کماری والا ( ناول کا جائزہ )۔

ناول پڑھتے ہوئے میرے پیش نظر ہمیشہ کہانی ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ دانشور حضرات ناول لکھتے ہوئے اپنی تحقیق، فلسفہ اور نظریہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کہانی مر جاتی ہے، اوٹ پٹانگ سے اخباری حقائق کہانی پر غالب آ جاتے ہیں اور یا دقیق فلسفیانہ بیان بازی۔ آپ صرف کہانی لکھیں اور آپ کا جو فلسفہ ہے وہ غیر شعوری طور پر قاری کے دل میں کہیں عود آئے گا۔ یہی کرافٹ کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہانی کو تحقیقی مقالے سے بچا کر لکھنا چاہیے۔ فلسفہ جھاڑنے کے شوق میں کہانی بے ربط ہو جائے تو قاری بدمزہ ہو جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کے بعد کتاب جائزہ میں یہ سمجھانا کی کہانی کیا تھی بجائے خود کہانی پر سمجھوتے کی دلیل ہے۔

کماری والا مجموعی طور پر ایک اچھی کہانی ہے گو کہ میں ذاتی طور پر علی اکبر ناطق کے، ”نو لکھی کوٹھی“ کے سحر سے نہیں نکل سکا۔ کماری والا کا کینوس اپنے تمام تر سیاسی اور سماجی موضوعات کا کماحقہ احاطہ کرنے کے باوجود نولکھی کوٹھی ایسا بڑا نہیں ہے گو کہ علی اکبر ناطق نے فنکارانہ انداز سے افغان جہاد کے نام پر عربوں کے لئے خوبصورت لڑکے بھیجنے کا کاروبار، شیعہ سنی فسادات کے بیج، اشرافیہ کی پارٹیوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا آ زاد جنسی رویہ، عرب ملکوں سے این جی اوز کے لئے رقم اور دھندے، جنسی تلذذ کے ذریعے اہم لوگوں کی بلیک میلنگ، بچوں کے لئے فحش مواد کا کاروبار، عوامی ملکیت پر مرغی خانوں کی تعمیر، ستر کے اواخر میں مارکسسٹ نظریات رکھنے والے کامریڈز کا انقلاب کے لئے میکانکی اظہار اور زندگی کی حقیقتوں سے دور سوویت یونین میں انقلاب کے ساتھ بیمار رومانویت کا نقشہ کھینچا ہے لیکن یہ سب کوئی پروپیگنڈا بن کر یا کسی خاص مقصد کے تحت در نہیں آ تا بلکہ کرداروں کی قلبی و سماجی واردات میں جھلکتا ہے۔

کچھ لوگ علی اکبر ناطق کے شیعہ مسلک کی طرف جھکاؤ کی بات ضرور کریں گے لیکن یہ شاید منطقی گمراہی کا نتیجہ ہو گا کہ علی اکبر ناطق کا نظریاتی و مسلکی پس منظر ذہن میں رکھتے ہوئے کہانی پڑھی جائے۔ یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ کتاب کے فلیپ پر علی اکبر ناطق کو لکھاری سے بڑا ”غلام علی“ بتایا گیا ہے لہذا ان کے پس منظر کو پس پشت ڈالا نہیں جا سکتا۔ ایک اعتراض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ علی اکبر ناطق جیسا لکھاری گرامر کی فاش غلطی کیسے کر سکتا ہے کہ، ”میرا نہیں خیال“ سے فقرہ شروع کرے۔

یہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے کہ پینتیس برس کی عمر میں ضامن علی شزا کی جنسی سرگرمی پر باتھ روم میں چیخیں مار مار کر روتا ہے جبکہ دس برس کی عمر میں زینت کے لئے اس کا رویہ زیادہ پختہ تھا۔ یہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر فرح کو اعتماد میں لئے بغیر جنید یا اس کا باپ طلال سے ڈاکٹر فرح کی جائیداد پر کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں۔ پھر یہ کہ ڈاکٹر لطیف کی ڈاکٹر فرح کے لئے یک طرفہ محبت کی شدت ایسی نہیں تھی کہ وہ طلال کو گولی مار کر اپاہج کر دیتا جبکہ وہ اتنا ہوشیار تھا کہ اس نے ڈاکٹر فرح کا پستول ضامن کو نہ صرف دیا بلکہ اسے مناسب وقت پر نکالا۔

ضامن علی اور شزا کی محبت بھی قاری کے لئے فطری طور پر پروان نہیں چڑھتی بلکہ اس میں ہم ناطق کے بار بار اصرار پر اس محبت کو قبول کرتے ہیں۔ ناطق کی جانب سے قاری کو اس تعلق کے لئے قائل کرنے کی کوشش ہوتی ہے لیکن قاری اس جذبہ کو رگ و پے میں سرایت ہوتا محسوس نہیں کرتا جیسا کہ زینت کے لئے تھا۔ شزا کے ساتھ جنسی آسودگی ضامن علی کی مڈل کلاس اخلاقیات کو دبا دیتی ہے اور یہ بھی ایک اعتراض ہو سکتا ہے۔ طلال کا بستر سے جا لگنا بھی ایسا لگا جیسے علی اکبر ناطق جزا و سزا کے تصور کے ذریعے قاری کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کچھ گرہیں ایسی تھیں جو رائٹر نے کھولنے کی بجائے کاٹ دیں۔ جارج اہلیٹ کے ناول ”دی مل آن دا فلاس“ (؛The Mill On The Floss) میں ایلیٹ پر یہی اعتراض ہوا کہ وہ میگی اور سٹیفن کی محبت یوں ڈویلپ نہیں کر سکی کی قاری اس تعلق میں جذباتی طور پر شامل ہو سکے۔ قاری دراصل میگی اور فلپ کے تعلق ہی سے نہیں نکل پاتا۔ یہاں بھی ضامن کے زینت کے لئے جذبات شزا کے ساتھ جنسی تشفی سے قدرے مختلف ہیں گو کہ انسانی سطح پر یہ بہت نارمل ہے کہ ایک پینتیس سالہ مجرد کسی حسین لڑکی کے ساتھ ایک گھر میں رہتے ہوئے اختلاط کرے لیکن عجیب بات یہ لگی کہ شزا جو مردوں کو گھیر کر اور ان کے ساتھ ہم بستری کر کے بالوں میں لگے کلپ سے وڈیو بناتی ہے تا کہ اس کا باس ان اہم لوگوں کو بلیک میل کر سکے وہ ایکا ایکی ایک دیہاتی سے لڑکے کی محبت میں کیسے ڈوب گئی۔

کوئی کمزور لمحہ نہیں تھا، کوئی وابستگی نہیں تھی، کوئی احساس نہیں تھا، کوئی محرومی نہیں تھی، کوئی دھچکا نہیں تھا، کوئی ضرورت نہیں تھی، کوئی تڑپ نہیں تھی۔ یہ سب کچھ تو شزا کے بیمار ہونے کے بعد سامنے آ تا ہے۔ یہ اعتراض بھی بجا کہ مجبوری میں ضامن ایک غریب بوٹ لیگر کی شراب کی بوتلیں چوری کر کے بیچ دیتا ہے لیکن مجبوری کے عالم میں فحش کہانیاں نہیں لکھتا۔ دو بچوں کو جھاڑیوں میں غیر فطری جنسی سرگرمی میں ملوث پاتا ہے تو سیدھا تھانے چلا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ فحش کہانیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے حالانکہ اپنے بچپن میں وہ بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ یہی کچھ کرتے دیکھتا رہا تھا جب امرود کے پیڑ پر چڑھا ہوا تھا۔

ان سب اعتراضات کے باوجود کماری والا ایک عمدہ ناول ہے جس میں ایک دس سالہ بچہ ایک ستم رسیدہ نرس عدیلہ کی پانچویں بیٹی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے جو اس سے تھوڑی سی بڑی ہے۔ زینی ڈاکٹر فرح کے بیٹے جنید سے محبت کرتی ہے اور بھاگ کر شادی کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر فرح اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کی وجہ سے چھوڑ آئی ہے اور خون کے پیاسے چچا زاد طلال سے بچ کر ایک چھوٹے سے گاؤں میں آ باد ہو گئی ہے جہاں وہ عدیلہ کے ساتھ مل کر ڈسپینسری چلاتی ہے۔

کہانی کے اندر کہانی کھلتی چلی جاتی ہے۔ ضامن جو دس سالہ بچہ تھا اب بڑا ہو گیا ہے اور زینت کو اس کی ماں عدیلہ کے مرنے کے بعد اس کی ایک امانت پہنچانے کے لئے مارا مارا پھرتا ہے لیکن زینت اپنے شوہر جنید کے قتل کے بعد طلال سے چھپتی پھر رہی ہے اور کہانی کے آ خر پر پتہ چلتا ہے کہ طلال کو ان کے بارے سب کچھ پتہ تھا لیکن وہ اپاہج ہو گیا تھا اور اس کا منشی ان بچوں کو مارنا چاہتا تھا جس نے طلال سے جائیداد ہتیا لی تھی۔

کرداروں میں تبدیلی کی ٹھوس وجہ اکثر جگہوں پر نظر نہیں آتی مثلاً یہی کہ طلال کی محبت ایکا ایکی زینت کے بچوں کے لئے کیسے جاگ گئی جبکہ ڈاکٹر فرح اور اس کے نام نہاد عاشق ہی نے طلال کو گولی ماری ہوتی ہے اور طلال تو کبھی زینت یا اس کے بچوں سے ملا بھی نہیں تھا۔ ناول میں جو وقت علی اکبر ناطق نے نوکریوں اور کامریڈوں پر ضائع کیا اس سے بہتر تھا کہ وہ کرداروں کے آ پس کے تعلقات اور ان کے نتیجے میں پھلنے پھولنے والی محبتوں اور بیگانگیوں پر صرف کرتے تاکہ قاری کے لئے کچھ سلجھاؤ غیر منطقی نہ ہوتے۔

بہرحال وہ دس سالہ بچہ ضامن بیس سال بعد زینت کو دوبارہ ملتا ہے ایک ایسے شخص کے توسط سے جو دونوں کی مشترکہ محبت ہے اور زینت کے وجود کا حصہ ہے۔ ضامن وہ امانت بھی زینت تک پہنچا دیتا ہے لیکن اب اس کا زینت سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔

کہانی چلتی جاتی ہے اور علی اکبر ناطق کی دانائی جا بجا ملتی ہے۔ نمونے کے طور پر چند فقرے ملاحظہ کیجئیے۔

1۔ جس جگہ حس مزاح کے ساتھ سنجیدگی جمع ہو جائے وہاں ولایت دو قدم رہ جاتی ہے۔
2۔ ڈاکٹر صاحب ہم وہ یتیم ہیں جن کی سوتیلی ماں اپنے سگے بچوں کو سزا دینے کے لئے مارتی ہے۔
3۔ سمندر رنگوں کی پہچان چھین لیتے ہیں اور کشتیاں مٹی کی باس۔
4۔ یہاں صورتیں دور دور تھیں اور فطرت سے چھونے کے امکانات زیادہ تھے۔ صورتوں کے ٹکرانے کی بجائے انہیں دیکھنے لے مواقع زیادہ تھے۔

5۔ ان خواتین کی حالت ان بھیڑوں جیسی تھی جن کا دودھ دھونے کی وجہ سے ہڈیاں نکل آئیں تھیں اور ان ہڈیوں کو چھپانے کے لئے ان کی اون نہیں اتاری گئی تھی۔

6۔ میں راستوں کے نشیب سے منزلوں کی قاشیں کاٹ لینے کا ماہر تھا مگر دنیا نے میرے ہاتھ سے چاقو چھین لئے تھے۔
7۔ میلوڈی بک ڈپو اسلام آ باد میں ایک روایت ہے اور روایتیں مر جائیں تو شہر ویران ہو جاتے ہیں۔

8۔ تم اپنی خوبصورتی انتہائی بے رحمی سے چھپائے رکھتے ہو۔ تم پانی سے بھرے ہوئے بادل ہو جو خشک زمینوں کی تلاش میں رہتا ہے۔
9۔ مقامات لوگوں کی انسیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ جب لوگ وہاں سے ہٹ جائیں تو وہی مقامات وحشت کا سامان لئے ہوتے ہیں۔
10۔ کتنی عجیب بات ہے انسان جب لوگوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے تو خدا سے بھی بے اعتنائی برتتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words