سکول یا مدرسہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امام زین العابدین نے عراق میں جس مدرسے کی بنیاد رکھی تھی وہاں سے ایک ہی وقت میں سائنسدان اور محدثین ساتھ ”پاس آؤٹ“ ہوتے تھے۔ ایک طرف جہاں جابر ابن حیان اور ابن سینا جیسے سائنسدان تھے تو دوسری طرف اسحق بن راہویہ جیسے محدثین بھی اپنے علم کی روشنی سے دنیا کو منور کر رہے تھے۔ امام ترمذیؒ اتنے بڑے حدیث کے عالم تھے تو اپنے وقت کی سرجن بھی تھے۔ انگریز آیا اور چلا بھی گیا لیکن جو تعلیمی نظام کی تقسیم وہ ہندوستان میں کر کے گیا اس نے مسلمانوں سے تعلیم، تحقیق اور تخلیق سب کچھ چھین لیا۔

زمانہ ہوا کہ مدارس سے کوئی تحقیقی یا تخلیقی کام انجام پایا ہو۔ امام ابو حنیفؒہ کیا کمال یہ تھا کہ انھوں نے سالوں لگا کر کئی کئی مہینوں کی محنت کے بعد اس وقت کے جدید مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا۔ امام ابو حنیفہؒ کو گزرے تیرہ سو سال ہوچکے ہیں اور آپ دوسری طرف آپ ہمارا حال دیکھیں بجائے اس کے کہ آج کے دور کے مسائل کو قرآن و حدیث کے مطابق حل کریں ہم امام ابو حنیفہ کی ہی تحقیق کو پڑھ پڑھ کر ان کے گن گا گا کر خوش ہیں۔

آپ ہمارا المیہ ملاحظہ کریں  دنیا کی کوئی جدید تحقیق یا ایجاد فارسی میں نہیں ہے لیکن ہمارے مدارس ابھی تک اسی کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ مدارس میں ابھی تک منطق اور فلسفے کی وہی کتب پڑھائی جا رہی ہیں جو شاید انگریز کے ہندوستان آمد کے وقت پڑھائی جا رہی تھیں۔ جس طرح ہمارے لیے انگریز کافر ہے۔ ہمارے مدارس میں انگریزی اس سے زیادہ کافر ہے۔ آپ کو پاکستان کے کسی ایک مدرسے میں آئنسٹائن یا نیوٹن پڑھنے یا پڑھانے والا نظر نہیں آئے گا۔

دنیا کی کوئی ریسرچ یا ریسرچ پیپر سرے سے ہمارے مدارس میں ”حرام“ ہے۔ ہمیں اسٹیفن ہاکنگ تک میں سوائے کفر کے اور کوئی دوسری خوبی نظر نہیں آتی ہے۔ اور بھلا آئے بھی کیسے؟ ہم اپنے مسلک اور فرقے تک سے باہر سوچنے کے لیے تیار نہیں ہیں آئنسٹائن اور نیوٹن جیسے کافروں کو کیونکر گھسا لیں؟ آپ اس سب کو بھی چھوڑیں ہمارے مدارس میں مدت ہوئی قرآن و حدیث پر ہی کوئی تحقیق کام نہیں ہوا۔ المیہ تو یہ ہے کہ مدارس سے کوئی امام بخاری اور غزالی تک بننے کو تیار نہیں ہے۔

اپنے اسلاف کے کاموں پر اکتفا ہی واحد ”علم“ ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب خود بول چکے ہیں کہ مدارس میں بڑے پیمانے پر نصاب اور نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن ان کی یہ خواہش تاحال خواہش ہی ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے بتایا کہ ہم نے اپنے استاد سے شکوہ کیا کہ ترمذی شریف کی جلد دوئم جو شروع تا آخر معاملات ہیں آپ نے ہمیں سرسری پڑھا دی لیکن فقہی مسائل پر کئی کئی دن لگا دیے۔

دوسری طرف وہ تعلیمی نظام ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیز کو بھر بھر کے ”نوکر“ فراہم کرہاً ہے۔ جہاں سے سوچ ہی غلامی کی پیدا ہو رہی ہے۔ جن کا سارا ایمان اور اسلام سب کچھ ”پیسہ“ ہے۔ جو جیتے ہیں تو ”پیسے“ کے لیے اور مرتے ہیں تو ”پیسے“ پر۔ ہمارے اسکولز کے پاس تو شاید دین کی بنیادی تعلیمات تک دینے کا وقت نہیں ہے۔ آپ اسکولوں میں جا کر نویں، دسویں، او یا اے لیولز کے طلبہ و طالبات سے وضو اور غسل کے فرائض ہی پوچھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔

جس طرح مدارس میں نیوٹن اور آئنسٹائن ”شجر ممنوعہ“ ہیں ٹھیک اسی طرح کا سلوک ہمارے اسکولز نے امام بخاری اور امام غزالی کے ساتھ کر رکھا ہے۔ طلباء کو چھوڑیں اساتذہ اکرام کی اکثریت قرآن و حدیث کی بنیادی تعلیمات تک سے نابلد ہے، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اس ”چومنے اور ڈر ڈر کر چھونے“ والی کتاب قرآن کا ہماری عملی زندگی سے کیا تعلق؟

جنھوں نے کوئی بیچ کا راستہ نکالنے کا سوچا انھوں نے حفظ کا ایک الگ سیکشن بنا کر اپنی حجت تمام کردی۔ میں نے ایک اسکول کے باہر ”تیز ترین حفظ کی کلاسسز“ تک کا بورڈ لگا دیکھا ہے۔ ہمارا پورا دین اور اسلام سمٹ کر تیز ترین حفظ میں آ گیا ہے۔ اب حفظ کی کلاسیں بھی موبائل اور انٹرنیٹ کمپنیز کی طرح ایڈورٹائز کی جا رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کچھ عرصے بعد ”فور۔ جی“ حفظ کی کلاسسز کا بورڈ بھی کہیں آویزاں ہو جائے گا۔

اب ہمیں اس طبقاتی نظام تعلیم سے جان چھڑا لینی چاہیے ایسے اسکولز کی اشد ضرورت ہے جو ایک طرف فن لینڈ اور جاپان جیسے جدید ماڈلز رکھتے ہوں اور دوسری طرف دین کی اصل روح قرآن و حدیث کو بطور سسٹم ان اسکولوں میں پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہو۔ جب دنیا کے تمام مضامین ”ایکٹیویٹیز“ کی صورت میں کئیے جا سکتے ہیں تو قرآن کو بھی ”ایکٹیویٹیز“ کے ذریعے سے بچوں کے لیے دلچسپ کیوں نہیں بنایا جاسکتا؟ کیا ضروری ہے کہ قرآن کا نام آتے ہی بچوں کے دلوں پر محبت کے بجائے خوف کو غالب کیا جائے؟

کیا وجہ ہے کہ بچہ دین کا نام سنتے ہی سمجھ لے کہ اب میرا کھیل کود سب کا سب ختم ہو گیا ہے؟ وہ سائنس کے بارے میں سوچے، ریاضی پر غور و فکر کرے، آئی۔ ٹی کے حوالے سے ہر نئی معلومات حاصل کر لے لیکن نہ قرآن کے بارے میں اس کو سوچ دی جائے، نہ ہی اس سائنٹفک کتاب پر غور و فکر کروایا جائے اور نہ ہی جدید زمانے کے لحاظ سے قرآن و حدیث سے کام لیا جائے۔

اس قرآن کو کون کیسے سمجھائے گا اور یہ قرآن آج اکیسویں صدی میں کیسے اپلائی ہوگا؟ اس کی فکر نہ مدارس کو ہے اور نہ ہی ہمارے جدید اسلامی اسکولز کو۔ جب تک مدارس کو اپنا نصاب اور لباس پیارا ہے اور اسکولز کو اپنے ”گریڈز“ ۔ اس وقت تک کے لیے

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *