EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

برقی ووٹنگ یا انتخابی عمل کسے بدلا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ساسانی دور حکومت میں بادشاہ سلامت کی خدمت میں رعایا و امراء جو نذرانے پیش کرتے تھے۔ ساسانی اسے ”آئین“ کہتے تھے۔ سیاسی تاریخ کے ارتقاء بالخصوص یورپ میں جمہوری جدوجہد کے عمال افکار فرانس اور برطانیہ میں شاہی اختیارات پر بتدریج پارلیمان کی بالادستی نے

” آئین“ کے لفظ کو توقیر بخشی، چنانچہ اب جدید سیاسی لغت میں آئین یا دستور حکمرانی کا سب سے اہم قانونی نظم بن گیا ہے جس میں امور مملکت کے کردار انجام دہی حقوق اور فرائض اور حدود و اختیارات طے کر دیے جاتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ساسانی عہد کا ”آئین“ جو بادشاہ کی خوشنودی کا وسیلہ ہوتا تھا اب حکومتیں خود اس کی اطاعت و خوشنودی کی محتاج ہو گئی ہیں۔ البتہ استثنا کی عملاً گنجائش اب بھی مشاہدے میں اتی رہتی ہے بالخصوص پاکستان میں جو ایک پارلیمانی جمہوری آئینی ریاست ہے وہاں شاید اب بھی ”آئین“ کسی نذرانے سے زیادہ معتبر مقام حاصل نہیں کر سکا۔

کیونکہ جب جب طاقت (بادشاہ) کی خوشنودی کے مراحل درپیش آتے رہے ہیں آئین کی پاسداری کے محافظ ادارے طاقتور محافظوں کے حضور اسے نذرانہ ہی کہتے رہے۔ جمہوری اور منتخب ہونے کی دعویدار موجودہ حکومت کے قائد جنہوں نے آئین پاکستان کی حفاظت، پاسداری کا حلف لیا ہوا ہے وہ بھی ایک عرب سلطنت کے ولی عہد جیسے مستبدانہ اختیار حاکمیت کے طلب گار نظر آتے ہیں جیسا کہ جناب بشیر میمن نے الزام عائد کیا ہے۔ تو آئین ٍ پاکستان کو ساسانی عہد کے نذرانے سے دستور ٍ ریاست کی فضیلت و منزلت طے کرنے کے لیے ابھی کئی مرحلے طے کرنے باقی ہیں۔

آئین پاکستان کسی بھی پاکستانی کو جو دوہری شہریت کا مالک ہو انتخابات میں حصہ لینے، ووٹ دینے اور منتخب اسمبلی کا رکن بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدلیہ کے متعدد فیصلے دوہری شہریت کے حامل افراد کو نا اہل قرار دے چکے ہیں ماسوائے جناب فیصل واوڈا کے۔

آئین کہتا ہے کہ ہر وہ شہری جو ووٹر بننے کا اہل ہو پارلیمان کا رکن منتخب ہونے کے لئے انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے تا ہم صدر اور وزیراعظم بننے کے لئے عمر کی خاص حدود معین ہیں۔

8مئی کو صدر مملکت نے آئین کی شق 98 کے تحت تفویض شدہ اختیارات کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دیا ہے۔ قبل ازیں بھی ان تمام پاکستانی شہریوں کو رائے دہی کا حق میسر ہے سوال اس حق کے استعمال کا ہے۔ انتخابات کے دوران وہ بیرون ملک مقیم شہری اپنے حلقہ انتخاب میں جہاں وہ بطور ووٹر رجسٹر ہو پینچ کر ووٹ دینے کا مجاز ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی چاہتے ہیں کہ انہیں مقیم ملک میں رہ کر ہی ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دے دیا جائے۔

مذکورہ صدارتی فرمان میں بیرون ملک مقیم ان پاکستانیوں کے متعلق تاحال خاموشی اختیار کی گئی ہے جنہوں نے مقیم ملک کی شہریت بھی لے رکھی ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ملک میں پاکستانی سفارتی مشنوں کے ذریعے پوسٹل بیلٹ کا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے لیکن مسئلہ صرف حق رائے دہی برائے کار لانے تک محدود نہیں اس بحث کی تہہ میں مغربی مبطقے میں آباد پاکستانی شہریوں کی خواہش اقتدار ہے جو دوہری شہریت کے ساتھ پاکستان کے اقتدار سنگھاسن کا حصہ بننا چاہتے ہیں موجودہ حکومت تجویز، کرتی رہی ہے کہ ایسے پاکستانیوں کو انتخاب لڑنے کی مشروط اجازت دے دی جائے کہ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھانے سے قبل وہ غیر ملکی شہریت سے دستبرداری اختیار کر لیں گے۔ اس سوال پر سنجیدہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔

حالیہ صدارتی حکم مذکورہ دوہری شہریت والے افراد کو بھی رائے شماری میں شریک ہونے کا حق تفویض کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن یہ سوال بہر طور جواب طلب ہے کہ اگر دوہری شہریت والے پاکستانی ووٹر بننے کی درخواست جمع کرائیں گے تو کیا اس کے ساتھ اپنی دوہری شخصیت کا اعتراف کریں گے یا نہیں؟ کیا متعلقہ ملک میں پاکستانی سفارتخانہ اس نوعیت کے حلف کی جس میں دوہری شہری کی عدم موجودگی بیان کی گئی ہو تصدیق کرنے کا پابند ہوگا؟

اس نوعیت کے تصدیقی عمل کے بغیر دوہری شہریت کے حامل افراد کے لئے جعلی حلف نامہ داخل کر کے ووٹر بننے اور پھر انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینا سہل ہو سکتا ہے۔ البتہ کہا جاسکتا ہے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرتے ہوئے اسے دوہری شہریت سے دستبرداری کا حلفیہ بیان جمع کرانا ہوگا۔ لہذا اس تناظر میں تشویش کی اہمیت نہیں۔ لیکن جناب فیصل واوڈا کا کیس مذکورہ تشویش کے لئے معقول جواز بہم پہنچاتا ہے۔ موصوف اڑھائی سال تک غلط حلف نامے پر رکن قومی اسمبلی اور وزیر رہے اور اسی عرصہ میں نظام عدل کو مفلوج رکھ کر اس کی آنکھ میں دھول جھونکنے میں مکمل کامیاب رہے۔ موصوف اب سینیٹر ہیں۔ قومی اسمبلی کی رکنیت سے ان کا استعفیٰ دینا 2018 ءکے انتخابات میں کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع شدہ ان کے حلف نامے کے جعلی ہونے کا واضح اعترافی ثبوت ہے مگر۔

آئین کی شق 98 صدارتی آرڈیننس کی زیادہ سے زیادہ نافذ العمل مدت 120 بتاتی ہے مذکورہ مدت کے خاتمے کے بعد صدارتی فرمان زائل تصور ہوگا۔ تاہم اس عرصہ میں اگر پارلیمان اس فرمان کی توثیق کردے تو پھر وہ باضابطہ قانون بن جائے گا۔ پارلیمان مقررہ مدت سے پہلے صدارتی فرمان کو مسترد کردے تو بھی صدارتی حکم زائل ہو جائے گا۔

آئین حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ جاری کیے گئے صدارتی فرمان کو پارلیمان کے کسی بھی ایوان کے پہلے اجلاس میں پیش کرے لیکن اگر اجلاس بجٹ کے لئے طلب کیا گیا تو اس شرط کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں قیاس غالب ہے کہ صدارتی فرمان کے اجراء کے بعد اب شاید پارلیمان کے کسی بھی ایوان کا اجلاس بجٹ اجلاس تک طلب کرنے کا حکومتی ارادہ نہیں۔ دوم یہ کہ قانون میں ترمیم کے لئے حکومت کو قومی اسمبلی میں جو سادہ اکثریت دستیاب ہے اسے بروئے کار لا کر صدارتی فرمان کی توثیق کرانا ممکن ہے مگر سینیٹ میں اسے مشکلات درپیش آ سکتی ہیں جہاں حکومت کے پاس سادہ اکثریت موجود نہیں۔

دریں حالات کیا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف جناب گیلانی مذکورہ بل کی حمایت کریں گے یا مخالفت؟ ثانی الذکر عمل میں انہیں باپ کے عطیہ شدہ چار ارکان کی حمایت دستیاب رہے گی یا نہیں؟ یہ بہت نازک مرحلہ ہوگا کیا پی ڈی ایم اتحاد مذکورہ بل کی حمایت کرے گا؟ خاص طور پر سینیٹ میں جہاں حزب اختلاف تقسیم کی شکار ہے۔ ؟

یہ سوالات اس لئے ابھر رہے ہیں کہ اگر حکومت کو پارلیمان سے مذکورہ انتخابی اصلاحات کی منظوری کا یقین ہوتا تو وہ صدارتی فرمان جاری کرنے کی زحمت اور ندامت سے بچ سکتی تھی۔ لیکن حکومت نے عارضی قانون سازی کا سہارا لیا ہے۔ کیا صدارتی فرمان کی مقررہ مدت ختم ہونے قبل ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں؟ صدارتی فرمان یہ مخمصہ بھی ابھارا ہے

مذکورہ صدارتی فرمان میں الیکشن کمیشن کو آئندہ انتخابات میں برقی ووٹنگ مشین خریدنے (استعمال کا لفظ نہیں لکھا گیا) کا اختیار دیا گیا ہے۔ اگر اگلے 120 دنوں میں عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں جس کے لئے حکومت اپنی مرضی کی اصلاحات بذریعہ صدارتی فرمان جاری کرنے پر مجبور ہو گئی ہے تو کیا بجٹ کی منظوری سے قبل وزیراعظم قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں؟ بجٹ کی منظوری کا انحصار چونکہ جہانگیر ترین گروپ کے تعاون پر منحصر ہے جس کا حصول پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ تباہ کر سکتا ہے تو گماں کیا جا سکتا ہے کہ بجٹ سازی میں ناکامی کے حکومت کے خاتمے کی بجائے اسمبلی تحلیل کر کے سیاسی شہادت اور اصولوں کی فتح کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اولاً حکومتی ناکامی کے بوجھ سے نجات یا پھر نئے نعروں کے ساتھ عوام کو سبز باغ دکھا کر نیا مینڈیٹ لینے کی کوشش کر جائے۔ سوال در سوال پیچیدگیاں ابھر رہی ہیں

اگر پارلیمان نے مذکورہ بل مسترد کر دیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

کیا الیکشن کمیشن ای وی ایم خریدے گا؟ شاید نہیں۔ نیز فرمان کے استرداد کی صورت انہیں استعمال کرنے کا مجاز نہیں رہے گا چنانچہ خریدی گئی مشین فوری طور پر کارآمد نہیں ہوں گے۔ عجلت چغلی لگا رہی ہے کہ شاید کسی سرپرست دوست کو مذکورہ ای وی ایمز کی خریداری کے ذریعے فوائد پہنچانے کی سعی کی جا رہی ہے۔

ان مشینوں کی کارکردگی اور نتائج مرتب کرنے کی صلاحیت کے متعلق جب تک حزب اختلاف کو مکمل طور پر اعتماد نہ دلایا جاسکے یقیناً وہ ای وی ایمز کے حق میں قانون سازی کے لئے تعاون پر آمادہ نہیں ہوں گی۔ حکومت انتخابات کو غیر متنازعہ اور شفاف بنانے کے یہ برقی ووٹنگ کا نظام نافذ کرنے کی دلیل دے رہی ہے جبکہ انتخابات کی عدم شفافیت ووٹ ڈالنے کے طریق عمل تک محدود نہیں۔ قبل از پولنگ مخصوص جماعتوں اور افراد کو ملنے والی ریاستی سرپرستی مخالفین کے لئے مشکلات اور پھر انتخابی نتائج مرتب کرنے میں ہونے والی نا انصافی انتخابی دھاندلی اور الیکشن چوری ہو جانے کے عوامل و اسباب رہے ہیں جبکہ غیر مشینی طریقہ انتخاب میں کم از کم کچھ دستاویز دھاندلی ثابت کر نے کے لیے میسر ہوتی ہیں برقی مشین اور اس میں نصب کیا گیا پروگرام کیا کیا گل کلا سکتا ہے ماضی کے تلخ تجربات اس کی نشاندہی کرتے ہیں لہذا بنیادی استدلال ووٹ ڈالنے کے طریقے میں تبدیلی کارگر نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس انتخابی عمل میں آغاز سے اختتام تک طاقتوروں کی مداخلت ختم کرانے کے لئے انتخابی قوانین میں مطلوب اصلاحات جو محور ہونا چاہیے۔

ای وی ایمز کے استعمال کے لئے ایک ترمیم یہ بھی زیر غور لائی جا سکتی ہے کہ

ہر حلقہ انتخاب کا ایک عدد وٹس ایپ گروپ بنایا جائے جس میں ہر امیدوار کا نام اور انتخابی نشان نمایاں طور پر موجود ہو، جیسے ہی کوئی ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے واٹس ایپ گروپ میں اس امیدوار کے خانے میں ووٹ جمع ہو جائے۔ ووٹر کا نام اور شناختی کارڈ بیلٹ پیپرز نمبر الیکشن کمیشن اور نادرا کے ریکارڈ میں منتقل و محفوظ ہو جائے، جسے عذر داری کے کسی موقع پر الیکشن ٹربیونل میں پیش کرنا ممکن ہو۔

ہر انتخابی عذر داری پر۔ تین ماہ میں حتمی فیصلہ ہونا لازم ٹھہرایا جائے، یوں حکم امتناعی کے ذریعے پارلیمانی رکنیت سے مستفید رہنے کا سلسلہ ختم نہیں تو مختصر تر کر دیا جائے۔

واٹس ایپ گروپ کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ نتائج سے امیدواروں کی آگاہ سے پولنگ ختم ہوتے ہی حتمی نتیجے مرتب ہو جائے گا۔ تو گنتی میں ہونے والی بداعمالیوں کا بھی تدارک ہو سکتا ہے

ہماری سیاست، جمہوریت اور آئینی استحکام عدم اطمینانی کی مشکوک کھائی کی شکار ہو چکی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کو نذرانے کی قدیم ساسانی رسم سے عہد جدید کی سیاسی لغت و بلوغت سے مربوط کیا جائے۔ عوام و اقوام کو ملکی معاملات کے فیصلوں کا حتمی اور ناقابل تنسیخ حق لوٹا دیا جائے تو انتخابات کا سارا عمل شفاف اور قابل اعتبار ہو جائے گا۔ حالیہ صدارتی فرمان حکومت کی بوکھلاہٹ اور بے ہیجانی طرز عمل کے سوا کوئی تاثر پیدا نہیں کر رہا ہے یہ بذات خود ایک قابل تشویش بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے