ایک اہم سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدائی کو برداشت کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ اپنے پیاروں کی وقتی جدائی سے ہی لوگ بے حال ہو جاتے ہیں چہ جائیکہ مستقل جدائی۔ اسی لئے دیکھا گیا ہے کہ جب اپنے پیارے بالخصوص بزرگ یا والدین داغ مفارقت دینے کے قریب ہوتے ہیں، ان کی ہر خواہش کا خیال رکھا جاتا ہے ان کی ہر بات کی تعمیل ہوتی ہے۔ خاص طور پر وہ بات جو وصیت کے طور پہ کہی جاتی ہے اسے من و عن تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر بعینہ عمل بھی کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ دستور زمانہ بھی ہے اور رحلت کر جانے والے کے ساتھ ہمارا پیار کا رشتہ ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے اور وصیت پر عمل کیا جانا تو بچھڑنے والے کا حق بھی ہوتا ہے۔

اب میں بات کروں گا ہماری محبوب ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کی کہ جن کے ساتھ ہماری محبت کا یہ پیمانہ ہے کہ ہم ان کا اسم اطہر لینے کے ساتھ ہی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ ﷺ نے جب حجتہ الوداع کے موقعہ پر عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے ایک تو انہوں نے رنجیدہ کر دینے والی بات فرمائی کہ شاید اگلے حج کے موقعہ تک وہ صحابہ کے درمیان موجود نہ رہیں اور دوسرے خطبہ مبارک کے بعد آپ ﷺ نے اللہ کو گواہ بنا کر فرمایا کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا اور حاضرین کو تلقین کی کہ غیر حاضرین تک یہ پیغام پہنچا دیں۔

خطبہ سے قبل اور ما بعد کیے جانے والے ارشادات خطبہ کی تبلیغ و ترویج کو وصیت کا درجہ دیتے ہیں۔ اب ہماری کیا مجال کہ ہم چوں و چراں کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان پر دین کے پانچ فرائض کے بعد اگلی اہم چیز یہی ہے کہ تبلیغ کا کام کریں۔ ہماری حضور ﷺ سے محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ کام ضرور کریں ورنہ ہم محبت کے صرف دعویدار ہی تصور ہوں گے۔ کوئی مانے یا نہ مانے میں تو کہوں گا کہ یہ ہم پر فرض ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ خطبہ حجتہ الوداع کی ترویج یا تبلیغ جب فرض ٹھہری تو ہم یہ فریضہ کیسے ادا کریں تا کہ اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہوں؟

دین کا علم رکھنے والے اور مبلغ حضرات تو احسن طریقے سے یہ فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں جن لوگوں کو اللہ نے اپنا قلم استعمال کرنے کی صلاحیت بخشی ہے وہ قلم کے ذریعے اس فریضہ سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ ان صلاحیتوں کے حامل افراد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اکثریت یہ فریضہ کیسے ادا کرے؟ ہر چند کہ میرا تعلق تبلیغی جماعت سے نہیں مگر اس جماعت کے توسط سے اس فریضہ کو احسن طریقہ سے ادا کرنے کی راہ دکھائی دیتی ہے۔

ہم میں تعلیم، پیشہ اور فہم و فراست کے اعتبار سے متنوع اور ہر درجہ کے افراد شامل ہیں جو انفرادی طور پر اس فریضہ کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔ تبلیغی جماعت ہر قسم کے افراد کو ایسا فورم مہیا کرتی ہے کہ اپنے وقت کی گنجائش کے مطابق جماعت میں شامل ہو کر اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش ہوں۔ یہ عمل آپ کے لئے باعث اطمینان قلب بھی ہو گا اور جہان آخر میں حضور ﷺ کے سامنے سرخروئی کا باعث بھی۔ ایک اور فائدہ اس کا یہ ہے کہ جماعت والے جن لوگوں میں جستجو ہوتی ہے انہیں تو اچھا سکھا دیتے ہیں اور بنیادی چیزیں تو ہر ایک کو سکھاتے ہیں۔

ایک ضروری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ جماعت کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوتے ( میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں ) تو کوئی بات نہیں آپ اپنا کام کریں اور آ جائیں۔ یا پھر انفرادی طور پر یہ کام کر سکتے ہیں تو کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فن تحریر و تقریر میں ہر کوئی ماہر نہیں ہوتا۔ ماہر ہونے کی بات بھی چھوڑیں یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں لہذا ہمیں کسی ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت رہتی ہے جو ہمارے لئے اس فریضہ کی ادائیگی کو سہل بنا دے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کس نے ہمارے پیارے نبی آخر الزماں ﷺ کے اس ارشاد کی پیروی کی جس کی حضور ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر ہدایت فرمائی۔ یہ سوال ہر کوئی خود سے کرے۔ جواب اگر ہاں میں ہے تو بہت اچھا اگر نہیں تو اپنی اولین ترجیح کے طور پر یہ فریضہ ادا کیجیے۔ انفرادی طور پر کر سکیں تو ٹھیک ہے ورنہ اجتماعی طور پر جو بھی طریقہ آپ کو سہل لگے اس کے مطابق کیجیئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments