انڈیا میں کورونا کی تیسری لہر: اتر پردیش میں سائیکل پر اہلیہ کی لاش لے جانے کی تصویر کی مکمل سچائی کیا ہے؟

دلنواز پاشا - بی بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں امبرپور کی ایک تصویر کو سوشل میڈیا پر افسردہ تبصروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

اس تصویر میں ایک بوڑھے شخص کو اپنی اہلیہ کی لاش کو سائیکل پر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ دیگر تصاویر میں یہ شخص لاش کے پاس بیٹھا اپنی اہلیہ کا سر اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے ہے۔

یہ 55 سالہ تلک دھاری سنگھ ہیں جن کی اہلیہ راجکماری دیوی منگل کو جونپور میں کورونا وائرس کے باعث صدر ہسپتال کے باہر وفات پا گئیں۔

سرکاری ایمبولینس نے راجکماری دیوی کی میت کو اُن کے گاؤں تک پہنچا دیا تھا تاہم کورونا کے خدشے کے باعث کسی نے اُن کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کی۔

اس کے بعد جونپور پولیس نے اُن کا کریا کرم کیا۔

آخری رسومات کے خلاف احتجاج

جونپور کے اسسٹنٹ سپرینٹنڈنٹ پولیس (رورل) تریبھوون سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ‘پولیس کے پاس یہ تصویر پہنچنے کے بعد مدیہو پولیس سٹیشن کے اہلکار اس دیہات پہنچے اور آخری رسومات ادا کیں۔ افسوس کی بات ہے کہ گاؤں سے کوئی بھی اس میں شریک نہیں ہوا۔’

تریبھوون سنگھ کے مطابق ‘جب پولیس نے گاؤں کے پاس سے گزرنے والی ایک ندی کے پاس خاتون کی آخری رسومات ادا کرنے کی کوشش کی تو لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس کے بعد ان خاتون کا کریا کرم جونپور میں رام گھاٹ پر کیا گیا۔’

پولیس افسر نے بتایا کہ جب پولیس گاؤں پہنچی تو خاتون کے شوہر تلک دھاری سنگھ لاش کے پاس بیٹھے تھے اور گاؤں کے چند لوگ بھی وہاں جمع تھے۔

گاؤں والوں کا موقف

گاؤں کے ایک نوجوان چندن سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تلک دھاری سنگھ گاؤں میں تنہائی میں رہتے ہیں اور اُنھوں نے اپنی اہلیہ کی وفات کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا۔

چندن سنگھ کے مطابق راجکماری دیوی کئی دنوں سے بیمار تھیں اور پیر کو تلک دھاری سنگھ اُنھیں کسی طرح جونپور میں صدر ہسپتال لے گئے لیکن اُنھیں وہاں داخل نہ کروا سکے۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘تلک دھاری کے پاس فون بھی نہیں ہے۔ جب اُن کی اہلیہ کی وفات ہوئی تو وہ اُنھیں ایمبولینس سے اپنے گھر تک لائے۔ اس وقت تقریباً رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ کورونا کی وجہ سے اپنے گھروں میں تھے اس لیے اُنھیں ان کی موت کا پتا نہیں چل سکا۔’

چندن بتاتے ہیں کہ ‘وہ کسی کو بتائے بغیر لاش کو اپنی سائیکل پر لاد کر چلنے لگے۔ جب اُن کی سائیکل ایک جگہ گر گئی تو گاؤں کے لوگوں نے اُنھیں دیکھا اور آخری رسومات میں مدد کرنے کی پیشکش کی۔ دریا کے کنارے آخری رسومات ادا کرنے کی کوشش کی گئی مگر پڑوسی گاؤں کے رہائشیوں نے اس کی مخالفت کی۔

چندن کا دعویٰ ہے کہ کریا کرم کے لیے اُنھوں نے بذاتِ خود لکڑی جمع کی۔ ‘گاؤں کے 20 سے 22 لوگ موجود تھے۔ اُنھوں نے راجکماری دیوی کو کندھا دیا اور اُن کی میت دریا کنارے لے جائی گئی تاہم قریبی دیہات کے رہنے والوں نے احتجاج شروع کر دیا۔’

اُنھوں نے بتایا کہ اس کے بعد پولیس بلوائی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ تنازعے سے بچنے کے لیے آخری رسومات جونپور میں ادا کی جائیں گی اور پھر پولیس نے ہی جونپور میں یہ کام سرانجام دیا۔

دعووں میں تضاد

مگر مقامی صحافیوں اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص راجکماری کی آخری رسومات کے لیے تب تک سامنے نہیں آیا جب تک پولیس نہیں آ گئی، اور جب پولیس نے گاؤں میں آخری رسومات ادا کرنے کی کوشش کی تو دیہاتیوں نے کورونا وائرس کی وبا کا جواز پیش کرتے ہوئے ایسا کرنے سے روکنا چاہا۔

اے ایس پی تریبھوون سنگھ کہتے ہیں کہ ‘جب پولیس گاؤں پہنچی تو آخری رسومات نہیں ہو رہی تھیں۔ یہ پولیس ہے جس نے امن و امان کے ساتھ آخری رسومات کا انتظام کیا۔’

مقامی صحافی عارف حسینی کہتے ہیں کہ ‘جب سائیکل کی تصویریں وائرل ہوئیں تو پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا۔ گاؤں سے کوئی بھی شخص سامنے نہیں آیا تھا اور اب اُنھیں اس معاملے پر شرمندگی ہو رہی ہے۔’

عارف کہتے ہیں کہ آج سے پہلے کبھی جونپور میں ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ ‘اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ کورونا کی وبا نے انسانی تعلقات اور حساسیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔’

چندن سنگھ کے مطابق امبرپور ساڑھے چار سو رہائشیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اُن کے مطابق اس وقت گاؤں میں پانچ ایسے لوگ ہیں جن کی کورونا رپورٹ مثبت آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر گاؤں میں ٹیسٹ کیے جائیں تو یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہاں لوگوں میں کورونا کا بہت زیادہ خطرہ موجود ہے۔ زیادہ تر لوگ گھریلو اور زرعی کام کاج کے بعد اپنے گھر تک ہی محدود رہتے ہیں۔’

اُن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے گاؤں میں عمر رسیدہ افراد کی ویکسینیشن نہیں ہو رہی۔ ‘جو لوگ جونپور جا سکتے تھے اُنھیں ویکسین مل چکی ہے مگر گاؤں میں ویکسین لگانے کے لیے کوئی ٹیم نہیں آئی ہے۔’

تصویر کے وائرل ہونے اور دیہاتیوں پر سوالات اٹھنے کے بارے میں چندن کا کہنا تھا کہ ‘ایسی تصویریں صرف تشخص خراب کرتی ہیں مگر یہ مکمل سچ نہیں ہوتیں۔ جیسے ہی دیہاتیوں کو اس خاتون کی موت کا پتا چلا تو اُنھوں نے آخری رسومات کی ادائیگی کی کوشش کی تھی۔’

تلک دھاری سنگھ گاؤں میں اپنی اہلیہ کے ساتھ اکیلے رہتے تھے۔ ان کی بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور ان کا بیٹا آج کل اپنی ایک بہن کے گھر رہ رہا ہے۔

تلک دھاری سنگھ کی معاشی حالت اچھی نہیں ہے اور اُن کے پاس موبائل فون بھی نہیں ہے۔ اس وقت وہ اپنے گھر میں بالکل تنہا ہیں۔

چندن سنگھ کے مطابق ‘کورونا کا خوف ایسا ہے کہ کوئی اُن کے گھر جا کر اُنھیں پوچھ بھی نہیں رہا۔ وہ پہلے بھی گاؤں میں دوسروں سے الگ تھلگ ہی رہتے تھے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp