نقشہ نویس جسے سویڈن کے جنگل سے کانسی کے دور کے زیورات ملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Bronze Age treasure from forest find, now in Gothenburg, 29 Apr 21

AFP
سویڈن میں پہلے کبھی اتنے بڑے پیمانے پر کانسی دور کی اشیا نہیں ملی ہیں

سویڈن میں ایک نقشہ نویس کو جنگل کے سروے کے دوران کانسی دور کے زیوارت ملے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2500 سال پرانے ہیں۔ اس انمول خزانے میں پچاس اشیا ہیں جن میں ہار، کڑے، اور لباس پر لگانے والی پنِ شامل ہیں۔

نقشہ نگار تھامس کارلسن کے کہنا ہے کہ ’پہلے مجھے لگا کہ یہ لیمپ ہے لیکن جب میں نے قریب سے دیکھا تو لگا یہ تو جیولری ہے۔‘

سویڈن کے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ذخیرے کی دریافت بہت ہی غیر معمولی ہے۔

پرانے زمانے میں قبائل ایسی اشیا کو دریا کے کناروں یا گیلے میدانوں میں چھوڑ دیتے تھے۔ پرانے زمانے کی جیولری کا یہ ذخیرہ ایک چٹان کے قریب زمین پر پڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

قدیم دور میں بنی اسرائیل بھنگ جلا کر عبادت کرتے تھے

پومپے کے کھنڈرات سے ’قیمتی خزانہ‘ برآمد

جب مصر میں ایک مقبرے کی دریافت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی جانور نے اس کو اپنی جگہ سے ہلایا جس کی وجہ سے ان میں کچھ نظر آ رہا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جیولری 750 سال قبل از مسیح سے 500 قبل مسیح کی ہے۔

Bronze Age treasure from forest find, now in Gothenburg, 29 Apr 21

EPA

مسٹر کارلسن کا کہنا ہے جب وہ زمین پر رکھے نقشے کو دیکھ رہے تھے جس پر وہ کام کر رہے تھے تو انھیں ایک دھات کی چمک محسوس ہوئی۔ ابتد میں انھیں لگا کہ یہ چونکہ اتنی اچھی حالت میں ہیں تو شاید نقلی ہو گی۔ انھوں نے پھر اس خزانے کی تصاویر آثار قدیمہ کے ایک مقامی ماہر کو بھیجیں۔

یہ تمام اشیا گوتھنبگ کے قریبی جنگل ایلنگساس سے ملی ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے خیال میں زیوارت کے اس ذخیرے کو دیوتا یا دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے جان بوجھ کر وہاں رکھا گیا تھا۔

Boulders at treasure site

Johanna Lega/vgregion
وہ جگہ جہاں سے پیتل کے زمانے کی زیوارت کا خزانہ ملا ہے

گوتھنبگ یونیورسٹی میں علمِ آثار قدیمہ کے پروفیسر جوہان لنگ کا کہنا ہے کہ زیورات اس تمام عرصے کے دوران بہت محفوظ رہے ہیں۔

گوٹسنبورگ پوسٹن نے پروفیسر جوہان لنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اشیا کسی اعلیٰ حیثیت یا امیر عورت یا خواتین کی تھیں۔ دریافت ہونے والی اشیا میں ایک ایسا راڈ بھی ہے جسے گھڑ سوار گھوڑے کو چلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Bronze Age ankle ring

Mats Hellgren/vgregion
خیال کیاجاتا ہے کہ ٹانگ میں پہنے والا کڑا ہے جسے پرانے دور میں پہنا جاتا تھا
A bronze pin for a cloak or robe - Alingsas find

Mats Hellgren/vgregion

سویڈن کے قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو ایسی نادر اشیا ملتی ہیں تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ پولیس یا مقامی حکام کو اس کے بارے میں آگاہ کرے کیونکہ یہ ریاست کی ملکیت ہے۔

البتہ سویڈش ورثہ بورڈ اگر سمجھے تو وہ ان نادر اشیا کو ڈھونڈنے والے شخص کے لیے کوئی انعام مقرر کر سکتا ہے۔

مسٹر کارلسن کا کہنا ہے کہ انعام ملے تو اچھا ہے لیکن ان کے لیے یہ بہت اہم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا تاریخی دریافت کا حصہ بننا اچھا لگتا ہے۔ ہمیں اس دور کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں کیونکہ اس وقت کے بارے میں کچھ لکھا ہوا نہیں ملا ہے۔

سکینڈنیویا میں کانسی کا دور 1700 قبل از مسیح سے 500 قبل از مسیح رہا ہے جس کے بعد لوہے کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔

لوہے کا دور 800 عسیوی تک جاری رہا۔

Archaeologist Mats Hellgren working at the site

Johanna Lega/vgregion
ماہر آثار قدیمہ میٹس ہیلگرن اس کا جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں جہاں سے نادر زیورات کا خزانہ دریافت ہوا ہے

آثار قدیمہ کی ماہر پرنیلا مورنر کا کہنا ہے کہ 1980 میں سکارابوگ میں کانسی کی تلواروں کی دریافت کے بعد سے کوئی ایسی بڑی دریافت نہیں ہوئی تھی جو اب ہوئی ہے۔

وی جی آر فوکس نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ گوتھنبگ میں ماہرین آثار قدیمہ اس علاقے کا بغور معائنہ کر رہے ہیں جہاں سے یہ اشیا ملی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18857 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp