EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ویکسین کا فتور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج کل میں راولپنڈی میں ہوں اور میاں جی کراچی میں۔ لاک ڈاؤن میں میاں کے پاس نا ہونا، زندگی کو خاصا مشکل بنا دیتا ہے۔ لیلیٰ مجنوں تو نہیں، ہاں مگر قرب سے خالی لمحے خاصا بے چین رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی رمضان۔ مجال ہے کوئی افطاری پہ بلا لے، اکیلا پن ہی دور ہو جائے کچھ دیر۔

سو اس اکیلے پن میں بڑے دنوں سے لوگوں کے تجربات رقم کر رہی تھی۔ سعودی عرب کے رشتے داروں میں ویکسین کے نتیجے میں ذرا سی بوجھل طبیعت کا احساس ہوا۔ امریکہ کے رشتے داروں میں ویکسین ماڈرنا/فائزر  کے نتیجے میں کسی کسی کو بخار اور سر درد ہوا۔ کراچی میں آکسفورڈ ویکسین  سے سارے جسم میں درد اور بخار ہوا۔ جبکہ سائنوفورم ویکسین سے زیادہ تر پاکستانیوں کو صرف تھکن کا احساس ہوا جو کہ ہماری قوم کو ویسے بھی نوے فیصد رہتا ہے۔

مگر ذہن میں ایک فتور نے جنم لیا کہ کہیں پانی تو نہیں لگا رہے۔ کہیں چائنا کی ویکسین چائنیز سامان کی طرح تو نہیں؟ نجانے کتنی ہی خرافات سر اٹھانے لگیں۔ مجھے اپنے اندر کے خوف اور بے اعتباری کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی اور نا ہی کوئی سرا مل رہا تھا۔ کیا میں ایک ایسے قبائلی کی طرح کا برتاؤ کر رہی تھی جو پولیو کے خلاف مہم پہ کرتے ہیں یا اس کی وجہ کچھ اور تھی۔ کہیں تیس سال کی عمر والوں کے اعلان کا انتظار تو نہیں تھا کہ زیادہ تر خواتین چالیس سال کے اعلان کے بعد چپ کیے بیٹھی تھیں۔

مجھے کہیں ایسا تو نہیں لگ رہا تھا کہ زہر کے انجکشن لگائے جا رہے تھے۔ مجھے اپنے دماغ کے اس خناس پہ عجیب سی الجھن ہو رہی تھی۔ اس کے لیے میں نے پورے تین دن واٹس ایپ کے مختلف گروپس کا سہارا لیا اور ان ہی کی آڑ میں نجانے کتنے ہی لوگوں کو ویکسین کے لیے قائل کر لیا مگر خود کو نہ کر سکی۔ اس ضمن میں میری سب سے بڑی کامیابی اپنے والد اور باس کو قائل کرنا تھا۔ قسمت تھی، کہ میرا کوڈ کراچی میں آ گیا۔ اندر سے عجیب سی خوشی بھی ہوئی مگر میرے سر کے تاج جو آج تک ایک دھوبی تک کو ٹیکسٹ کر کے بلانے پہ دس باتیں سنا دیتے ہیں، جھٹ سے میرا اسٹیشن پنڈی تبدیل کروا دیا۔ نجانے یہ مجھ سے محبت کی تجدید تھی یا کچھ اور۔ خیر میرا نمبر ایک دن میں ہی آ گیا۔ مجھے ذہنی طور پہ سکون دلانے اور سمجھانے والوں کی ایک لمبی فہرست بن گئی جو نجانے مجھے سمجھا رہے تھے یا خود کو تسلی دے رہے تھے۔

میں نے گاڑی صبح سوا آٹھ بجے اسپورٹس کمپلیکس کے سامنے روک دی۔ آنکھوں پہ یقین نہ آیا۔ بوکھلا سی گئی۔ ہو کا عالم تھا۔ دل ہی دل میں اسے گالیاں دیں جس کے مشورے پہ یہاں اندراج کروایا تھا، گھر سے 22 کلومیٹر دور۔ کچھ برا بھلا میاں کو بھی کہا کہ جنھوں نے شور مچایا ہوا تھا کہ ساڑھے آٹھ بجے شروع ہونے کا مطلب ہے آٹھ بجے پہنچ جانا۔ فوج میں اسے بی ایچ ایم ٹائم کہتے ہیں۔ مطلب اصل وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے بلانا۔ کچھ لمحوں بعد گیٹ پہ کچھ چہل قدمی نظر آئی۔

کچھ ڈرائیورز آوازیں دے کر صفائی والے کو بلا رہے تھے کہ اندر آنے دیا جائے۔ جناب ترس کھا کے گیٹ کھول دیا گیا اور ہم گاڑی باہر کھڑی کر کے اندر چل پڑے۔ اب دل ہی دل میں گاڑٰی کی فکر کہ میاں نے مجھے چھوڑنا نہیں اگر انہیں پتہ چل گیا کہ گاڑی نو پارکنگ میں کھڑی ہے۔ خیر اندر گئے تو پتہ چلا کہ ہال تو بند پڑے ہیں۔ گرمی سے برا حال تھا۔ خوف سے روزہ بھی چھوڑ دیا تھا کہ نجانے کتنی پیناڈول کھانی پڑیں گی۔ اندر آ کے جو لمبی چوڑی خوبصورت سی پارکنگ دیکھی تو خون نے للکارا۔

خیر خاموشی سے ہال کے باہر دستک دیے بغیر گرمی میں کھڑے دروازے کو تکتے رہے اور ہال کے دروازے پہ انتہائی اذیت سے لکھا گیا لفظ ”فیمیل“ دیکھتے رہے۔ کچھ مرد حضرات ضرورت سے زیادہ چستی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ جو اپنی خواتین کے ساتھ ساتھ اکیلی آئی خواتین کا ساتھ دینے کو بھی بے چین تھے۔ کئی آئے اور سمجھایا کہ تھک جائیں گی آپ، تشریف رکھیں، ہم ہیں نا۔ دل تو چاہا کہ پاس پڑی اینٹ سر میں رسید کر دوں، مگر خاموشی برقرار رکھتے ہوئے کچھ سوچ کے باہر گیٹ کا رخ کیا۔

ارے نہیں، اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ میں نے واپسی کی ٹھان لی بلکہ میرا رخ گارڈ کے کمرے کی جانب تھا۔ میں نے وہاں جا کے دریافت کیا کہ مین گیٹ کیوں بند ہیں تو اندر بیٹھے دونوں بندے باہر آ گئے جو غالباً موبائل پہ ویڈیوز دیکھنے میں مشغول تھے۔ نجانے کیا سوچ کے ڈر گئے کہ میں کون ہوں۔ میں نے کہا کہ فوراً گیٹ کھولو۔ میں نے گاڑی اندر لانی ہے۔ میری ماں مجھے شروع سے لیڈر کہتی تھیں اور چھپا کے رکھتی تھیں۔ شکر ہی ہے۔

خیر انہوں نے گیٹ کھول دیے اور میں گاڑی اندر لے آئی اور میرے پیچھے پیچھے تمام گاڑیاں اندر آ گئیں۔ میں نے باہر کا مین روڈ دو منٹ میں خالی کروا کے کارنامہ انجام دے دیا تھا۔ یہ نیکی کا کام کر کے جو واپس آئی تو ہال کا دروازہ کھول دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک شخص نے تنبیہ کی کہ دروازہ اس لیے کھولا ہے کہ آپ لوگوں کو گرمی لگ رہی ہے ورنہ دس بجے سے ایک منٹ پہلے بھی کام شروع نہیں ہو گا۔ میں نے کہا کہ ملک گیر سنٹرز کے اوقات تو ساڑھے آٹھ ہیں مگر وہ نہ مانا۔

ایسا محسوس ہوا کہ گویا گھر سے زہر پی کے آیا ہو۔ یہ آج دوسری شخصیت لگی جس پہ شک گیا کہ کبھی کبھی گھر سے زہر پی کے آتا ہے۔ پہلے کا نہیں بتا سکتی ورنہ میرا روشن مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ ہم نے کمپیوٹر کے سامنے لائن لگا لی اور طنزاً شکوہ کیا کہ اندر تو خاصی ٹھنڈ ہے۔ اس شخص نے مزید تلخی سے کہا کہ کھول دیتے ہیں کولر، صبر کرو۔ واہ ری سرد مزاجی۔ جب اساتذہ کی ڈیوٹی الیکشن میں لگی تو اس وقت تو کسی کے منہ سے شکوہ اور زہر نہیں نکلا تو پھر ابھی اسپورٹس کمپلیکس میں کیوں۔ خیر کمپلیکس کے ہال میں توانائی کا احساس ہوا مگر ساتھ ہی ایک خوف سرایت کر گیا کہ کہیں ٹیکہ لگانے والی اسٹاف، نرس کے کپڑوں میں باسکٹ بال کی کھلاڑی ہی نہ ہو جس کی زبردستی ڈیوٹی لگائی گئی ہو گی۔ الٹا ہی نہ پڑ جائے ادھر آنا۔

میرا نمبر پہلا تھا مگر مجھے کسی پرچی کا اجرا نہیں ہوا تھا۔ کہ اچانک خواتین کے ذمہ دار شوہر مجھے بتانے آئے کہ میں تھک سکتی ہوں، مجھے بیٹھ جانا چاہیے۔ مگر میری نظروں کو دیکھ کے وہ دوبارہ اور کچھ کہنے کی ہمت نہ کر پائے۔ میرے معدے میں تیزابیت نے پھن مارنے شروع کر دیے تھے۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ الزام تراشی ٹیکے کے بعد نہیں چلنی چاہیے کہ مجھے یہ مسئلہ پہلے سے ہے۔ اتنے میں اسٹاف آیا اور اس نے قسم کھا کے کہا کہ ایک گھنٹے سے پہلے کام شروع نہیں ہو گا۔ آپ بیٹھ جائیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ میرا نمبر پہلا ہے تو انتہائی احترام سے ایک جواب ملا، پتہ نہیں۔ مگر ساتھ کھڑی خواتین نے سمجھایا کہ آپ کا نمبر ہی پہلا ہے، ہمیں یاد ہے۔

بے اعتباری سے سب کو دیکھتے ہوئے میں آ کے بیٹھ گئی اور موبائل پہ گیمز کھیلنے لگی۔ اس سارے سلسلے میں، میں نے آن لائن کلاس بھی لی اور روزی حلال کی۔ مگر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اسٹاف آ کے بیٹھا اور کہا کہ شروع ہونے لگا ہے۔ بھاگ کے دس خواتین جا کے کھڑی ہو گئیں۔ غصے سے میرا دماغ گھوم سا گیا مگر جہاں خواتین ہوں وہاں لڑائی جھگڑا اور یہ سب تو ہوتا ہی ہے۔

خیر میں بھی اٹھی اور جا کے ٹیبل کے پاس کھڑی ہو گئی تو پہلے نمبر پہ کھڑی خاتون نے کہا کہ میں تو کب سے آئی باہر گاڑی میں بیٹھی تھی۔ دوسری اور تیسری نے بھی یہی کہا کہ وہ تو صبح سے آئی باہر گاڑی میں بیٹھی تھیں۔ میں نے ایک لیڈر کی طرح ان خواتین کو دیکھا جنھوں نے مجھے بیٹھنے کا مشورہ دیا تھا۔ ساری آ گے آ گئیں کہ ان کا نمبر پہلا ہے آپ لوگ ہٹ جائیں اور ایک منٹ سے کم میں لائن سیٹ ہو گئی میرے بغیر کچھ کہے۔ پرچی ملی اور مجھے کہا گیا کہ بیٹھ جائیں جب تک نرسنگ اسٹاف نہیں آتا۔

مگر اب مجھے کہاں رکنا تھا۔ پردوں سے اندر جھانکا تو ایک نرس سامان نکال رہی تھی یا باسکٹ بال کی کھلاڑی، خیر۔ میں نے سلام دعا کی اور باتیں شروع کر دیں اور کہا کہ اگر فارغ ہیں تو ایک ستم یہاں بھی کر دیں ٹیکہ لگانے کا۔ اس نے تہہ دل سے میری بات مان لی اور میں نے یہاں بھی کام شروع کروا دیا۔ مجھے ٹیکہ لگوا کے تیس منٹ بیٹھنے کا کہا گیا اور جس ذو معنی انداز میں کہا گیا اس نے میرے پیروں تلے زمین ہی کھینچ لی۔ یا خدا، ٹیکہ لگوا کے غلطی تو نہیں کر دی۔ یہ تو قے کر کے نکال بھی نہیں سکتے۔ اور قارئین وہ تیس منٹ میری زندگی کے لمبے ترین اوقات میں سے ایک تھے جنھوں نے مجھے میری اوقات یاد دلا دی۔ پہلے تو میں نے اپنے میاں کو بتایا اور تھوڑا کوسا بھی کہ کیوں لگوایا ٹیکہ میں۔ انہوں نے کچھ اور گوش گزار کر کے بم گرا دیے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں تو پہلے بلڈ پریشر، پھر آکسیجن اور روز مرہ میں لینے والی میڈیسن چیک کی جاتی ہیں پھر کہیں جا کے ٹیکے کی فٹنس ملتی ہے، مجھے تو گویا سکتہ طاری ہو گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہاں محض دس منٹ ہی روکا جاتا ہے۔ اس ساری ستم ظریفی اور بکواس میں صرف پانچ منٹ ہی گزرے۔ ایک ملاقات یاد آ گئی کہ جسے میں چاہ کے بھی طول نہ دے پائی اور دو گھنٹے محض دو ساعتوں میں گزر گئے تھے۔ اس وقت ایسا کیوں کر نہ ہوا۔

دوسری جانب سے میاں کی آواز آئی کہ کوئی ضرورت نہیں تیس منٹ بیٹھنے کی۔ کچھ نہیں ہو گا تمھیں (یہ جملہ خاصی مایوسی سے کہا گیا تھا) ، گھر جاؤ اب۔ خیر پھر ایک دو سہیلیوں کو فون کیا اور جب باس کو بتایا تو جواب ملا ”Good“ ۔ پتہ نہیں ایسا گڈ کبھی گڈ کیوں نہیں لگتا۔ خاص کر جب میاں اور باس کے منہ سے نکلے۔ یا ہم شاید بہت کچھ سننا چاہتے ہیں گڈ کی جگہ۔ تیس منٹ گزار کے گاڑی میں آئی اور کلاس لینے لگی۔ بچوں کو بتایا اور ساتھ ہی انہیں بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے سکھایا کہ دوسروں کو، اپنے بڑوں کو قائل کریں اور ویکسین کے لیے بھیجیں۔

بچے ویسے بھی اساتذہ کی ہر بات دل و جان سے مانتے ہیں سوائے پڑھائی کے۔ پھر فیس بک پہ اسٹیٹس لگایا۔ مگر تصویر کھینچنے کی محتاجی رہی کہ سیلفی لینی نہیں آتی۔ سارے راستے خود کو سمجھاتی رہی کہ کچھ نہیں ہو رہا مجھے۔ میں ایک خوش نصیب پاکستانی ہوں جسے ویکسین لگوانے کا موقع اس قدر آسانی سے مہیا کیا گیا۔ اللہ کا بہت شکر اور کرم ہے ہم سب پہ۔

ختم کرنے سے پہلے ایک آخری بات بتاتی جاؤں، ویکسین کے بعد دو دفعہ شدت سے بھوک لگی، سوچا گرائپ واٹر تو رگوں میں نہیں اتار دیا۔ خیر ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس فتور کو جھٹکا اور کچھ کھا کے سو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے