لیاقت بلوچ: جماعت اسلامی کے نائب امیر کا بیٹے کی پی ایچ ڈی پر ٹویٹ، سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

نازش ظفر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’جن کے خلاف آپ ہمارے بچوں کو لڑوا رہے تھے، وہ آپ کے بچوں کو ڈاکٹر بنا رہے تھے۔‘

پاکستان میں دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی ایک ٹویٹ پر ایسے کئی تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ایسا لگا جیسے پاکستان میں سوشل میڈیا پر وہی الفاظ دوبارہ یاد کروا دیے گئے ہیں جن سے لاکھ دامن چھڑاؤ، پھر بھی پیچھا نہیں چھڑوایا جاسکتا۔

ٹوئٹر پر لیاقت بلوچ صاحب نے بیٹے احمد جبران بلوچ سے متعلق محض ایک خوشخبری دی تھی کہ وہ ٹورنٹو کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے اپنے تھیسز کے دفاع میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عام طور پر تو ایسی پوسٹ پر مبارکباد کا جواب ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مگر اس ٹویٹ کے جواب میں مبارکباد کی آوازیں کہیں دب کر رہ گئیں۔ لیاقت بلوچ کے ٹویٹ پر تو جہاد، افغانستان، سوویت یونین، مغرب، مدارس، مخلوط تعلیم اور کشمیر سے متعلق تبصرے دیکھنے کو ملے۔

کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے رہنما کے قول و فعل میں تضاد ہے کیونکہ وہ ’دوسرے کو مغرب سے نفرت کا درس دیتے رہے مگر اپنی اولاد کو وہی مغربی تعلیم دلواتے رہے۔‘

تاہم لیاقت بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف رد عمل ’ایک منظم کوشش‘ کا حصہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خود ’گلبدین حکمت یار گروپ میں جہاد میں شامل تھے‘ اور ان کا بیٹا ’کشمیر میں جہاد میں حصہ لے چکا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو کیسے دیکھتا ہے؟

بہاولنگر کا ’ابو جندل‘: کشمیر ’جہاد‘ سے کرائے کا قاتل بننے کا سفر

پاکستان نام نہاد دولت اسلامیہ کے اثر سے کیسے بچا رہا

لیاقت بلوچ کے ٹویٹ میں آخر ایسا کیا تھا؟

اپنے بچوں کی کامیابی پر فخر کرنے والے کسی بھی والد کی طرح لیاقت بلوچ اپنے بیٹے جبران بلوچ کو سراہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’میرے بیٹے احمد جبران بلوچ نے ٹورنٹو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی تھیسز کے ڈیفنس کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔‘

اس کے بعد وہ تعلیمی میدان میں اپنے بیٹے کی کامیابوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے ’میڑک دی پنجاب سکول، جی سی لاہور گریجویشن، ایم ایس سی اکنامکس قائد اعظم یونیورسٹی، ایم فل بیکن یونیورسٹی، ایم بی اے یو ایم ٹی اور پی ایچ ڈی ایجوکیشنل لیڈر شپ پلاننگ اینڈ منیجمنٹ میں مکمل کی ہے۔‘

اس کے جواب میں ایک طرف کچھ لوگوں نے انھیں مبارکبار پیش کی مگر کئی صارفین نے الزام لگایا کہ ان کی مذہبی جماعت تو اسی اور نوے کی دہائی میں نوجوانوں کو افغانستان اور کشمیر کے مسئلوں پر ’ہتھیار اٹھانے‘ یا جہاد کی ترغیب دیتی تھی۔

ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ تدریسی عمل کے دوران اسلحہ کو اپنا زیور، افغانستان کو کوچہ جاناں اور اس وقت کے سوویت یونین کو رقیب روسیاہ مان کر جوانی بتا چکے ہیں۔

افغان جہاد، جس نے کئی پاکستانی نوجوانوں کی زندگی بدل دی

مجاہد بلوچ نامی ایک ’سابق جہادی‘ نے اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا کہ لیاقت بلوچ کی اس ٹویٹ نے ان کا دل اداسی سے بھر دیا ہے۔

‘آج لیاقت بلوچ نے ایک ٹویٹ میں اپنے بیٹے کی ٹورنٹو کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی خوشخبری سنائی تو دل کو بہت خوشی ہوئی کہ ایک نوجوان کو زندگی میں اپنا جائز مقام مل رہا ہے۔

’البتہ وہ تمام بے سرو ساماں چہرے نظروں کے سامنے گھوم گئے جو جہاد کے شوق میں افغانستان پہنچے اور نہ جانے کیسی کیسی سختیاں سہنے کے بعد یا تو وہیں دفن ہو گئے یا پھر واپس معاشرے میں پہنچے تو وہاں کوئی انھیں زندگی کی طرف لوٹانے میں مدد دینے والا موجود نہیں تھا۔’

مجاہد بلوچ نامی اس صارف نے بعد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے شہر ڈیرہ غازی خان میں ایم اے کی ڈگری کرنے کے بعد جماعت اسلامی کے گلبدین حکمت یار گروپ کے ساتھ مل کر افغانستان گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’افغانستان میں جس کے پاس گروہ تھا اسی کی حکومت تھی۔ اس لیے وہاں جہاد کرنے والے جب گھر واپس آتے تو انپیں ایک کمزور سا پولیس کانسٹیبل بھی روک کر بے عزت کر سکتا تھا جبکہ افغانستان میں وہ خود حکمران ہوا کرتے تھے۔‘

یہ لطف انھیں بار بار افغانستان لے جاتا تھا۔ ’اس لڑائی میں نوجوان کو وہ اسلحہ ہاتھ میں مل جاتا جو کبھی دیکھا بھی نہیں تھا، بہت سے نوجوان اس لطف کے لیے شامل ہو جاتے۔‘

آج وہ اپنے اس سفر کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہ جہاد بالکل بھی نہیں تھا۔ زیادہ تر گھر سے تنگ، بیروزگار اور الجھے ہوئے نیم خواندہ لوگ افغانستان جایا کرتے تھے۔ وہاں ان کی انا میں اسلامی پھونک بھری جاتی تھی اور وہ واپس آنے لائق نہیں رہتے تھے۔ الجھتے ہی چلے جاتے تھے۔’

زہرہ نامی ایک صارف نے ٹویٹ کے جواب میں لکھا ہے کہ ’مذہبی امیر اپنے بچے کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ ‘جبکہ فاطمہ نامی صارف پوچھتی ہیں کہ ’بہت مبارک ہو سر۔۔۔ بچے تو سُنا تھا سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ تو آپ نے اپنے بچوں کو جہاد کے لیے کیوں نہ بھیجا؟‘

اسی بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک موجودہ سرکاری ملازم اور سابق ’جہادی‘ نے کہا وہ اپنے اس ماضی سے ‘دستبردار’ ہو چکے ہیں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ لیاقت بلوچ کے بیٹے کے لیے خوش ہیں کہ اسے معاشرے میں جائز مقام مل رہا ہے۔ لیکن ’اُس وقت ایک ریاستی منصوبے کے تحت تمام روشن خیال ادارے تباہ کیے گئے اور نوجوانوں کو بتایا گیا کہ ڈگری، ٹیکنالوجی اور محنت سے ہٹ کر یہ ایک رستہ ہے جو شاندار ماضی کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ یعنی کامیابی کا شارٹ کٹ سکھایا گیا۔‘

‘نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے اپنے مطلب کی اسلامی تعلیمات کا سہارا لیا گیا اور کہا گیا مولانا مودودی کے فرمودات کے مطابق یوں نیا جہان پیدا کرنا ہے، نسیم حجازی اور ان جیسے لکھاری بھی اس منصوبے کا حصہ بنائے گئے۔ تمام ترقی پسند ادارے، تنظیمیں اور تحریکیں تباہ کی گئیں۔’

’میں نے خود جہاد میں حصہ لیا تھا‘

جماعت اسلامی کے نائب صدر لیاقت بلوچ نے بی بی سی سے اپنی ٹویٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف رد عمل ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خود گلبدین حکمت یار گروپ میں جہاد میں شامل تھے اور ان کا بیٹا کشمیر میں جہاد میں حصہ لے چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’امریکہ اور اس کے حمایتی ممالک نے اس وقت جہاد کی حمایت کی لیکن کیا انھوں نے (کیا) اپنی یونیورسٹیاں بند کر دیں؟ میں نے خود جہاد بھی کیا ساتھ اسی مغربی نظام تعلیم کے تحت پنجاب یونیورسٹی سے پڑھائی بھی کی۔‘

اسی تناظر میں پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے۔

سماجی کارکن عمار علی جان نے ٹوئٹر پر لکھا ’کہ لیاقت بلوچ نے کئی سال تک پنجاب یونیورسٹی میں طلبا اور طالبات کے ساتھ بیٹھنے کی مخالفت کر کے اخلاقیات کا پرچار کیا اور اب ان کے بیٹے نے اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے جو پارٹی سکول کے نام سے جانا جاتا ہے اور انھیں اس پر فخر بھی ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں۔‘

ان کا اشارہ جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف تھا جو بڑے عرصے تک پنجاب یونیورسٹی میں متحرک رہا ہے۔

ایک اور صارف نبیلہ فیروز بھٹی نے مبارکباد کے ساتھ لکھا انھیں ان والدین کے لیے افسوس ہو رہا ہے جو اپنے بچوں کو اس لیے بیرون ممالک سے ڈگری لیتا نہیں دیکھ سکے کیونکہ وہ جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے تھے۔

احمد خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ان کی جماعت نے غریبوں کے بچوں کو مدارس میں پڑھایا۔

کچھ صارفین نے لیاقت بلوچ اور ان کے بیٹے کی حمایت بھی کی۔

محمد سعد نامی ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ وہ مخلوط تعلیم کے خلاف ہی ہیں لیکن ان جیسے کئی نوجوانوں کے پاس مخلوط تعلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ’ان کا بیٹا ایسا سکول چلا رہا ہے جو مخلوط نہیں ہے اور یہی وہ کر سکتے ہیں۔‘

ندیم فاروق پراچہ معروف پاکستانی صحافی، مصنف اور سماجی مبصر ہیں۔ وہ خصوصاً اسی اور نوے کی دہائی سے اب تک پاکستان میں سیاست اور مذہب کے ملاپ سے سماجی اور ثقافتی تجربے کے مورخ اور ناقد رہے ہیں۔

بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی میں قول اور فعل کا یہ تضاد پرانا ہے۔

انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’مولانا مودودی کے بیٹے کہتے رہے کہ ہمارے باپ نے ہمیں مدارس میں نہیں بھیجا۔ میں تو کہتا ہوں اب یہ جماعت اسلامی خود اپنے نسیم حجازی کو ہی ٹورنٹو بھیج دے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19470 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp