حدیبیہ پیپر ملز کیس ہے کیا اور تحریکِ انصاف کی حکومت اس کی دوبارہ تفتیش کیوں چاہتی ہے؟

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت شریف خاندان کے ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کی دوبارہ تفتیش کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو قانونی ٹیم نے شہباز شریف کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ہے جس کے بعد ’حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تفتیش نئے سرے سے شروع کرنے کی بدایات دی جا رہی ہیں۔

وزیرِ اطلاعات نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے، اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے ناگزیر کیوں ؟

حدیبیہ کیس: درخواست مسترد، عمران نیب پر برہم

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’جو طریقہ حدیبیہ ملز کے معاملے میں پیسے باہر بھیجنے کے لیے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا اس لیے اس کیس کو انجام تک پہنچانا بہت اہم ہے۔‘

https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1391734188190093314?s=20

حدیبیہ پیپر ملز کیس ہے کیا؟

یہ وہ معاملہ ہے جس کا ذکر سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کی وجہ بننے والے پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اور پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دو ماہ کی تحقیقات کے دوران بھی سنائی دیتا رہا۔

حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔

اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں میاں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں میاں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔

یہ ریفرینس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

اسحاق ڈار

AFP
حدیبیہ پیپر ملز ریفرینس اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا

یہ مقدمہ دوبارہ کھولنے کی نیب کی درخواست مسترد کیوں ہوئی؟

خیال رہے کہ ملک میں احتساب کا ادارہ ’نیب‘ ماضی میں اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ تک جا چکا ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے اس کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرینس پر مزید کارروائی سے روک اور پھر سنہ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

اس کے بعد قومی احتساب بیورو نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

نیب حکام کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز کے علاوہ شمیم اختر اور صبیحہ شہباز کو بھی فریق بنایا گیا۔

اس اپیل میں نیب حکام کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حقائق کو دیکھے بغیر فیصلے دیے۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

نیب نے یہ بھی درخواست کی تھی کہ مقررہ وقت میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے سے متعلق قانونی قدغن کو بھی ختم کیا جائے۔

نیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے مقدمہ کھولنے کی درخواست رد کیے جانے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست بھی دائر کی تھی جو اکتوبر 2018 میں مسترد کر دی گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words