پاکستان پر برطانوی پابندیوں کا اطلاق شروع، مسجد، مدرسے، ہسپتال کے فلاحی فنڈز بند

آج روزنامہ جنگ نے نے خبر دی ہے کہ برطانیہ نے پاکستان میں پابندیاں ہائی رسک قرار دے کر ترسیلات بھیجنے پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی اور ہیں فلاحی فنڈز رک گئے ہیں۔ برطانیہ سے پاکستان میں ماہانہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر ترسیلات بھیجی جاتی ہیں۔

خبر کے مطابق ترجمان اسٹیٹ بنک نے کہا کہ ہم گرے لسٹ میں نہیں، پابندیاں غلط ہیں، اور بنک ٹو بنک ترسیلات فی الحال جاری ہیں۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ ماہ پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل کیا، تنازعات اور دہشت گردی کے شکارممالک کی فہرست میں پاکستان 15 ویں نمبر پر ہے جس کے مطابق پاکستان پر ٹیکس نظام کمزور اور دہشت گردی و منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے رواں ماہ پابندیوں کا اطلاق بھی شروع ہو گیا ہے جس کے تحت برٹش پاکستانی ادارے اور افراد پاکستان میں کسی مسجد، مدرسے، ہسپتال سمیت فلاحی اداروں کو برطانیہ سے ترسیلات نہیں بھیج سکیں گی۔ برٹش پاکستانی اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی فلاحی سرگرمیوں کے لئے ترسیلات نہیں بھیج سکتے ورنہ ان کے بنک اکاؤنٹ بند کر دیے جائیں گے۔

جنگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان ترسیلات بھیجنے والے برٹش پاکستانی اداروں کے بنک اکاؤنٹس وجہ بتائے بغیر بند کیے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دوسری جگہ اکاؤنٹ کھولنا بھی مشکل ہو گا۔ سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پابندیاں حقائق کے منافی ہیں جس پر نظر ثانی کرنی چاہیے چونکہ پاکستان ابھی گرے لسٹ میں شامل نہیں ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words