دکن میں اردو: تحقیقی و تنقیدی جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولوی نصیرالدین ہاشمی نوائط خاندان سے تعلق رکھتے تھے اہل نوائط حجاز و عراق سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے پر امن طور پر تبلیغ اسلام اور اشاعت علم کی غرض سے ہندوستان کے مغربی ساحل پہنچے چار پشت تک گوا کی قفائت انجام دی ہر عہد عالم گیری میں سڈھوٹ کے قلعہ دار بنے وہاں سے ارکاٹ (مدارس) گئے اور تین پشت تک دیوانی کے فرائض انجام دیے۔ سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں بھی مصروف رہے۔

ہاشمی صاحب کی علمی زندگی کا آغاز بچپن سے ہی شروع ہوا سب سے پہلے انھوں نے بچپن میں اپنی درسی کتابوں سے ردیف و اشعار جمع کیے۔

والد مرحوم مولوی عبد القادر نے اس کتاب کا نام ”گلزار نصیری) رکھا اس کا مسودہ کتب خانہ خواتین دکن میں محفوظ ہے۔ 1911ء میں جب کہ آپ کی عمر 16 برس ہوئی آپ نے بھونگیر کا تاریخی معاشرتی اور تہذیبی تذکرہ حالات بھونگیر کے نام سے لکھا۔

مدرسہ دارالعلوم حیدرآباد سے منشی اور مولوی عالم یاس کرنے کے بعد خانگی طور پر مدارس یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان پاس کیا اور جامعہ عثمانیہ کے انگریزی میں میٹرک تک تعلیم پائی۔

دارالعلوم میں حضرت امجد حیدرآبادی کی شاگردی کا شرف حاصل رہا۔ یہ تعلق عمر بھر قائم رہا۔ ہندوستان کے مشہور کتب خانوں سے علمی پیاس نہ بجھی تو انگلستان، فرانس اور اٹلی کا تعلیمی سفر کیا وہاں کے کتب خانوں اور مغربی عالموں اور مسشترقین سے استفادہ کیا۔

ہاشمی صاحب کی ملازمت کا آغاز 1919ء میں قحط کے سلسلہ میں ہنگامی انسپکٹری سے شروع ہوا۔ 1920ء میں مستقل ملازمت دفتر دیوانی رومال (سنٹرل رکارڈ آفس) سے شروع ہوئی دس سال میں ہلکاری سے منطقی تک پہنچے دوسرے دس سال تک نائب مددگاری کی گزیٹیڈ خدمت پر مامور رہے اور آخری دس سال سر رشتہ رجسٹریشن واسٹامپ میں مددگار ناظم پھر رجسٹرار بلدہ اور کچھ عرصہ ناظم رجسٹریشن کی خدمت پرمامور رہے اور 1950ء میں وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔

تصانیف:
1) دکن میں اردو 1923 ء
2) سلاطین دکن کی ہندوستانی شاعری 1933ء
3) حضرت امجد کی شاعری 1934ء
4) مدارس میں اردو 1938ء
5) مقالات ہاشمی 1939ء
6) دکنی ہند اور اردو 1946ء
7) دکنی (قدیم اردو) کے چند تحقیقی مضامین 1943ء

اردو کی ابتداء اور آغاز کے بارے میں کئی مختلف اور متضاد و نظریات ملتے ہیں۔ یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے ۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداء برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔

کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتداء کاسراغ قدیم آریاؤں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداء کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔ اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداء مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔

دکن میں اردو:

نصیرالدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے پہلے عرب ہندوستان میں مالابار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ اسی میل ملاپ اور اختلاط اور ارتباط کی بنیاد پر نصیرالدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا۔

سندھ میں اردو:

یہ نظریہ سید سلیمان ندوی کا ہے جس کے تحت ان کا خیال ہے کہ مسلمان فاتحین جب سندھ پر حملہ آور ہوئے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی۔ اس دور میں مقامی لوگوں سے اختلاط و ارتباط کے نتیجے میں جو زبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ ان کے خیال میں :

”مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچے ہیں۔ اس لیے قعین قیاس یہی ہے جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں۔ اس کا ہیولہ اس وادیٔ سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔“

پنجاب میں اردو :

حافظ محمود شیرانی کے خیال کے مطابق اردو کی ابتداء اس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر بار حملے کر رہے تھے۔ اں حملوں کے نتیجے میں فارسی بولنے والے مسلمانوں کی مستقل حکومت پنجاب میں قائم ہوئی اور دہلی کی حکومت کے قیام سے تقریباً یہ فاتحین یہاں قیام پذیر رہے۔ اس طویل عرصے میں زبان کا بنیادی ڈھانچہ صورت پذیر ہوا۔

دہلی میں اردو:
ڈاکٹر مسعود حسین اور ڈاکٹر شوکت سبزواری کا خیال ہے کہ ”اردو دہلی اور نواح دہلی میں پیدا ہوئی ہے۔“

ان نظریات کے علاوہ میر امن، سرسید احمد خان اور محمد حسین آزاد نے بھی کچھ نظریات اپنی تصانیف میں پیش کیے لیکن یہ نظریات متعلقہ طور پر حقیقت سے دور ہیں اور جن کے پیش کنندہ گان فقدان تحقیق کا شکار ہیں۔

برج بھاشا:

اردو برج بھاشا سے نکلی ہے یہ خیال محمد حسین آزاد کا ہے مغل بادشاہ اکبر نے جب آگرہ کو اپنی راجدھانی بنایا، اسی زمانے میں اردو کے چند ابتدائی نمونے بھی ملتے ہیں برج بھاشا کا علاقہ آگرہ (اکبر آ اباد) اور اس کے گردونواح کو مانا گیا ہے اسی بنا پر محمد حسین آزاد نے یہ نظریہ قائم کیا کہ اردو برج بھاشا سے نکلی ہے۔

پالی:

اردو، پالی زبان سے نکلی ہے اس نظریے کے حامی شوکت سبزواری ہیں جمیل جالبی نے بھی اسی نظریے کے حامی ہیں۔

کھڑی بولی:

مسعود حسین خاں کا نظریہ ہے کہ اردو دہلی اور اس کے گرد و نواح میں بولی جانے والی بولیوں بالخصوص کھڑی بولی سے نکلی ہے انھوں نے مثالوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ کھڑی بولی اور اردو میں افعال بنانے کے طریقے یکساں ہیں اس کے علاوہ دونوں میں آواز کی ادائیگی میں بھی کافی یکسانیت ہے اردو کی تشکیل میں انھوں نے ہریانوی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے زبان کے زیادہ تر ماہرین اس نظریے سے متعلق ہیں کہ اردو کھڑی بولی سے نکلی ہے۔

تمہید:

1) جب ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ بودو باش اختیار کرتی ہے تو یہ انر ناگزیر ہے کہ بول چال اور کام کاج میں ایک کے الفاظ دوسرے کی زبان میں منتقل ہوں۔

2) ہندوستان ہمیشہ غیر اقوام کی آماجگاہ رہا ہے۔ آرین قوم نے شمالی ہند پر حملہ کیا اور یہاں کے قدیم باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ ان لوگوں کی زبان تامل، اڑیا، اور تلگو وغیرہ تھی چنانچہ آج تک دکن میں یہ قدیم زبانیں مروجہ ہیں۔

3) فاتحوں نے خیال کیا کہ عام مشوروں (مفتوح) کی زبان سے اپنی زبان بلند پایہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے قواعد اور اصول ترتیب دیے اور اپنی زبان کا نام سنسکرت رکھا۔ لیکن ان کی سنسکرت زبان کے مخرج اور تلفظ یہاں آ کر کچھ اور ہو گئے اور ہوتے ہوتے پراکرت زبان زبان خود بخود پیدا ہو گئی۔ پھر ایک زمانہ آیا پراکرت زبان ہی کل شاہی دفاتر اور دربار کی زبان ہو گئی۔ عام طور پر مذہبی کتب وغیرہ اسی زبان میں مرتب ہونے لگیں۔ لیکن تقریباً پندرہ سو سال بعد جب راجہ بکر ماجیت کے سر پر تاج شاہی آیا تو قدیم سنسکرت زبان کو پھر سے عروج حاصل ہوا اور وہ آب و تاب کے ساتھ پھیلنے لگی۔ غرض اسی طرح شاہی دربار، امراؤں اور پنڈتوں کی زبان سنسکرت رہی لیکن عوام میں وہی پراکرت درج رہی۔

4) پروفیسر وبؔمیر کی تحقیقات کی رو سے چھٹی صدی عیسوی میں بیس سے زیادہ پراکرت زبانیں بولی جاتی تھیں۔ جن میں پانچ زیادہ مشہور تھیں۔ یعنی پالیؔ، جینیؔ، مہارا شٹرؔی، شورابینی اور مگوہیؔ شورا بینی کا دوسرا نام برج بھاشا ہے۔ یہ زبان بہت وسیع علاقے میں بولی جاتی تھی۔ سندھ سے بہار اور لاہور سے مالرہ تک اس کی وسعت تھی۔ اردو زبان کا مخزن اسی برج بھاشا کو قرار دیا گیا تھا مگر جدید تحقیق کی رو سے یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔

5) یہ امر تقریباً تصفیہ شدہ ہے کہ اردو مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی میل جول سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے جن اصحاب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کی ابتداء سندھ اور دکن سے ہوئی وہ ایک حد تک غلط نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ مسلمانوں کی آمد سب سے پہلے ان ہی مقامات پر ہوئی۔

6) سندھ کی اسلومی حکومت کا آغاز712ءبمطابق 92ھ سے ہو چکا تھا اور صدیوں تک وہ یہاں حکومت کرتے رہے۔ حکومت کی رواداری اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے عام طور پر ملنے جلنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی تبادلہ خیالات کے مواقع پیدا ہو گئے۔ ان حالات کے پیش نظر اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے امتزاج سے جو زبان بنی اس کا آغاز اسی مقام سے ہواہے تو غلط نہیں ہو سکتا لیکن جو تحقیقات ہوئی ہیں اس لحاظ سے یہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ان فاتحوں کی اصل زبان عربی تھی۔

7) اپنی ملنساری اور نیک مزاجی سے ان کے دلوں میں گھر کر لیا اور وہ سواحل سے گزر کر اندرون ملک میں دور تک پہنچ گئے۔ اپنی مسجدیں تعمیر کیں، اپنی حکومتیں قائم کیں۔ اپنے مذہب کی اشاعت کی اور اپنی تعلیم کی تلقین کی۔

8) اب یہ امر خاص طور پر غور طلب ہے کہ جب مسلمانوں نے مدتوں دکن میں بودو باش کی اور حکومت قائم کی، تجارت کو فروغ دیا اور مذہب کی اشاعت کی تعلیم دی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا یہاں کے ملکی اور دیسی باشندوں کے ساتھ تھا۔ ہر وقت کام کاج اور خریدوفروخت میں ان سے سابقہ رہتا تھا تو ظاہر ہے کہ ایک خاص زبان کا پیدا ہونا ضروری تھا، جو دونوں غیر اقوام کے تبادلہ خیال کا ذریعہ بنی۔ اس لحاظ سے جو دعویٰ اردوکے دکن میں پیدا ہونے کا کیا جاتا ہے وہ بڑی حد تک درست ہو سکتا ہے۔

ادبی تاریخ نویسی تواریخ ادب کے دیباچوں کی روشنی میں نظریات
نصیرالدین ہاشمی کے مطابق:

میں نے دکن کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے مستند کتابوں سے لیا ہے اگرچہ ابتداء میں میرا اردادہ مختصر مضمون لکھنے کا تھا لیکن جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مضمون طویل ہوتا گیا اور رفتہ رفتہ ایک کتاب کی صورت ہو گئی۔ اس کتب میں میں نے ان اصحاب کے کلام کو بھی پیش کیاہے جو دکنی نہ تھے بلکہ یہاں صرف بودو باش اختیار کر لی تھی اور یہیں پیوند زمیں ہوئے میں نے اس امر کو اس لیے جائز رکھا کہ میر اور غالب جن پر دہلی ناز کرتی ہے وہ حقیقت میں دہلی کے نہیں بلکہ آگرے کے تھا۔

اس کے علاوہ میں نے دکن میں اردو کے اندرجو کچھ لکھا ہے اپنی استعداد اور پسند کا خیال رکھا ہے۔
ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے مطابق:

ادبی تاریخ ماضی کی بازیافت ہے اس کا ایک اہم مقصد گئی گزرے زمانوں کو زندہ کرنا ہے۔ ادبی مورخ ماضی کے اندھیرے منظروں میں سفر کرتا ہے۔

خوابیدہ داستانوں کو بیدار کرتا ہے گرد میں دبی ہوئی دستاویزات کو جھاڑتا ہے اور ان دستاویزات کے اوراق پر ماضی کے نام اور سرداروں سے متعارف ہوتا ہے اور ان سے مکالم کرتا ہے آہستہ آہستہ وہ تاریخ کے کرداروں سے مانوس ہو جاتا ہے

ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق:

تاریخ ادب کا کام یہ ہے کہ وہ بتائے کہ اس ادب میں کیا کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ وہ ادب کن کن راستوں سے گزر کر آج کے راستے یہ آیا ہے؟ تخلیقی و فکری سطح پر اس نے اپنے زمانے کو کیا دیا ہے؟ اپنے زمانے کی روح کو کس طرح اور کیسے لفظوں میں سمویا؟ زبان وادب کو کیا کہا؟

ڈاکٹر سلیم اخترکے مطابق:

ادب کی تاریخ کا معاملہ عام تاریخوں کے مقابلے میں خاصہ نازک اور پیچیدہ ہے اس لیے کہ یہ تاریخ کے مروج تصور کے مطابق محفی ایام شماری نہیں اور نہ ہی معلومات و کوائف مرتب کرتا ہے اگرچہ تاریخ میں یہ سب کچھ بھی شامل ہے لیکن بنیادی طور پر یہ تخلیق اور تخلیق کاروں کامطالعہ ہے۔

ڈاکٹر انور سدید کے مطابق:

میری رائے میں ہر دس برس تاریخ کی کتابوں پر نظر ثانی ہونی چاہیے معاصر تاریخ کا تناظر تیزی سے بدلتا چلا جاتا ہے بہت سے ستاروں کی نئی کہکشاں مرتب ہوجاتی ہیں لیکن دوسری طرف اپنے عہد کے بعض مقبول ترین مصنفین پر زمانہ کہڑے نقادوں کی مثیت میں موجود رہتا ہے۔

دکن میں اردو کا تجزیاتی جائزہ:

1) شمال کے فاتحین نے جب1192ء چوپان سلطنت فتح کر لی تو یہ نئی زبان بھی اپنے ساتھ لائے۔ سر زمین برج میں مسلمانوں کی لائی ہوئی زبان ابھی پختہ نہیں ہونے پائی تھی اور اس پر برج بھاشا کا زیادہ اثر نہیں ہوا تھا کہ مسلمانوں نے جنوب کا رخ کیا۔

2) علا الدین خلجی نے پھر ملک کافور نے دکن پر مسلسل حملے کیے 710ھ میں اس سماری تک علاقائی علم پہنچ گیا۔ اس کے بعد ایک بہت بڑا میلاپ محمد تغلق نے نہ صرف دکن پر فوج کشی کی بلکہ دیو گڑھ کو دولت آباد سے موسوم کر کے اس کو اپنا پائے تخت بھی قرر دے دیا۔ اس وجہ سے نہ صرف فوجی اشخاص بلکہ اہل علم و فضل، اہل مرفہ اور تاجر، سب بھی دہلی چھوڑ کر دکن آ گئی اگرچہ کچھ عرصے بعد بادشاہ نے دہلی کو دربار مراجعت بخشی مگر تب تک ایک بڑے گروہ نے یہاں بودو باش اختیار کر لی تھی۔

3) یہ فاتح جو زبان دکن میں لے کر آئے وہ یہاں آزادانہ نشوونما حاصل کرنے لگی کیوں کہ اس کے مقابل کوئی اور زبان جو اس کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کرے، یہاں نہیں تھی۔ اس کے برعکس شمال میں برج بھاشا مروج تھی جو وہاں کے دیسی باشندوں کی عام زبان تھی اس طرح یہ زبان جو مسلمانوں کے ساتھ دکن پہنچی عام طور پر پردیسی اور دیسی دونوں نے استعمال کی۔ یہ بات واضح ہے کہ دو آبگنگا و جمنا اور دکن کے علاقوں میں بہت فاصلہ حائل ہے دکن میں جدید زبان جب بولی جانے لگی تو مسافت کی دوری کی وجہ سے اس پر برج کا صرف وہی اثر باقی ہے جو سر زمین برج سے نکلنے سے قبل اس میں قائم ہو چکا تھا۔

اردو کے جن محققین نے اپنی تحقیق کاوش کی بنیاد پر ادبی دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ان میں نصیرالدین ہاشمی کا نام بے حد اہم ہے۔ دکنی ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ساری زندگی اس پر عمل پیرا رہے اور دکنیات کے تمام تر سرمایے پر محققانہ نظر ڈال کر کتابی شکل میں اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔

اس کتاب میں کل سات ادوار قائم کیے گئے ہیں۔

v پہلا دور (740ھ سے 900ھ) بہمنی عہد کا ہے جس میں اس عہد کی اردو کی نشوونما کا تفصیل سے احاطہ کرتے ہوئے ان تمام شاعروں اور نثر نگاروں کی خدمات کا جنہوں نے اس زبان کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا سب کا تفصیل سے ذکر کیا گیا۔

v دوسرا دور ( 900ھ سے 1100ھ) قطب شاہی دور ہے بہمنی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کے بعد جو پانچ سلطنتیں قائم ہوئیں ان میں گولکنڈہ، بیجاپور، احمد نگر، برار اوربیدر قابل ذکر ہیں۔ یہ سلطنتیں قطب شاہی، عادل شاہی، نظام شاہی، عماد شاہی اور برید شاہی کے نام سے موسوم تھیں۔ مصنف نے الگ الگ فعل قائم کر کے مذکورہ سلطنتوں کے ذریعے جس طرح اردو زبان وادب کی ترویج و اشاعت ہوئی اور جن حکمرانوں نے اردو زبان وادب کے فروغ میں علی طور پر حصہ لیا ان سب کا مفصل اور مدلل انداز میں احاطہ کیا ہے، نیز اس عہد میں جس طرح کی شعری و نثری اصناف وجود میں آئیں ان سب کا بھرپور اظہار کیا گیا ہے ۔

مذکورہ سلطنتوں نے علم و ہنر کی ترویج اور تہذیب وتمدن کو رواج دینے میں جس طرح کی کاوشیں کی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ ان سلطنتوں نے اردو کی سر پرستی کی اور اس کو ترقی دے کر باوآور بنا دیا، یہی نہیں بلکہاس کو سرکاری اور دفتری زبان قراردے کر اس میں مزید روح پھونک دی۔ اس سلطنت میں چند مشہور شاعروں اور نثر نگاروں کا ذکر درج ذیل میں ہے۔

اشرف بیابانی:

آپ اس دور کے مشہور شاعروں میں آتے ہیں آپ کی تصانیف میں مثنوی نو سر ہار نمایاں حیثیت رکھتی ہے از کے علاوہ مثنوی لازم المبتدی اور تصنیف قصہ آخر الزماں ہے

شاہ میراں جی شمس العشاق:

شاہ میراں جی کی جو تصانیف ہم تک پہنچی ہیں ان میں خوش نامہ، خوش نغز، شہادت الحقیقت اور مفر مرغوب نظم میں ہیں اور مرغوب القلوب نثر میں ہیں۔

شاہ برہان الدین جانم:

آپ شاہ میراں جی شمس العشاق کے بیٹے اور خلیفہ تھے انہوں نے نظم اور نثر دونوں میں عارفہ خیالات اور تصوف کے مسائل پیش کیے ہیں آپ کے کلام سے اردو زبان کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ارشادنامہ، حجتہ البقا، وصیت الہادی اور سک سہیلا اہم تصانیف ہیں۔ ان کے علاوہ اس دور کے مشہور شاعروں میں ابراہیم عادل شاہ، عبدل، صنعتی بیجاپوری، ملک خوشنود، سمال خان رستمی، حسن شوقی، علی عادل شاہ ثانی شاہی، ملک الشعراء نصرتی، سید میراں ہاشمی شامل تھے۔ جنھوں نے اپنے کلام سے دکن میں اردو کا نام نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

v تیسرا دور (1101ھ تا 1136ھ) مغلیہ عہد کا دور ہے جس میں مغلیہ اردو کی نشوونما پر تفصیلی مباحث ہیں جن میں ولی کی دہلی آمد کے بعد جو اردو پروان چڑھی اور جس زبان میں شاعری کی جانے لگی ان سب اسباب و علل کا محققانہ جائزہ لیا گیا ہے اس کے علاوہ نظم و نثر میں تبدیلی زبان سے جس طرح کی شفافیت آ گئی تھی مثالوں کے ذریعے اس کو واضح کیا گیا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شملی ہند میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز ولی کے دیوان کی بدولت ہوا۔

کیوں کہ ولی کی شاعری نے لسانی اجتہاد سے کام لیتے ہوئے فارسی شاعری کا بغور مطالعہ کیا غزل کے مزاج کو سمجھا اور فارسی سے غزل سے استفادہ کرتے ہوئے اردو غزل کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ ولی نے زبان میں نہ صرف مضامین کو وسعت دی بلکہ لسانی اعتبار سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

v چوتھا دور ( 1136 ہ تا 1220ھ) کا ہے جو سلطنت آصفیہ کے عہد حکومت کا زمانہ ہے اس حکومت کی زبان اگرچہ فارسی تھی اور سارے دفتری امور فارسی کے ساتھ ساتھ اردو بھی قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی اور اس عہد کے شعراء و ادباء اپنی تخلیقات فارسی کے ساتھ اردو میں پیش کرتے رہے اور رفتہ رفتہ اردو زبان میں انگریزی اور فرانسیسی کتابوں کے تراجم کی بھی ابتداء ہوئی۔

اردو کے پہلے علمی رسالے اور اردو یونیورسٹی کے قیام کا سہرا بھی سلطنت آصفیہ کے سرجاتا ہے اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اس سلطنت نے جو خدمات نجام دی ہیں وہ ہناری تاریخ کا حصہ ہے۔ اردو زبان وادب کی آبیاری میں اس سلطنت نے جو کردار نبھایا۔ مصنف نے مختلف تاریخی حوالوں سے اس عہد اردو زبان وادب کی صورت حال کا بھرپور احہ کیا ہے۔

v پانچواں اور چھٹا دور بھی سلطنت آصفیہ سے ہی متعلق ہے اس عہد میں نظم و نثر میں نہ صرف موضوعاتی تبدیلی آئی ہیں بلکہ لسانی سطح پر تغیر و تبدل کا ذکر کرتے ہوئے اردو کے سرکاری زبان بننے تک کی تمام روداد رقم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف انجمنوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعے اردو زبان وادب کا بہت زیادہ فروغ ہوا۔

v ساتواں دور جس میں اردو کے عروج و زوال کی داستان رقم کی گئی ہے۔ (1336ھ تا 1374ھ) پر مشتمل ہے اس میں اردو زبان وادب کے فروغ میں جامعہ عثمانیہ، کلیہ جامعہ عثمانیہ اور شعبہ تالیف و ترجمہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے اس عہد کے شعراء اور نثر نگاروں کے ساتھ خواتین کے کارناموں کا بھی مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔

نیز اردو زبان وادب کے فروغ میں اردو اخبارات و رسائل اور مختلف انجمنیں مثلاً انجمن ترقی اردو، ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد، اکیڈمی، اردو مجلس، انجمن ارباب اردو اور انجمن خدمات انجام دی ہیں ان سب کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔

مذکورہ سات ادوار کے بعد آندھرا میں اردو کے تحت آندھرا پردیش میں اردو زبان وادب کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے تقسیم ہند کے نتیجے میں اردو کی جو صورت حال ہوئی اس کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے لسانی سطح پر مختلف صوبوں کی تقسیم کا ذکر کیا گیا ہے اور مرد و خواتین شاعر اور نثر نگاروں کی تخلیقات پر مدلل گفتگو کی گئی ہے۔

مذکورہ تمام مباحث کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں دکنی ادب کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے۔

نصیرالدین ہاشمی کے نظریات پر تنقیدی آراء:

نصیرالدین ہاشمی سے متفق حضرات کی بموجب مسلمانوں کا فتح سندھ سے بہت پہلے ہی ہند سے رابط قائم ہو چکاتھا بعض مؤرخین کا تو یہ کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺکی نبوت سے بھی پہلے جنوبی ہند کے سواحل پو عربوں کی آمد رفت تھی۔ یہی نہیں بلکہ ”مالابار“ میں بعض عرب کنبے مستقلاً رہائش پذیر بھی تھے۔

عبدالصمد صارم نے اپنے ایک مضمون ”اردو زبان کی تاریخ“ میں لکھا ہے :

”رسول اکرم ﷺنے 6ہجری بمطابق 628ء میں دنیا کے کتنے ہی حکمرانوں کو تبلیغی فرامین ارسال فرمائے۔ ان فرامین میں ایک فرمان ہندوستان کے راجہ“ سربانگ ”کے نام بھی تھا۔ یہ تحریر میں عربی میں اس لیے روانہ کی گئیں کہ آپ ﷺکو معلوم ہو گا کہ ان ممالک میں عربی جاننے والے موجود ہیں۔“

ڈاکٹر تارا چند نے اپنی معروف تالیف ”اسلام کا ہندوستانی تہذیب پر اثر“ میں لکھتے ہیں :

”ساتویں صدی میں ایرانی اور عرب تاجر ہندوستان کے مغربی ساحل کی مختلف بندرگاہوں پر بڑی تعداد میں آباد ہوئے اور انھوں نے ہندوستان کی عورتوں سے شادیاں کیں۔ خاص طور پر“ ملیبار ”میں یہ آبادیاں بڑی اور اہم تھیں۔

اس کے بعد مسلمانوں کا اثر تہزی سے پڑھنے لگا۔ مسلمانوں کو ساحل ملیبار میں آباد ہوئے 100سال سے اوپر ہو چکے تھے۔ تاجروں کی حیثیت سے ان کا خیر مقدم کیا جاتا تھا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر سلیم اختر اپنی کتاب ”اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ“ میں یوں رقم طراز ہیں :

”ظہور اسلام سے قبل جنوبی ہند کے سواحل پر عربوں کی آمد و رفت تھی۔ یوں بغرض تجارت آنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ باہمی روابط کی بناء پر جنوبی ہند کے لوگوں نے یقیناً عربی الفاظ بھی سیکھ لیے ہوں گے۔ آنحضرتﷺ کی بعثت نے جب تمام عرب کی کایا پلٹ دی تو خلفائے اسلام میں عرب ہند تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہوئی اس بنا پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سندھ مسلمانوں کی آمد سے کہیں پہلے دکن کے لیے عرب عربی اور اسلام امنبی نہ تھے۔“

لیکن بہت سے مؤرخین ایسے بھی ہیں جنھوں نے نصیرالدین ہاشمی کے نظریے کی مخالفت کی ہے ان میں اہم نام ڈاکٹر غلام حسین کا ہے۔

”عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے اس لیے دکن میں اردو کی ابتداء کا سوال خارج از بحث ہے دکن میں اردو شمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر (افواج) کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطین کی سر پرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کے ارتقاء سے ہے ابتداء سے نہیں۔“

ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید ایک اور جگہ یوں کرتے ہیں :

”اس طرح اگر دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا۔ یہ لوگ بغرض تجارت یہاں آتے۔ یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے۔“

طلوع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقیناً پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود ناگزیر ہو کر یگانگت کے مضبوط رشتوں کا باعث بنتا ہے صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ نزدیکی اور قرب پیدا نہ ہو سکا جہاں زبان میں اجنبیت کم ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہو جانے کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ عربوں کے لیے تجارتی و مقامی تعلقات لسانی سطح پر کسی بڑے انقلاب کی بنیاد نہ بن سکے البتہ فکری سطح پر ان کے اثرات کے نتائج سے انکار نہیں۔

الغرض اگر مجموعی طور پر دکن میں اردو پر مجموعی نظر ڈالی جائے تو مصنف نے صرف دکن کے علاقے میں اردو کو پروان چڑھتے دیکھا اور دکن کے علاوہ کسی اور علاقے کا ذکر کرتے نظر نہیں آتے اس کے علاوہ جیسے انھوں نے اپنے دیباچے میں بیان کیا کہ انھوں نے اپنی پسند اور مرضی کے مطابق شاعروں اور نثر نگاروں کا ذکر کیا ہے اور جو شخص ان کے مزاج کے مطابق انھیں لگا اسے شامل کیا اور جو ان کے مزاج کے برعکس تھا اس کو اپنی کتاب میں شامل نہیں کیا۔

اس کے علاوہ کتاب کو جو سات ادوار میں تقسیم کیا ان میں نہ صرف اردو زبان وادب کی بات کی بلکہ اس دور کے سیاسی حالات کا ذکر چیدہ چیدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شاعروں اور نثر نگاروں کے آبائی علاقوں اور ان کے آبا و اجداد کا بھی ذکر کیا ہے۔

لیکن اگر مجموعی طور پر اس کتاب کو ادب کے حوالے سے دیکھیں تو نصیرالدین ہاشمی کی تاریخ دکن سے باہر نظر نہیں آتی اس وجہ سے مکمل اردو ادب کی تاریخ کے دائرے میں ہم شامل نہیں کر سکتے۔

”ڈاکٹر جمیل جالبی اسی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ دکن میں اردو ہو یا پنجاب میں اردو ان کی مثال تاریخ کی کتابوں میں ایسے ہے جیسے جسم کے ایک حصہ کو بیان کیا جائے اور باقی جسم کو چھوڑ دیا جائے۔“

اگر ہم مجموعی طور پر دیکھیں تو دکن میں اردو کے اندر ہمیں ان شاعروں اور ادیبوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوتی ہے جنھیں نصیرالدین ہاشمی نے شامل کیا تھا۔ لیکن یہاں ہمیں ایک تاریخی نقطہ نظر میں اس کتاب کے اندر خامی بھی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی مورخ تاریخ اور ادب کی بات کرتا ہے اور وہ جس علاقے یا خطے کی بات کرنے لگتا پھر وہاں پر موجود تمام ادیبوں اور شاعروں کو شامل کرنا ہوتا ہے اور ان کے کلام کا سرسری یا مجموعی جائزہ لیا جائے یہ نہ ہوکہ اپنی پسند کے شاعروں اور ادیبوں کو شامل کیا جائے اور باقی کو تاریخ سے نکال دیا جائے جواس کتاب میں تاریخی حوالے سے خامی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
 حذیفہ ارڑہر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *