کامیڈی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ کچھ بھی کریں کوئی نہ کوئی طبقہ ناراض ہو جاتا ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ارسلان نصیر

BBC

پاکستان میں مزاحیہ ویڈیوز بنانے والے یوٹیوبر ارسلان نصیر کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں مزاح مشکل تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ چاہے کچھ بھی تخلیق کیا جائے اس سے کوئی نہ کوئی طبقہ ناراض ہو ہی جاتا ہے۔

ارسلان نصیر پہلی بار ٹیلی وژن ڈرامہ میں کام کر رہے ہیں جہاں انہیں کافی سراہا جا رہا ہے۔ وہ رمضان سپیشل ڈرامہ ’چپکے چپکے‘ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان کا کرادر سیکنڈ ہیرو کا ہے لیکن ان کی بطور ’ہادی‘ مشی کے ساتھ جوڑی نہ صرف پسند کی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر میمز بھی بن رہی ہیں۔ ارسلان اس کا ذمہ دار ان کے سوشل میڈیا فالوورز کو قرار دیتے ہیں ان کے ساتھ کافی وفادار ہیں۔

بطور اداکار اپنے ڈرامے پر لوگوں کے اب تک کے رد عمل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی فیڈ بیک سے پہلے تو میں خود اپنے آپ کو سکرین پر دیکھ کر یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا میں یہ کر پاؤں گا یا نہیں۔ تاہم ڈرامے کے ساتھی اداکاروں اور عملے کا کہنا تھا کہ لگتا نہیں ہے کہ میں پہلی دفعہ اداکاری کر رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے صرف اس بات کی فکر تھی کہ جو میرے پہلے سے موجود فالوورز ہیں کیا وہ مجھے بحیثیت اداکار قبول کریں گے یا نہیں۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ فالوورز کی حمایت پا کر بہت خوش ہیں۔

’کامیڈی ڈرامہ ہے، کسی نہ کسی کا مذاق تو اُڑے گا‘

کامیڈی ڈرامے میں حقیقی زندگی میں پائے جانے والے کرداروں کا مذاق اڑانے کے حوالے سے ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ ’ کامیڈی ڈرامے میں کسی نہ کسی کردار کا تو مذاق بنتا ہی ہے لیکن یہ کہنا کہ کسی خاص کردار کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، خاص طور پر اس ڈرامے میں گھر داماد کے کردار کے حوالے سے تو کہانی کو ڈویلپ ہونے میں تھوڑا وقت لگتا ہے اور یہ گھر داماد کا کردار تو میرا پسندیدہ کردار ہے۔‘

’شروع کی اقساط میں لوگوں کو لگا کہ شاید یہ گھر کا نوکر ہے اور ہر کوئی انہیں بُلی کر رہا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں ان کا بہت اہم کردار ہے۔‘

ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ کامیڈی کرنا اب زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ آپ کچھ بھی کریں اس سے کوئی نہ کوئی طبقہ ناراض ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کامیڈی میں کچھ نہ کچھ تو بڑھا چڑھا کر دکھایا ہی جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کوئی بھی مزاح ہر کسی کو مزاح نہیں لگتا۔ لوگوں کی حسِ مزاح مختلف ہوتی ہے۔‘

’میں دس سال سے مزاحیہ مواد بنا رہا ہوں اور میں بہت سے لوگوں کو بہت برا لگتا ہوں۔ ان سے یہی کہتا ہوں کہ بالکل مناسب بات ہے، اگر آپ کو پسند ہے تو دیکھیں۔‘

مزاج اور سوچ کے خلاف ڈائیلاگز

ڈرامے کے لیے کردار نبھاتے ہوئے یے مزاج یا سوچ کے خلاف لکھے گئے ڈائیلاگز ادا کرنے کے بارے میں ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت اداکار اگر ہم کسی ڈرامے کے لیے حامی بھر لیتے ہیں تو ہمیں وہ کرنا پڑتا ہے لیکن جب بھی ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں تو ہم نے ڈائریکٹر اور مصنف دونوں سے بات کی ہے اور انھوں نے کافی تعاون کیا۔‘

’اگر انہیں لگا کہ ایسی کوئی چیز آ رہی ہے جس سے شاید کوئی غلط پیغام چلا جائے تو انھوں نے اسے ہمیشہ سمجھا اور تبدیلی کی۔‘

’اب تک تو صرف تعریفیں ہو رہی ہیں‘

ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ ’ایسی ڈیجیٹل دنیا میں لوگوں کی جہاں ایک بات پرتعریفیں ہوتی ہیں وہیں ایک بات پر بہت برائی بھی ہو جاتی ہیں اس لیے نہ میں برائیوں کو زیادہ سنجیدگی سے لیتا ہوں اور نہ ہی زیادہ تعریفوں کو۔‘

ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ ڈرامہ ’چپکے چپکے‘ میں اگرچہ انھوں نے کردار کو بہت نیچرل انداز میں ادا کیا ہے تاہم یہ ان کی حقیقی شخصیت کے بالکل برعکس ہے۔ ’میں اصل زندگی میں کافی بورنگ ہوں اور لوگ مجھ سے مل کر کافی مایوس ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چپکے چپکے ڈرامہ میں ان کے بطور ہادی اور مشی کے کردار کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے خاص طور پر جب انہیں ماضی کے مقبول جوڑوں سے ملایا جاتا ہے یا پھر صف اوّل کے اداکاروں سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

ارسلان نصیر کو لوگ ویڈیوز اور ڈرامہ کے ریویوز کے حوالے سے جانتے ہیں کل خود ڈراموں کے ریویو کرنے والے پر خود ریویو ہو رہے ہیں تو انہیں کیسا لگ رہا ہے اس سوال کے جواب میں ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو توجہ اچھی لگ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک تو صرف تعریفیں ہی ہو رہی ہیں اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے تنقید کو بھی کھلے دل سے قبول کیا ہے ہاں جب کوئی برائی کرے گا تو پھر شاید کہہ سکوں کہ بات دل پر لگی ہے۔`

’بلکہ میں تو دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ مجھے مجھے ایماندارنہ تجزیہ دیں، بھول جائیں کہ مجھے خوش کرنا ہے مجھے بتائیں کہ کہاں پر غلطی ہے۔‘

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں آکر اجنبیت محسوس نہیں ہوئی

ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں آکر انہیں اجنبیت بالکل محسوس نہیں ہوئی کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہاں پر موجود فنکار انہی جیسے تخلیق کار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے میں ڈراماز کے ریویو کرتا تھا لیکن پھر میں نے اسے بدل کر اس کا نام سپوف کر دیا کیونکہ میں اس میں زیادہ تر مذاق کرتا تھا اور جن کے بارے میں کرتا تھا وہ اداکار اور ہدایت کار بھی اس مواد کو شیئر کرتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ڈرامہ تقریباً ایک سال سے زائد عرصے سے شوٹ کیا جا رہا تھا اس لیے ساتھی اداکاروں سے ان کی کافی اچھی دوستی ہو گئی ہے اور انہیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

اپنے اداکاری کے فن کو جاری رکھنے کے بارے میں ارسلان نصیر کا کہنا تھا کہ وہ یقیناً ایسا کرنا چاہیں گے اور انہیں کام کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ آفرز ایسی بھی ہیں کہ میں خود ہی سکرپٹ لکھوں اگر ایسا ہوتا ہے تو میں یقیناً کام کروں گا اور اب جب کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایکٹنگ کر ہی لیتے ہو تو سوچ رہا ہوں کہ اگلا کام بھی کر لوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19458 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp