EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اس دور میں اداکار تو مشہور ہو جاتے ہیں، کردار کا مشہور ہونا چیلنج ہے: احسن خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اداکار احسن خان کہتے ہیں اگر آپ کے کردار سے لوگ محبت یا نفرت کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے اداکاری کا حق ادا کر دیا ہے۔
کراچی — احسن خان کا شمار پاکستان کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کریئر کا آغاز فلم سے کیا اور اس کے بعد ٹی وی پر آئے تو وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے جہاں ٹی وی پر کئی ڈراموں میں ہیرو کا کردار ادا کیا وہیں بعض ڈراموں میں ان کے منفی کردار کو بھی بے حد پسند کیا گیا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران احسن خان نے کئی ڈراموں میں منفی کردار کیے ہیں۔ خاص طور پر ‘ہم’ ٹی وی کے ڈرامے ‘اڈاری’ میں ‘پا امتیاز’ اور دوسرا جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے ‘قیامت’ میں ان کے راشد کے کردار کو پسند کیا گیا۔

‘اڈاری’ میں احسن خان نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا تھا جو اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔ ان کی اداکاری ایسی تھی کہ 2017 کے بہترین اداکار کا ‘لکس’ ایوارڈ اور ‘ہم ٹی وی’ ایوارڈ انہی کے نام رہا۔

احسن خان کہتے ہیں ‘قیامت’ میں راشد بننا ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔

ان کے بقول "میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ راشد سے سب کو نفرت تو ہو لیکن اس کے چلنے کا انداز اور بات کرنے کا طریقہ سب سے الگ ہو۔”

وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں 39 برس کے اداکار احسن کے بقول جب انہیں ‘راشد’ آفر ہوا تو منفی کردار کی وجہ سے اس نے انہیں اپنی جانب کھینچا۔ سب سے پہلے سوچا کہ اس کردار کو ‘پا امتیاز’ سے الگ بنانا ہو گا اور یوں ‘راشد’ کی شروعات ہوئی۔

‘کردار کی مقبولیت کا اندازہ گھر والوں کے ری ایکشن سے پتا چل جاتا ہے’

اداکار احسن کہتے ہیں جب کبھی ان کا کوئی کردار عوام میں مقبول ہوتا ہے تو اس کے میمز سوشل میڈیا پر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن کسی بھی کردار کی مقبولیت کے لیے ان کے پاس ایک اور پیمانہ بھی ہے، جو ان کے گھر میں موجود ہے۔

ان کے بقول ‘گھر میں جب بھی کسی سے ذرا اونچی آواز میں بات کرتا ہوں، تو ہر کوئی سب سے پہلے راشد کا طعنہ دے دیتا ہے۔ ایک دو مرتبہ جہاں میری آواز اونچی ہوئی تو بیوی نے صاف صاف کہہ دیا کہ ‘گھر میں راشد مت بنو۔’

‘منفی روپ میں آتا ہوں تو شاید لوگوں کو الگ سا لگتا ہے’

احسن خان نے کہا کہ شروع سے میں نے زیادہ تر مثبت کردار ادا کیے۔ اس لیے جب میں منفی روپ میں آتا ہوں تو شاید لوگوں کو الگ سا لگتا ہے اور حیران کر دینے کی وجہ سے لوگوں کو منفی کردار زیادہ پسند آتے ہیں۔

احسن خان پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ ان کا ایک پروگرام ‘ٹائم آؤٹ ود احسن خان’ کے نام سے مقامی ٹی وی چینل پر نشر ہو رہا ہے۔

نوے کی دہائی کے آخر میں احسن خان نے ہدایت کارہ سنگیتا کی فلم ‘نکاح’ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا تھا۔ کچھ عرصے کی تگ و دو کے بعد انہوں نے ٹی وی کا رخ کیا۔

ان کے بقول کئی پروڈیوسر انہیں چہرے کی معصومیت کی وجہ سے ہیرو کاسٹ کرنے سے ڈرتے تھے جب کہ ہدایت کار سید نور نے انہیں، ان کے بقول، یہاں تک کہہ دیا تھا کہ آپ دو سال بعد آئیں، ابھی آپ کی داڑھی بھی نہیں آئی۔

احسن خان کہتے ہیں کہ آج کل اداکار بن کر مقبول تو ہر کوئی ہو جاتا ہے، لیکن اداکاری کا حق ادا کرنا سب کو نہیں آتا۔

ان کے بقول، "جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس میں اداکار کا مقبول ہونا آسان ہے لیکن ایک کردار کا مقبول ہونا بہت مشکل ہے۔ ہیرو ہو یا ولن، اگر آپ کے کردار سے لوگ محبت یا نفرت کر رہے ہیں، اس کی حرکات و سکنات کو یاد رکھ رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے اداکاری کا حق ادا کر دیا ہے۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2560 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے