کرسچن ٹرنر: غیر ملکی سفیر کی مرگلہ پہاڑیوں پر کچرہ جمع کرنی کی تصویر اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کا تو ہمیں نہیں پتا لیکن اگر ہم کسی خوبصورت اور پُرفضا مقام پر جاتے ہیں اور وہاں قدرتی خوب صورتی سے زیادہ انسانوں کا پھیلایا ہوا کچرا نظر آئے، تو ہمیں بہت کوفت ہوتی ہے۔

بالکل اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی طرح۔

خیر وہ تو ہم اور آپ سے بھی ایک آدھ قدم آگے ہیں۔

انھوں نے آج ٹویٹر پر مرگلہ کی پہاڑیوں میں اپنے مارننگ واک کی کچھ تصاویر شئیر کیں، اور رمضان کے مہینے میں سب کو یاد دلایا کہ ’صفائی نصف ایمان ہے!‘

https://twitter.com/CTurnerFCDO/status/1390503000767188993?s=20

ہائی کمشنر صاحب اپنے مارننگ واک میں وہ کوڑا جمع کرتے ہیں جو لوگ وہاں پھینک جاتے ہیں۔ ان کی ٹائم لائن پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا پہلی بار نہیں کیا۔ تیس اپریل کو بھی اسی طرح انھوں نے مرگلہ کی پہاڑیوں سے کچرے کے دو بڑے بیگ جمع کیے تھے، اور ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’خوبصورت اسلام آباد کو صاف رکھیں۔‘

https://twitter.com/CTurnerFCDO/status/1387963430330642435?s=20

تب بھی اور آج بھی انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت کو ٹیگ کیا ہے۔ تب بھی اور آج بھی ڈی سی کے دفتر اور حمزہ صاحب نے ان کے ٹویٹ کے جواب میں ’گریٹ‘ لکھا!

اب یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کو ڈی سی صاحب کا جواب اتنا ’گریٹ‘ نہیں لگا۔

ایک صارف نے ڈی سی صاحب کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا، ’سر، اس میں گریٹ کیا ہے؟ ایک غیر مسلم کا ہمیں اپنے ہی دین کے بارے میں سکھانا؟ یا پھر ایک سفیر کا ہمارے اپنے ہی قومی پارک کی صفائی کرنا؟‘

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں ایک دن میں کیا کیا دیکھا جا سکتا ہے

’مغرب کے بعد اسلام آباد کی ٹریل پر نہ جائیں!‘

اسلام آباد سے ’چار ہزار سال‘ قدیم برتن دریافت

عمر آفتاب بٹ نے لکھا ’آپ نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہو گا، اس لیے امید ہے کہ آپ یہ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ سفیر نے آپ کو ٹیگ کیوں کیا ہے؟‘

’اشارہ: آپ کی تعریف کے لیے نہیں۔‘

جواد تبریز نے لکھا، ’دارالحکومت میں ایک اور شرمسار کر دینے والا دن۔ رمضان کا مہینہ، جمعۃ الوداع اور ایک متاثر کُن غیر ملکی سفیر جو ہمیں ایک بنیادی عہد یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ پھر ایک بار!‘

جہاں کئی صارفین نے ڈی سی صاحب کے جواب پر تنقید کی، وہیں کئی نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ کام دراصل عام شہریوں کا بھی ہے اور عوام میں اس طرح کی عادات بچپن سے ڈالنے کی ضرورت ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی بشری گوہر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’اوروں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے کے لیے بہت شکریہ۔ پاکستان، اسلام آباد میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا بڑا مسئلہ ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میرے خیال میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی گھر پر اور سکولوں میں شہریوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتانا بہت اہم ہے۔‘

اس بات سے اتفاق نہ کرنا مشکل ہے کہ بچوں، بڑوں سب کو اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ صاف صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔

تو کیا خیال ہے، اگلی بار جب ہم آپ کسی خوبصورت، پُرفضا مقام پر تفریح کے لیے جائیں، تو اپنا کوڑا ایک تھیلے میں ڈال کر واپس گھر لے آئیں؟ پکا؟ گریٹ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19470 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp