کورونا وائرس: ’یہ کتنی بُری بات ہے کہ اگر آپ امیر نہیں یا آپ کا اثر و رسوخ نہیں تو آپ کو ہسپتال میں جگہ نہیں ملے گی‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کورونا

Getty Images
فائل فوٹو

انڈیا میں کورونا کی وبا میں شدت کے دوران ہسپتال میں بیڈ کے حصول کے لیے ایک مریض کو 14 گھنٹے کا سفر کرنا پڑا ہے۔

اپنے خاندان کے ایک مریض کو ہسپتال میں داخلے میں مدد فراہم کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ ’میرے انکل کو ایک ایسے ہسپتال میں 14 گھنٹوں کا سفر کر کے پہنچنا پڑا جہاں ایک خالی بیڈ میسر تھا۔‘

برطانیہ کے علاقے سولیہل سے تعلق رکھنے والی روز ماہ رخ کا کہنا تھا کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی صورتحال بہت خراب ہے۔ ’اگر آپ کی کوئی سفارش یا تعلق نہیں ہے تو پھر آپ کو کسی ہسپتال میں بستر نہیں مل سکتا۔ جو کہ بہت بُرا ہے۔‘

ماہ رخ کے ایک اور انکل کی گذشتہ سال ستمبر میں کورونا سے وفات ہو گئی تھی۔

ماہ رخ کے انکل جو کینیڈا میں رہتے ہیں انڈیا اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے تھے جہاں وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ ان کے گھر والے ایک ایسی مقامی کمپنی کو جانتے تھے جو ہسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے انھیں آکسیجن تو مل گئی لیکن انھیں شہر کے ہسپتالوں میں کوئی جگہ نہیں مل سکی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کورونا کے پھیلاؤ کے وجوہات کو تسلیم کرنے پر تیار کیوں نہیں ہے؟

انڈیا کورونا کی خطرناک دوسری لہر کو روکنے میں ناکام کیوں رہا؟

کیا جون جولائی میں کورونا وائرس انڈیا میں تباہی مچانے والا ہے؟

انڈیا میں کووڈ کی وبا کے باعث دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک کے ہسپتالوں میں بستروں اور آکسیجن کی شدید کمی ہے۔

ماہ رخ کے ایک چچا پنجاب میں سیاست دان ہیں اور ان ہی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اُن کے کینیڈا سے آئے انکل کو ایک ہسپتال میں خالی بستر تو مل گیا لیکن وہ ہسپتال ان کی رہائش گاہ سے 14 گھنٹے کی مسافت پر تھا۔

ماہ رخ کا کہنا ہے کہ ’انھیں اتنی دور لے جانے میں یہ خطرہ اور خوف تھا کہ کیا وہ اس حالت میں اتنا لمبا سفر نہیں کر پائیں گے۔ ان کا آکسیجن لیول بہت کم تھا۔‘

ان کی حالت تھوڑی سے بہتر ہوئی لیکن پھر وہ کومے میں چلے گئے اور اب ان کو مصنوعی طریقے سے سانس دلائی جا رہی ہے یعنی وہ وینٹیلیٹر پر ہیں۔

ماہ رخ کا کہنا ہے کہ سب دعا کر رہے ہیں کہ ان کے انکل صحت یاب ہو جائیں اور کینیڈا اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ان کے انکل کو مرنا ہے تو کم از کم وہ اپنی فیملی کے درمیان تو مریں۔‘

ماہ رخ کے والدین انڈیا کی ریاست اتر کھنڈ کے علاقے نانکماتا میں رہتے ہیں اور وہ ہر روز ان سے بات کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہی ہیں۔ ’مجھے شدید بے بسی کا احساس ہو رہا ہے۔‘

ماہ رخ کا کہنا ہے کہ ’یہ کتنی بُری بات ہے کہ اگر آپ امیر نہیں ہیں اور آپ کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے تو آپ کو ہسپتال میں جگہ نہیں ملے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اس وبا کی دوسری لہر کے لیے تیار ہونے کے لیے بہت وقت تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو آکسیجن کی فراہمی کو بہتر بنانے اور صحت کی سہولیات بہتر کرنے کے لیے تین اہم اجلاس کیے جن میں آکسیجن کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ٹرینوں اور فوجی جہازوں کے استعمال میں لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

انڈیا کی ریاستوں اور یونین کے زیر انتظام علاقوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ انھوں نے کووڈ سے بچاؤ کی احتیاطی اقدامات پر عملدرآمد نہیں کروایا اور دوسری لہر کی کوئی تیاری نہیں کی جبکہ وبائی امراض کے ماہرین کئی ماہ سے اس کے بارے میں خبردار کر رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp