دکھی چھوڑ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18889 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp