انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر: ’دنیا کی فارمیسی‘ کہلانے والا انڈیا کورونا وائرس کی افراتفری میں کیسے ڈوبا؟

وکاس پانڈے - بی بی سی نیوز، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انڈیا

Getty Images

رواں ہفتے کے آغاز میں انڈیا میں مرکزی حکومت کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ دہلی یا ملک کے کسی بھی حصے میں آکسیجن کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔

جس وقت وہ یہ بیان دے رہے تھے اس وقت اُن سے چند میل کے فاصلے پر واقع متعدد چھوٹے ہسپتالوں سے آکسیجن کی شدید کمی کے پریشان کن پیغامات بھیجے جا رہے تھے جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔

ایسے ہی ایک ہسپتال کے چیف ڈاکٹر جو بچوں کے امراض کے ماہر ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کو موت کے منھ میں جاتے ہوئے دیکھ کر ‘ہمارا کلیجہ منھ کو آیا ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے ایک مقامی سیاستدان کی مداخلت کی وجہ سے انھیں بروقت آکسیجن دستیاب ہو گئی۔

اس کے باوجود بھی مرکزی حکومت کا اصرار ہے کہ ملک میں آکسیجن کی کمی نہیں تھی۔ انڈیا کی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ افسر پیوش گوئیل کہتے ہیں کہ ‘ہمیں صرف آکسیجن کی ترسیل کا مسئلہ درپیش ہے۔’

انھوں نے ہسپتالوں سے یہ بھی کہا ہے کہ ‘وہ آکسیجن کا فی کس منصفانہ استعمال رہنما اصولوں کے مطابق یقینی بنائیں۔’

بی بی سی سے بات کرنے والے کئی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ ایک مریض کو اتنی ہی آکسیجن دے رہے ہیں جتنی کہ اُن کو ضرورت ہے، لیکن آکسیجن کی مقدار کافی نہیں ہے۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ آکسیجن کی کمی کئی مسائل میں سے ایک ہے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس چیلنج کے لیے پہلے سے تیار ہی نہیں تھیں، اس کی مناسب تیاری میں ناکامی، وبا کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والی تباہی پر قابو پانے میں بھی یہ بری طرح ناکام رہی ہیں۔

انڈیا میں آکسیجن کی قلت

Getty Images

ان حالات کے بارے میں کئی انتباہ جاری کیے گئے تھے:

پچھلے برس نومبر میں ایک پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امورِ صحت عامہ نے کہا تھا کہ اس وقت آکسیجن کی سپلائی ناکافی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں تو ‘بہت ہی کمی ہے۔’

اِس برس فروری میں کئی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ ایک ‘کووڈ سونامی کے آنے کا خطرہ’ محسوس کرتے ہیں۔

اس برس مارچ میں حکومت کے قائم کردہ ماہر سائنسدانوں کے ایک گروپ نے حکام کو خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کی زیادہ متعدی اور مہلک قسم ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ماہرین کے اس گروپ کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس نئی قسم کو روکنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔ حکومت نے اس الزام پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

اس کے باوجود آٹھ مارچ کو ملک کے وزیرِ صحت نے اعلان کیا تھا کہ ‘انڈیا اب اس وبا کے اختتامی مراحل’ میں داخل ہو چکا ہے۔

تو پھر یہ سب کچھ ایک دم الٹا کیوں پڑ گیا؟

بنیادی وجہ

اس برس جنوری اور فروری میں قومی سطح پر وائرس سے متاثرین کی روزانہ کی تعداد ستمبر میں 90 ہزار سے کم ہو کر 20 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ کووڈ کو شکست دے دی گئی ہے اور لوگوں کے جمع ہونے کے تمام مقامات پر سے پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔

لیکن پھر جلد ہی لوگوں نے کووڈ سے متعلق حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کرنا ختم کر دیا تھا جس کی وجہ اعلیٰ قیادت کی جانب سے ملے جلے پیغامات جاری کرنا تھا۔

ایک طرف تو وزیر اعظم مودی اپنے پیغامات میں لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ ماسک پہنیں اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں، تو دوسری جانب انھوں نے ماسک کے بغیر پانچ ریاستوں میں انتخابی مہم کے دوران سیاسی جلسوں اور جلوسوں سے خطاب بھی کیے۔

ان کے کئی وزرا بھی بغیر ماسک پہنے تقریریں کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ہندو تہوار کمبھ میلے کے انعقاد کو بھی روکا نہیں گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

انڈیا میں آکسیجن کی قلت

Getty Images

انڈیا میں صحتِ عامہ کی نظام اور پبلک پالیسی کے ماہر ڈاکٹر چندرا کانت لہریا کہتے ہیں کہ ‘یہ حکومت کے قول و فعل میں کھلا تضاد تھا۔’

وائرس کے امراض کے ماہر ڈاکٹر شاہد جمیل کہتے ہیں کہ ‘حکومت نے دوسری لہر کو آتے دیکھا ہی نہیں اور اپنی کامیابی پر جشن منانا شروع کر دیا۔’

لیکن اس داستان میں اور بھی باتیں بیان کرنا باقی ہیں: اس تباہی نے انڈیا کے صحتِ عامہ کے شعبے میں فنڈز کی کمی اور اس کو نظر انداز کیے جانے کے اہم مسئلے کو بہت زیادہ نمایاں کیا۔

ہسپتالوں کے باہر دیکھے گئے اذیت ناک مناظر، لوگوں کے علاج ملے بغیر ہلاک ہونے کے مناظر نے انڈیا کے صحت عامہ کے ڈھانچے کی سنگین حقیقت کو آشکار کیا۔

جیسا کہ ایک ماہر نے کہا کہ ‘صحتِ عامہ کا ڈھانچہ ہمیشہ ہی سے تباہ شدہ تھا، لیکن امیر اور متوسط طبقے کے لوگوں کو اب پتا چل رہا ہے۔‘ جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ ہمیشہ نجی ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہیں، جبکہ غریبوں کو ڈاکٹر سے صرف ملنے کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔

ہیلتھ انشورنس اور ادویات خریدنے کی امدادی قیمتوں جیسی حالیہ پالیسیاں ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف میں دہائیوں سے ہوتی ہوئی کمی کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔

انڈیا میں کورونا اعداد و شمار

BBC

انڈیا کے سرکاری اور نجی صحت کے شعبے میں گذشتہ چھ برسوں سے مجموعی قومی پیداوار کا تین اعشاریہ چھ فیصد خرچ کیا جا رہا ہے، جو ’برِکس‘ کہلانے والے ممالک (برازیل، انڈیا، چین، روس اور ساؤتھ افریقہ) میں سب سے کم ہے۔

سنہ 2018 میں برازیل نے نو اعشاریہ دو فیصد خرچ کیا ہے، ساؤتھ افریقہ نے آٹھ اعشاریہ ایک فیصد، روس نے پانچ اعشاریہ تین فیصد اور چین نے پانچ فیصد خرچ کیا تھا۔

ترقی یافتہ ممالک اس تناسب کے لحاظ سے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا اس شعبے میں کہیں زیادہ حصہ خرچ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر سنہ 2018 میں امریکہ نے 16 اعشاریہ نو فیصد خرچ کیا تھا، جرمنی نے 11 اعشاریہ دو فیصد خرچ کیا۔ بعض چھوٹے ممالک، مثلاً سری لنکا نے (تین اعشاریہ سات چھ فیصد) اور تھائی لینڈ نے (تین اعشاریہ سات نو فیصد) بھی صحت کے شعبے میں انڈیا سے زیادہ خرچ کیا۔

اور انڈیا میں ہر دس ہزار افراد کے لیے دس سے بھی کم ڈاکٹر ہیں، جبکہ بعض ریاستوں میں تو یہ شرح پانچ سے بھی کم ہے۔

تیاریاں

گذشتہ سال متعدد ‘بااختیار کمیٹیوں’ نے کورونا وائرس کی اگلی لہر سے نمٹنے کے لیے مختلف تیاریوں کا جائزہ لیا تھا، اسی لیے ان امور کے ماہرین آکسیجن، ہسپتالوں میں بستروں اور ادویات کی قلت سے پریشان ہیں۔

ریاست مہاراشٹرا کے سابق سکریٹری صحت، مہیش زگڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جب پہلی لہر ابتدائی سطح پر تھی، تب ہی سے انھیں دوسری لہر کو پہلی سے بھی زیاد بدتر سمجھتے ہوئے اُس کی تیاری کر لینی چاہیے تھی۔ انھیں آکسیجن اور (ادویات) کے اعدادوشمار کی فہرست تیار کرنی چاہیے تھی اور پھر ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے تھا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا طلب میں اضافے کے حساب کافی آکسیجن تیار کرتا ہے لیکن اس ضمن میں نقل و حمل مسئلہ تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بات بہت پہلے طے کر لینی چاہیے تھی۔

حکومت اب خصوصی ٹرینیں چلارہی ہے جو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں آکسیجن لے جا رہی ہیں اور صنعتوں میں آکسیجن کا استعمال روک دیا گیا ہے لیکن یہ سب کچھ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بہت سارے مریضوں کی موت کے بعد ہی کیا گیا۔

انڈیا

Getty Images
بہشت ہی تشویشناک حالت میں کئی مریض ہسپتالوں کے باہر بستروں کی فراہمی کا انتظار کرتے رہے۔

ڈاکٹر لہریہ نے بتایا کہ ‘اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مایوس ہونے والے خاندانوں کے افراد اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے بلیک مارکیٹ سے آکسیجن سلنڈر ہزاروں روپے خرچ کر کے حاصل کر رہے ہیں اور پھر اسے بھروانے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔’

دریں اثنا، جو لوگ اس خرچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں وہ بھی ریمڈیسیور اور ٹوزیلزوماب جیسی دوائیں خریدنے کے لیے بھاری رقوم ادا کر رہے ہیں۔

ریمڈیسیور تیار کرنے والی ایک فارماسوٹیکل کمپنی کے ایک ایگزیکٹو نے کہا کہ جنوری اور فروری میں طلب کم ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ‘اگر حکومت کوئی حکم دے دیتی تو ہمارے پاس ذخیرہ ہوتا اور اس میں کوئی کمی نہ ہوتی۔ ہم نے پیداوار بڑھا دی ہے لیکن اب طلب میں بھی کافی اضافہ ہو گیا ہے۔’

اس کے برعکس جنوبی ریاست کیرالہ نے پہلے ہی اس اضافے کے لیے منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر اے فتاح الدین، جو ریاست کی کووڈ ٹاسک فورس کا حصہ ہیں، کہتے ہیں کہ ریاست میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ گذشتہ سال اکتوبر میں ضروری اقدامات کر لیے گئے تھے۔

انڈیا

Getty Images
مریضوں کے رشتے دار آکسیجن کے سلنڈر بھروانے کے لیے ہسپتالوں کے سامنے چکر لگاتے رہے۔

’ہم نے پہلے سے ہی ریمڈیسیور اور ٹوزیلزوماب اور دیگر ادویات کا کافی ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ آنے والے ہفتوں کے دوران طلب کے غیر معمولی اضافے سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس بھی کافی مقدار میں یہ ادویات جمع ہیں جو کہ ہمارے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔’

مسٹر زگڈے کا کہنا ہے کہ دوسری ریاستوں کو بھی ‘تکالیف سے بچنے کے لیے’ ایسے ہی اقدامات کرنے چاہیے تھے۔

مہاراشٹرا کے سابق سکریٹری صحت نے کہا کہ ‘سیکھنے کا مطلب ہے کسی اور نے یہ کیا ہے اور اب آپ بھی یہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب ہے کہ اس میں وقت لگے گا۔’

لیکن وقت ختم ہو رہا ہے کیونکہ اب دوسری لہر ان دیہاتوں میں پھیل رہی ہے جہاں صحت سے متعلق نظام اس اضافے سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے۔

روک تھام

وائرس کی جینوم سیکیوینسنگ نئی قسموں کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے جو قسمیں زیادہ متعدی اور مہلک ہو سکتی ہیں۔ انڈیا SARS-CoV-2 جینومک کنسورشیا (INSACOG) کو گذشتہ سال قائم کیا گیا تھا اور اس نے ملک میں 10 لیبارٹریاں نصب کیں۔

لیکن مبینہ طور پر اس گروپ کو ابتدائی طور پر فنڈنگ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ماہرِ وائرس، ڈاکٹر جمیل کا کہنا ہے کہ انڈیا نے سنجیدگی سے کام کرنے میں کافی تاخیر کی، جبکہ فروری سنہ 2021 کے وسط میں سیکیوینسنگ کی کوششوں کا ‘صحیح طور پر صرف آغاز کیا گیا’ تھا۔

انڈیا اس وقت اپنے تمام نمونوں میں سے صرف ایک فیصد کی سیکیوینسنگ ترتیب دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس کے مقابلے میں، برطانیہ وبائی مرض کے عروج کے زمانے میں 5 فیصد سے 6 فیصد نمونوں کی سیکیوینسینگ کر رہا تھا۔ لیکن آپ راتوں رات اتنی صلاحیت پیدا نہیں کر سکتے ہیں۔’

البتہ، انڈیا کی اصل امید ہمیشہ ویکسینیشن تھی۔

ویکسین

Getty Images
یہ عو رت ویکیسنیشن لگوانے کے لمحے کو محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔

“ایک خاتون نے، جن کا خاندان دہلی میں ایک نجی ہسپتال چلاتا ہے، بی بی سی کو بتایا ‘صحت کا کوئی بھی ماہر آپ کو بتائے گا کہ چند مہینوں میں پہلے ہی ایک ٹوٹے ہوئے صحت عامہ کے نظام کو بہتر کرنے کا کوئی عملی طریقہ موجود نہیں ہے۔’

‘کووڈ کے خلاف جنگ لڑنے کا سب سے بہترین اور موثر ترین متبادل آبادی کو جلد سے جلد ویکینیشن لگانا تھا تا کہ عوام کی اکثریت کو ہسپتالوں میں دیکھ بھال کی ضرورت ہی نہ پڑے اور اس وجہ سے وہ صحت کے نظام پر دباؤ نہ ڈال سکیں۔’

ڈاکٹر لہریہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان ابتدائی طور پر جولائی تک 30 کروڑ افراد کو ویکسینیشن لگانا چاہتا تھا ‘لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے پروگرام کو چلانے کے لیے ویکسین کی فراہمی کو محفوظ بنانے کی خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔’

‘اس کے اوپر والے حصے میں، اس نے بغیر کسی ویکسین کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنائے تمام بالغوں کے لیے ویکسینیشن کھول دی ہے۔’

اب تک ایک اعشاریہ چار ارب کی آبادی میں سے صرف دو کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کو مکمل طور پر ویکسینیشن دی جا چکی ہے، اور تقریباً 12 کروڑ چالیس لاکھ افراد کو پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔ انڈیا کے پاس آرڈر کے مطابق مزید لاکھوں خوراکیں ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ اُس کی ضرورت سے بہت ہی کم ہیں۔

مرکزی حکومت کو 45 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 44 کروڑ افراد کی ویکسینیشن کے لیے 61 کروڑ پچاس لاکھ خوراکیں کی ضرورت ہے۔ 18 سے 44 سال کی عمر کے درمیان باسٹھ کروڑ بیس لاکھ افراد موجود ہیں، اور ان کی ویکسینیشن کے لیے ایک ارب اور بیس کروڑ ڈوزِ کی ضرورت ہے۔

حکومت نے بین الاقوامی سپلائی کے وعدوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے برآمدات کے آرڈرز کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

حکومت نے ‘بائیوولوجیکل ای’ اور سرکاری سطح پر چلنے والے ‘ہفکن انسٹی ٹیوٹ’ جیسی دیگر فرموں کو بھی ویکسین تیار کرنے کے پروگرام میں شامل کر لیا ہے۔

اس نے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کو 60 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کے قرضے کی سہولت بھی فراہم کی ہے، جو آکسفورڈ-آسٹرا زینیکا کی ویکسینیشن تیار کرتا ہے جو انڈیا میں کوویشیلڈ کے نام سے تیار کر رہا ہے، تا کہ اس کی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔

ڈاکٹر لہریہ کا کہنا ہے کہ قیمتی جانیں بچانے کے لیے یہ فنڈز پہلے ہی دستیاب ہو جانے چاہیے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہمارے پاس اس پروگرام کو تیز کرنے کے لیے اور تیزی سے ویکسین لگانے میں کئی مہینے لگیں گے۔ اس دوران، لاکھوں افراد کو کووڈ لگنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔’

ماہرین کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ انڈیا کو دنیا کی فارمیسی کہا جاتا ہے اور اب اسے ویکسین اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر لہریہ کا کہنا ہے کہ ان تمام چیزوں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لیے بہتر تیاری کرنے کا ایک اہم پیغام بننا چاہیے، جس کا مطلب ہے کہ صحتِ عامہ کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری ہونا چاہیے کیونکہ ‘یہ یقینی طور پر آخری وبا نہیں ہے جس کے خلاف ہمیں لڑنا پڑے گا’۔

‘مستقبل کی وبائی بیماری کسی بھی پیش گوئی کرنے والے وقت سے پہلے آ سکتی ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp