جنگ بندی کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے اسرائیل پہنچ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اسرائیل، فلسطین

Reuters

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کی غرض سے ثالثی کا کردار ادا کرنے ایک امریکی نمائندہ تل ابیب پہنچ چکا ہے۔

ہادی امر اپنے دورے کے دوران اسرائیلی، فلسطینی اور اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ جنگ بندی کی غرض سے مذاکرات کریں گے۔

اس سے قبل سنیچر کو اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے اور فلسطینی جنگجوؤں نے بھی جواباً اسرائیل پر میزائل فائر کیے۔ واضح رہے کہ پانچ دن سے جاری تنازعات کئی برسوں سے سب سے زیادہ خراب صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

اب تک اس جنگ کے میں غزہ میں 133 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حماس کے ہتھیاروں کی طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟

عربوں اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آ سکیں گے؟

اسرائیلی فلسطینی تنازع: ہر کچھ سال کے بعد ایک سنگین اور پرتشدد بحران

دریں اثنا خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کا نشانہ اس وقت غزہ میں موجود نئی سرنگیں بھی ہیں جنھیں فلسطینی جنگجو استعمال کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوجی کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کورنیکس نے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ کی پٹی پر حملے میں 160 جہاز، ٹینک اور آرٹلری حصہ لے رہی ہے۔

یہ سنہ 2014 کے بعد سے ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے۔

غزہ

Getty Images

فلسطین کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سنیچر کو غزہ شہر کے مغربی حصے میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر کیے گئے فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم سات فلسطینی مارے گئے ہیں۔

ہادی امر اپنا یہ دورہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے پہلے کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس اتوار کو منعقد ہو گا۔ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد پائیدار امن کی کاوشوں کو تقویت دینا ہے۔

ابھی تک امریکہ نے اسرائیل کے لیے سفیر کے لیے کسی کا نام بھی فائنل نہیں کیا کہ یہ تنازع شروع ہو گیا ہے۔

بی بی سی کی باربرا پلیٹ اشر کا کہنا ہے کہ ہادی امر ایک اوسط درجے کے سفارتکار ہیں جنھیں وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جو گذشتہ حکومتوں میں خصوصی نمائندوں کو ہوتی تھیں۔

غزہ

Getty Images

امریکہ کا ردعمل

امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ‘اسرائیل کی گلیوں میں ہونے والے تشدد پر سخت تشویش ہے’ جبکہ محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا سفر نہ کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے اسرائیل کے سفر پر نظر ثانی کریں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘پورے اسرائیل میں مظاہروں اور تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یروشلم سمیت غزہ کے اطراف اور جنوبی اور مرکزی اسرائیل میں راکٹس گرتے رہے ہیں۔’

دوسری جانب برٹش ائیرویز، ورجن اور لفتھانسا سمیت کئی بین الاقوامی ائیر لائنز نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں بھی منسوخ کر دیں ہیں۔

امریکی کانگرس

Getty Images

ادھر امریکی کانگریس کے اراکین نے بھی اس تنازعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی نژاد امریکی کانگریس کی نمائندہ راشدہ طالب، جو فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں، نے امریکی حکومت کی اسرائیل کی ‘غیر مشروط حمایت’ پر سوال اٹھایا۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان میں خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ‘ہمیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو تسلیم کرے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی زندگی کا خاتمہ ہوا اور لاکھوں مہاجرین کے حقوق سے انکار کیا گیا۔’

امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الہان عمر نے بھی ارکان کانگریس کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کرنے پر ایوان میں اپنے ساتھیوں پر تنقید کی۔

انھوں نے کہا ‘کانگریس کے بہت سے اراکین انسانیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جرائم کی مذمت کرنے کی بجائے عام شہریوں کے خلاف اسرائیل کے فضائی حملوں کا دفاع کر رہے ہیں۔’

نیو یارک

Getty Images
امریکی شہر نیو یارک میں مظاہرے کا منظر

دنیا کے کئی شہروں میں مظاہرے

جمعے کو دنیا کے کئی مسلم اکثریت والے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں بنگلہ دیش، اردن، کوسوو، اور ترکی شامل ہیں۔

تاہم یورپ میں کچھ مظاہروں میں یہودی مخالف نعرے اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ پیرس میں پہلے سے طے شدہ ایک احتجاجی مظاہرے پر پرتشدد جھڑپوں کے خطرے کے پیشِ نظر پابندی لگا دی گئی ہے۔

جرمنی میں مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کیے جانے کے بعد چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان نے تنبیہہ کی ہے کہ یہودیوں سے نفرت پر مبنی مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے پر پابندی کے بعد مظاہرے کے منتظمین نے اس پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ منتظمین کے وکلاء کا کہنا ہے کہ پابندی غیر متناسب اور اس کے سیاسی مقاصد ہیں۔ وکلاء توقع کر رہے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ کل یعنی سنیچر کی صبح تک آ جائے گا۔

اسرائیل، فلسطین

Getty Images

ایک طرف غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے تو دوسری طرف اس وقت خود اسرائیل کے اندر بھی پرتشدد واقعات پھوٹ پڑے ہیں۔

جب اسرائیل نے بدھ کی رات کو غزہ پر فضائی حملے شروع کیے تو حریف یہودی اور اسرائیل میں بسنے والے عرب باشندوں نے ملک کے مختلف شہروں میں کاروبار، کاروں اور لوگوں پر حملے شروع کر دیے۔

اسرائیل کی اندرونی صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘اسرائیلیوں کی طرف سے ملک میں بسنے والے عرب شہریوں اور عربوں کی طرف سے اسرائیلیوں پر تشدد کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔’

انھوں نے ملک میں جاری صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ملک میں جاری ان پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

اسرائیل

AFP

اسرائیل کے اندر ہو کیا رہا ہے؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق غزہ میں جاری لڑائی کے دوران اسرائیل کے اندر بھی پرتشدد ہنگامے اور واقعات پھوٹ پڑے ہیں، جن میں عرب اور اسرائیلی شہریوں کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا ہے اور پولیس تھانوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔

پیر سے اب تک اسرائیل کے اندر سات افراد مارے گئے ہیں اور تشدد کو روکنے کے لیے ایک ہزار پولیس کی نفری طلب کی گئی ہے۔

پولیس کے ترجمان مائیکی روزن فیلڈ نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں جس قسم کا نسلی تشدد دیکھنے میں آیا ہے یہ کئی دہاہیوں سے دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس طاقت کے استعمال میں اضافہ کر رہی ہے۔

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہروں میں، جہاں انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کی اسرائیل کی سیکورٹی فورسز اور اسرائیلی میں بسنے والے عربوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں، فوج بھی تعینات کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے شہر میں جاری بد امنی کی روک تھام کے لیے سکیورٹی فورسز کی ‘اضافی نفری طلب کرنے’ کا حکم دیا ہے جبکہ 400 سے زائد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اسرائیل

EPA

اسرائیل کے متعدد شہروں میں ایمرجنسی کا نفاذ

جمعرات کو اسرائیل نے پرتشدد واقعات کی وجہ سے یروشلم، حیفا، تمارا اور لُد میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

عکا کے مقام پر اسرائیل کے چند عرب شہریوں نے ایک 30 سال سے زائد عمر کے یہودی کو تشدد کا نشانہ بنایا جو ابھی گلیلی میڈیکل سینٹر میں انتہائی تشویشناک حالت میں ہے۔ پولیس کے مطابق ان عرب شہریوں نے ہاتھ میں ڈنڈے اور لوہے کے راڈ تھام رکھے تھے۔

اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی ان پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ یہودی اور عرب فسادیوں نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لد اور عکا میں جن لوگوں نے تشدد کیا ہے وہ اسرائیلی عربوں کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگ یہودیوں کے نمائندہ ہیں جنھوں نے بیت یام میں پرتشدد کارروائیاں کیں۔

‘یہ انتہا پسند ہماری زندگیوں کو تباہ نہیں کر سکیں گے۔’

اسرائیلی عرب کون ہیں؟

اسرائیل کی آبادی میں 21 فیصد ایسے لوگ ہیں جو اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔ دسمبر میں اسرائیل کے ادارہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی 1.96 ملین آبادی اسرائیلی عربوں پر مشتمل ہے۔

سنہ 1948 کی جنگ میں لاکھوں عرب شہری اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اسرائیل میں رہ جانے والوں کو اسرائیل کی شہریت دے دی گئی جو اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔

ان اسرائیلی عربوں کی 80 فیصد تعداد مسلمان ہے۔ دیگر عرب اپنے آپ کو مسیحی یا دروز مذاہب کے پیروکار کہلاتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے عربوں کی ہے جو اپنے آپ کو اسرائیل کے فلسطینی شہری کہلاتے ہیں۔

اسرائیل کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے عرب شہری برابری کے سماجی اور سیاسی حقوق رکھتے ہیں۔ البتہ انھیں ضروری ملٹری سروس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم ان اسرائیلی عربوں کا مؤقف ہے کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ انھیں قانونی، ادارہ جاتی اور سماجی تعصبات کا سامنا رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp