فوٹو جرنلزم سے فوٹو سیشن تک


جرنلزم کی دنیا میں مثبت تبدیلیوں کو جتنی صحافتی شعبے کے باہر مقبولیت ملی ہے ان میں فوٹو جرنلزم کا نمایاں کردار ہے،

جو اس شعبے یا طریقہ کار سے واقف نہیں ان کو میں بتاتی چلوں کہ اس میں جرنلسٹ ایک فوٹو کی مدد سے کہانی کو ایک تصویر میں محفوظ کرتا ہے۔ پھر اس میں کچھ نیوز ایلیمنٹس شامل کر کے وضاحت دی جاتی ہے، بعض اوقات وہ فوٹو بھی ایک مکمل کہانی کے طور پر سمجھی جا سکتی ہے۔ پہلے کے دور میں اخبارات میں فوٹو کہ نیچے کیپشن یا وضاحت ہوا کرتی تھی کہ فلاں، فلاں کی عیادت کے لیے فلاں جگہ تشریف لے گیا، لیکن آج کا فوٹو جرنلزم تھوڑا منفرد اور مختلف ہے۔

اس طریقہ کار کی اب اتنی اہمیت ہے کہ حکومتی نظام میں اگر وزیر اور مشیر اچھے نا بھی ہوں تو حکومت فوٹوگرافرز کے سہارے بھی چل سکتی ہے، کہیں کسی اچانک دورے پر نکلے ہوئے ہمارے حکومتی نمائندگان کو مارکیٹ، ٹیلے کے پاس، ہسپتال، اسکول، گوشت یا سبزی فروش، کے پاس پاؤ تو یہ فوٹوگرافر اچانک سے مل جاتے ہیں۔ پرندہ بھی پر نہ مار سکے اتنی سیکیورٹی ہوتی ہے لیکن فوٹوگرافر لیڈر کے بالکل برابر ہوتا ہے جو ان کی تصاویر بھی بنا لیتا ہے ایسے میں عوامی مقامات پر عوام کی موجودگی معمول کے مطابق نہ ہونا اس بات کو سوچنے میں بالکل ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرواتی کہ اس اچانک سیر و تفریح اور فوٹو شوٹ میں گھنٹوں کی ٹریفک کی روانی، پھل فروش کی دن کی دیہاڑی، ہسپتال میں ایمرجنسی کس قدر متاثر رہی ہوگی، اس کے برعکس ہمارے سوشل میڈیا کے صارفین ایک دوسرے کو نمائندگان کی تکلیف آمیز تکلف کو ہیرو نمبر ون کہتے نہیں تھکتے۔

کچھ سال قبل لاہور کی سڑکوں پر بارش کے دنوں میں شریف برادران کے چھوٹے میاں اچانک حالات دیکھنے نکلے ہوئے تھے، پانی گھٹنوں تک آ رہا تھا ایسے میں ایک فوٹوگرافر نے آسکر وننگ پرفارمنس نے لاہور کو ایک بہترین فوٹوگرافر اور لیڈر دونوں دے دیے، ایسے ہی کپتان بھی اچھے کھلاڑی ہیں ان کی زندگی بھی کیمرا کے ارد گرد گھومتی ہے، ایک وائرل کلپ میں وہ کرسی پر بیٹھ کر عوام کے بارے میں ان کی حالات زندگی سے پریشان رو رہے تھے۔ کہ ایک فوٹوگرافر نے زمیں سے ”کیٹ آئی ویو“ اینگل سے وڈیو بنا ڈالی، جو ایک لمبا عرصہ سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی،

عوامی نمائندے جب عوام میں جاتے ہیں تو کوئی احسان نہیں کرتے وہ اپنے ان ہی لوگوں سے ملنے جاتے ہیں جنہوں نے ان کو ایوانوں میں پہنچایا ہے۔ اسے میں ان کے درد سنے جائیں تکلیفوں کو سنا جائے نا کہ ان کی درد کو فوٹو سیشن کے غبارے میں پھول کر اڑایا جائے اور وہ غبارہ سوشل میڈیا کی زینت بن کر رہ جائے۔

Facebook Comments HS