کورونا وائرس اور انڈیا کی صورتحال: وبا کے دوران انڈیا میں ٹھگوں کا کاروبار کیسے پنپ رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انڈیا

Getty Images

میرے ایک دوست کو آکسیجن کی ضرورت تھی۔ میں نے واٹس ایپ میسج بھیجا، بہت سارے دوستوں نے آکسیجن کی دستیابی کی ’تصدیق شدہ لیڈز‘ بھیجیں۔

جن نمبروں سے جواب موصول ہوئے تھے میں نے اُن میں سے ایک نمبر پر فون کیا۔ دوسری جانب سے کال ریسیو نہیں کی گئی لیکن کچھ منٹ بعد ایک مختلف نمبر سے کال موصول ہوئی اور کہا گیا کہ آکسیجن گھر پہنچا دی جائے گی مگر اس کی ادائیگی آن لائن کرنی ہو گی۔

کال کی دوسری جانب موجود شخص چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر دی جائے۔ پیچھے سے آوازیں آ رہی تھیں اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے بہت سے لوگ فون پر باتیں کر رہے ہیں یعنی ویسا ماحول جیسا کسی کال سینٹر میں ہوتا ہے۔

مجھ سے بات کرنے والا شخص پورے پیشہ ورانہ انداز میں بات کر رہا تھا، اس نے گھر کا پتہ لیا، ڈلیوری کا وقت بتایا اور سلینڈر دو گھنٹے میں پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے دور کے نیم حکیم

اترپردیش: ہسپتال کے باہر آکسیجن فراہم کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ

ریئلٹی چیک: لیموں سے آکسیجن حاصل کرنے کا مشورہ اور دیگر ٹوٹکوں کی حقیقت

کورونا: ’میں نے ان سے بستر طلب کیا تو انھوں نے مجھے لاشیں دکھائیں‘

بڑے سائز کے سلینڈر کی 7500 روپے میں گھر ڈیلیوری کے معاہدے کی تصدیق کرنے کے بعد میں نے صرف ایک روپیہ ریکارڈ کے لیے منتقل کیا، جو اس شخص کے اکاؤنٹ تک پہنچ گیا۔ جب میں نے اس سے ترسیل کے بارے میں پوچھا تو اس نے پوری رقم کا مطالبہ کیا اور تھوڑی دیر بعد جب اسے محسوس ہوا کہ میں اس کی چال کو سمجھ گیا ہوں تو اس نے میرا نمبر بلاک کر دیا۔

کووڈ وبا کے دور میں دھوکہ دہی کی یہ کوشش صرف میرے ساتھ نہیں ہوئی ہے۔ انڈیا میں ہزاروں لوگ اس طرح کے فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ مجرموں نے لوگوں کی ضرورت کو دھوکہ دہی کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔

پنپتا ہوا کاروبار

انڈیا

Getty Images

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر گنگا سہائی مینا سے بھی آکسیجن کے نام پر ایسی ہی دھوکہ دہی کی کوشش کی گئی۔ مبینہ طور پر کال کرنے والے نے انھیں اپنا کارڈ نمبر اور دوسرے فون نمبر بھی دیے تھے۔ لیکن پروفیسر مینا کو بھی فون نمبر چیک کر کے معلوم ہوا کہ ایک ٹھگ انھیں دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

پروفیسر مینا کا کہنا ہے ’آکسیجن کی کمی سے لوگ مر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں کچھ لوگ پریشان حال لوگوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کر منافع کما رہے ہیں۔ وہ ضروری طبی سامان من مانی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ، کچھ دھوکے باز لوگ بستر، آکسیجن اور دواؤں وغیرہ کے نام پر پیسہ کما رہے ہیں، سوچیے، اگر مریض کی دوائی کے پیسے کوئی چور لے کر بھاگ جائے تو کیسا محسوس ہو گا۔‘

لیکن ہر ایک کے پاس تفتیش کے لیے وقت نہیں ہوتا، جب کسی کے اپنے قریبی عزیز کی سانس اٹک جاتی ہے، تو خاندان کسی بھی قیمت پر آکسیجن خریدنے کا خطرہ مول لے لیتا ہے۔ انکیت پانڈے ایسے ٹھگوں کا شکار ہوئے ہیں اور ان سے 30 ​​ہزار روپے موصول کیے گئے۔ آکسیجن سلینڈر بھیجنے کا دعویٰ کرنے والوں نے اب اپنا فون بند کر دیا ہے۔

دہلی کے کرن بینی وال نے آکسیجن خریدنے کی کوشش میں اپنا آٹھ ہزار روپے کا نقصان کیا۔ انھوں نے دہلی پولیس میں ایف آئی آر درج کروانا چاہی تو انھیں ایک پولیس سٹیشن سے دوسرے سٹیشن بھیج دیا گیا۔

تاہم، دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات پر ایکشن لے رہی ہے۔

دہلی پولیس کے ترجمان چنمے بسوال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے بھی دھوکہ دہی کی اطلاع کے لیے ایک ہیلپ لائن کا اجرا کیا ہے۔ دہلی پولیس نے اس نوعیت کے معاملات میں کل دس ایف آئی آرز درج کی ہیں۔ ہم ایمبولینس سے اضافی کرایہ وصول کرنے پر بھی کارروائی کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو دہلی میں اس طرح کے فراڈ کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ہم سے رابطہ کر کے معلومات دے سکتا ہے۔‘

پولیس نے کارروائی کا دعوی کیا ہے

انڈیا

Getty Images

چنمائے بسوال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دہلی پولیس بلیک مارکیٹنگ، دھوکہ دہی یا دیگر جعلسازیوں سے متعلق ہر معلومات پر فوری کارروائی کر رہی ہے۔ ہم لوگوں سے بھی احتیاط برتنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘

بسوال کے مطابق دہلی پولیس اور نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا نے پیر کے روز ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے، جس میں ایسے اکاؤنٹس کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنھیں یہ جعلساز چلا رہے تھے۔

بسوال کا کہنا ہے ’ہم امید کرتے ہیں کہ فوری کارروائی کر کے ہم دھوکہ دہی کے 40 فیصد واقعات کو روک سکیں گے۔ اگر کسی کو دھوکہ ہوا تو وہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں۔ ایسا کرنے سے وہ دوسرے کے ساتھ دھوکہ دہی روک سکتے ہیں۔‘

امریکہ میں مقیم آشیش داس کا خاندان لکھنؤ میں رہتا ہے۔ گھر میں بیماروں کو آکسیجن مہیا کرنے کے لیے اس نے 50 ہزار روپے میں آکسیجن کنسنٹریٹر خریدنے کا معاہدہ کیا۔ آن لائن ادائیگی کرنے کے بعد ڈیلر کا فون بند ہو گیا۔

آشیش یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دے سکیں۔

لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش

وہ بیمار خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزار رہے ہیں۔ اس کے لیے صورتحال اتنی مشکل تھی کہ کئی دن تک اس نے 30 ہزار روپے کی قیمت پر سلینڈر آکسیجن گیس خریدی۔ اب کسی طرح وہ یہ آکسیجن امریکہ سے لکھنؤ بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔

کورونا وبا کے دور میں جہاں بہت سارے لوگ کسی طرح سے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ مجرم ایسے بھی ہیں جو لوگوں کی مجبوری کا فائدہ مختلف طریقوں سے اٹھا رہے ہیں۔

کانپور پولیس کمشنر عاصم ارون کے مطابق سائبر مجرم لوگوں کی شناخت کلون کر رہے ہیں اور بیماری کے نام پر دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی رقم مانگ رہے ہیں۔

عاصم ارون کا کہنا ہے کہ ’ایسے سائبر مجرموں سے صرف احتیاط کے ساتھ ہی بچا جا سکتا ہے۔ جو لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں وہ بھی پہلے اپنی سطح پر چیزوں کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ جب لوگ پریشان ہوں یا جذباتی ہوں تو آسانی سے شکار بن سکتے ہیں۔ ایسے جرائم کے بارے میں معلومات تک پہنچنا چاہیے تاکہ مجرموں کو پکڑا جا سکے۔‘

آکسیجن کونسیٹرٹر کی فروخت میں فرضی وعدہ صرف آن لائن دھوکہ دہی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ جعلی یا کم صلاحیت والے آلات کو بھاری قیمت پر لوگوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس طرح کے آکسیجن کونسیٹرٹر آن لائن فروخت ہو رہے ہیں، جن کی گنجائش فی منٹ میں ایک سے پانچ لیٹر آکسیجن بتائی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اتنا آکسیجن نہیں دے پاتے ہیں۔

دہلی میں دواؤں کی مارکیٹ میں میڈیکل سامان امپورٹر، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ ’انتہائی ناقص معیار کے کونسیٹرٹر اور آکسی میٹر مارکیٹ میں آئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’کچھ لوگ اس مشکل وقت کو پیسہ کمانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کوئی قابو نہیں ہے۔ کم از کم بڑے تاجروں کو بلیک مارکیٹنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔‘

کووڈ وبا کے اس دور میں ریمڈیسیویر نامی دوا کی بھی بہت زیادہ مانگ ہے۔ یہ دوا انڈیا میں آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں مصیبت میں پھنسے لوگ سوشل میڈیا کی مدد لیتے ہیں۔ اس دوا کی باقاعدہ مارکیٹنگ کی جا رہی ہے، کچھ ٹھگ جعلی انجیکشن بھی فروخت کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پولیس نے ایسے آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے جو جعلی ریمیڈیسویر فروخت کر رہے تھے۔

اندور کے آئی جی ہرینارائن چاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے جعلی دوائیں فروخت کرنے والے آٹھ افراد پر این ایس اے نافذ کیا ہے۔ لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ ہم بلیک مارکیٹنگ کی ہر اطلاع پر کارروائی کر رہے ہیں۔‘

انڈیا

Getty Images

ہرینارائن چری کہتے ہیں ’اس طرح کے جرائم کی روک تھام صرف عوام کی شرکت سے کی جا سکتی ہے۔ بہت سارے لوگ جن کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا رہی ہے وہ شکایات بھی درج نہیں کروا رہے ہیں۔‘

اترپردیش کے امروہہ میں اپنے بیمار دادا کے لیے بلیک مارکیٹ سے آکسیجن سلینڈر خریدنے والے ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جب آپ کے پیارے پھنس جاتے ہیں تو قیمت نہیں دکھائی دیتی ہے۔ ادھار لے کر میں نے سلینڈر خریدنے کے لیے رقم اکٹھی کی ہے۔‘

پولیس سے شکایت کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا ’ابھی دادا کی جان بچانے کے لیے کسی پریشانی میں نہ پھنسیں۔ پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے۔‘

اترپردیش کے پولیس قانون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پرشانت کمار کے مطابق یوپی میں ضلعی سطح پر پولیس نے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ہے جس پر لوگ کال کر کے بلیک مارکیٹنگ اور دھوکہ دہی کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں۔

یوپی پولیس نے اب تک بلیک مارکیٹرز سے 1082 مختلف انجیکشنز، 531 آکسیمٹرز اور 1120 آکسیجن سلنڈر اور 52 لاکھ سے زائد رقم برآمد کی ہے۔

پرشانت کمار کہتے ہیں ’یو پی پولیس بلیک مارکیٹنگ اور دھوکہ دہی کی ہر شکایت پر ایکشن لے رہی ہے۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ پولیس کو ایسے معاملات سے آگاہ کریں۔‘

قانونی پہلو

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پولیس کی یہ کوششیں دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ناکافی ہوں گی۔

سینیئر سپریم کورٹ کے وکیل ویرگ گپتا کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی ہوتی رہی ہے۔ اب ٹھگ مریضوں کے اہل خانہ کا شکار کر رہے ہیں۔ مجرموں کے انسان ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔ ہمیں سسٹم کو مضبوط بنانا ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہو گا۔ ہمارا موجودہ نظام اس طرح کے جرائم سے لڑنے کے قابل نہیں ہے۔‘

وراگ گپتا نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’بیشتر فراڈ بینکاری نظام کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ یہ جرائم اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ نظام کو مستحکم نہیں کیا جاتا اور بینکوں کی مجرمانہ ذمہ داری طے نہیں ہوتی۔ ایسے معاشی جرائم 99 فیصد عوام جو اس کا شکار ہیں وہ شکایت درج کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ایک فیصد کے درمیان کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہے جو شکایت درج کرنے کی ہمت کرتا ہے۔‘

انڈیا

Getty Images

گپتا کہتے ہیں، ’دو چیزیں دھوکہ دہی میں استعمال ہوتی ہیں۔ موبائل فون اور بینک اکاؤنٹ۔ حیرت کی بات ہے کہ لوگوں کو جعلی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس سے بھی موبائل نمبر ملتے ہیں۔‘

لوگوں کے ساتھ فرضی وعدے کرنے والے مجرم مختلف مقامات سے یہ جرائم کرتے ہیں۔ وہ کہیں بیٹھے ہیں، بینک اکاؤنٹ کہیں اور ہے اور جیسے ہی رقم پہنچتی ہے، وہ دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔‘

ویرگ گپتا کہتے ہیں، ’پولیس کے سامنے دائرہ اختیار سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جرم کہیں اور مجرم کہیں اور ہے۔ مقامی تھانے کی پولیس کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ دور بیٹھے مجرم کے خلاف فوری کارروائی کرے۔‘

بی بی سی نے جن پولیس افسران سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی ایسی دھوکہ دہی کو روکا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18889 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp