فلسطین اور اسرائیل۔ کچھ سچ، کچھ جھوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگست 2016 میں کشمیر پر ایلن بیری کا ایک مضمون نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں پہلی دفعہ یہ بات سامنے لائی گئی کہ ہندوستان بھارت میں عام شہریوں پر پیلٹ گن جیسے غیر انسانی ہتھیار کا استعمال کر رہا ہے۔ اسی مضمون سے متاثر ہو کر بھارت ہی کے مشہور اخبار ہندو نے اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کی جس سے معلوم ہوا کہ پیلٹ گن کے زیادہ تر متاثرین 12 سے 14 سال کے بچے اور بچیاں ہیں جن میں سے کئی اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔ اس رپورٹ نے گویا ضمیر عالم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اگلا ایک سال بین الاقوامی پریس اس پر آواز اٹھاتا رہا۔ بھارت کو عالمی سطح پر مطعون ہونا پڑا۔ اس سے کشمیر کاز کو بھی تقویت ملی۔ یہ سلسلہ ستمبر 2017 تک چلتا رہا۔

ستمبر 2017 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تقریر کی جس میں انسانی حقوق کے حوالے سے انہوں نے بھارت کے ریکارڈ کے دفاع کی اپنی سی کوشش کی۔ اس تقریر کے بعد ملیحہ لودھی کی باری آئی تو انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارت پر شدید تنقید کی۔ شاید بھارت کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتا مگر جوش خطابت میں ملیحہ لودھی نے اپنے کاغذات سے ایک تصویر نکالی اور اسے لہرانا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک یہ بھارت کی بربریت کا ایک ناقابل تردید ثبوت تھا۔

تصویر میں پیلٹ گن کی تباہ کاری کا شکار ایک نوجوان لڑکی کا چہرہ ہر کسی کو متاثر کر گیا۔ تصویر چند لمحوں میں وائرل ہو گئی پر اس سے پہلے کہ اس سفاکیت پر بھارت کی مذمت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ یہ تصویر نہ کشمیر کی ہے نہ کسی کشمیری لڑکی کی بلکہ ایک فلسطینی لڑکی راویہ ابوجما کی ہے اور تین سال پرانی ہے۔ 22 جولائی 2014 کو ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر ہائیڈی لیوائین نے یہ تصویر غزہ کے الشفاء ہسپتال میں لی تھی۔

راویہ کے گھر پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے اس کی بہنیں جاں بحق ہو گئی تھیں اور راویہ کو شدید زخم آئے تھے۔ اس کے چہرے پر موجود زخم پیلٹ گن کے چھروں کے نہیں بلکہ اس کے گھر پر گرنے والے بموں سے نکلنے والے باریک شظایا کے باعث تھے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے 2014 میں غزہ پر کیے گئے حملے میں 2000 سے زائد لوگ اپنی جان سے گئے تھے اور راویہ جیسے لاتعداد شدید زخمی ہوئے تھے۔

چند لمحوں میں عالمی پریس میں سارا بیانیہ بدل گیا۔ اب بات نہ بھارت پر تھی نہ اسرائیل پر بلکہ اس پر کہ ایک عالمی فورم پر ایک ملک کے مندوب نے جھوٹ بول کر یا غلط بیانی کر کے عالمی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارتی چینلز پر پاکستان کو لے کر یہ بحث زور پکڑ گئی کہ پاکستان اسی طرح عالمی اداروں کی آنکھ میں ہمیشہ سے دھول جھونکتا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں پر بھی یہی ٹرینڈ شروع ہو گیا۔ ایک چھوٹی سے غلطی سے سفارت کاری میں ہمیں ایک ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ کشمیر پر بنا ہوا پورا منظر نامہ چند گھنٹوں میں تحلیل ہو گیا۔ جنرل اسمبلی کے صدر میروسلاو لیجیک کو باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے یہ کہنا پڑا کہ انہیں تصویر کے اس غلط استعمال پر اب سوچنا پڑے گا کہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

2017 سے اب تک دوبارہ کبھی پیلٹ گن پر بات نہیں ہو سکی۔ فیک رپورٹنگ اور حقائق کے منافی ایک تصویر نے اصل موضوع کو کہیں دفن کر ڈالا۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ اس کہانی کے کئی اور بھی پہلو ہیں۔ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ہم حقائق سے زیادہ جذبات کی جگالی کرتے ہیں۔ تاریخ سے نابلد عوام نہ اس سیاسی بلنڈر سے آگاہ ہے جس نے کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈالا نہ ہی 1948 کی جنگ کے اصل حقائق سے۔ ہم تو آج تک آپریشن جبرالٹر سے بھی لاعلم ہیں اور 1965 کی جنگ کو لاہور کی سرحد پر ہونے والی جنگ سمجھتے ہیں۔ کارگل کی جنگ میں جو کچھ ہم نے کھویا اس پر بھی شاید کبھی کسی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ ہمیں کچھ آدھا ادھورا سہی، سچ بتا ہی دے۔

کشمیر کے نام پر ہمارے ہزاروں نوجوان مروائے گئے، اربوں ڈالر کھائے گئے اور جو نتیجہ نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔ مقبوضہ کشمیر اب بس باتوں کی حد تک نہیں، بھارتی آئین کے تحت قانونی طور پر بھی بھارت کا اٹوٹ انگ بن گیا ہے۔ کشمیری خاندان اسی طرح منقسم ہیں، کشمیری معیشت اسی طرح تباہ ہے پر اس قضیے کے نام پر دونوں جانب کتنے ہی اداروں اور لوگوں نے دولت کے انبار اکٹھے کر لیے ہیں۔ آہستہ آہستہ شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کی آنکھیں کھل رہی ہیں، اسی لیے اب لیاقت بلوچ جب اپنے صاحبزادے کی غیر ملکی ڈگری پر ٹویٹ کرتے ہیں تو ان کی تحسین کے بجائے تنقید کے دفتر کھل جاتے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب بہت سوں کے لیے کشمیر ایک انسانی المیہ نہیں، ایک کاروبار ہے اور اس کا حل ان کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے یہ قضیہ شاید یوں ہی چلتا رہے گا۔

اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے بھی ہماری باسی کڑھی میں ہر کچھ عرصہ بعد جذبات کا ایک ابال اٹھتا ہے۔ میں کسی کی نیت پر شک نہیں کرتا نہ ہی کسی کے دکھ کو ماپنے کا کوئی پیمانہ میرے پاس ہے۔ میں یقین کیے لیتا ہوں کہ یہ سارا دکھ، یہ سارا غصہ، یہ الم بھری شاعری، یہ آگ اگلتے نعرے، یہ سوشل میڈیا کا جہاد سب اظہار کا ایک قرینہ ہے لیکن اس قرینے سے جڑے لوگوں کو بہت سارے کالے میں ملی تھوڑی سی دال کے بارے میں بتانا نہ ہی اس المیے سے غداری ہے اور نہ ہی ظلم کی تائید ہے۔

اگر آپ کے بیانیے میں کھوٹ، فیک رپورٹنگ، غلط تاریخی حقائق اور بے ایمانی کی ملاوٹ ہے تو یہ بیانیہ کبھی بھی تبدیلی نہیں لائے گا۔ جو اس ملاوٹ پر آپ کو خبردار کرے، اسے دشمن سمجھنا چھوڑ دیجیے کہ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ سچ بولا جائے تو پورا بولا جائے۔ سچ کی طاقت سے پھوٹنے والی تحریک سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، انسانی تاریخ اس کی گواہ ہے اور جھوٹ کی بنیاد پر تعمیر ہونے والا ہر ہوائی قلعہ آخر میں کیسے زمین بوس ہوتا ہے، اس کے بھی ہم سب شاہد ہیں۔ سچ جان کر اپنی آواز اٹھائیے اور ہمیشہ ظلم کے خلاف اٹھائیے۔ شاید کسی خوش آئند تبدیلی کی کوئی کونپل سچ کے بیج سے پھوٹ سکے۔ جھوٹ بونے سے صرف زمین بنجر ہوتی ہے، صحرا پہلے بھی وسیع تر ہے اور اس میں کتنا اضافہ کرنا ہے؟

نئے فیشن میں ایڈورڈ سعید، نوم چومسکی، اقبال احمد، نارمن فنکل سٹائن یا اروندھتی رائے کا نام لے کر ہر اس شخص پر لفظی بمباری کی جاتی ہے جو اسرائیل فلسطین مسئلے پر پاکستان میں پائی جانی والی پاپولر رائے سے ذرا بھی مخالف زاویے پر مقیم پایا جائے۔ ہم اس پر شک کا اظہار نہیں کرتے کہ ان لوگوں کے نام کا ورد کرنے والوں نے انہیں پڑھا ہے یا نہیں لیکن ہمیں یہ کہہ لینے دیجیے کہ جس تناظر میں ان لوگوں نے اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے رکھا ہے اس سے ہمارے اکثر دانشوران امت بے خبر ہیں۔

پہلی بات تو یہ سمجھ لیجیے کہ ان بہت بڑے ناموں میں سب سے بڑی قدر مشترک ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا اور معروف معنوں میں اس جھوٹے خدا کا انکار ہے جو وطنیت یا مذہب کے نام پر عوامی رائے کا جزو لاینفک بنا دیا جاتا ہے۔ یہ جس ملک کے شہری ہیں یا تھے، انہوں نے کبھی اس کی استعماری پالیسی کی حمایت نہیں کی۔ ان کا بیانیہ ہمیشہ پاپولر بیانیے کے مخالف رہا۔ یہ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے سب سے بڑے مخالف رہے اور ظلم کے خلاف ان کی آواز کسی گروہ سے مشروط نہیں رہی۔ یہ تشدد کو تشدد سے حل کرنے کے کبھی نقیب نہیں رہے اسی لیے انہوں نے تشدد کی کبھی حمایت بھی نہیں کی۔

کیا ہم بھی انہی اصولوں کا پالن کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے ہم بلوچستان کے حقوق کی آواز بھی اسی طرح اٹھاتے ہیں۔ کیا ہزارہ کے قتل عام پر ہم اتنے ہی رنجیدہ ہوتے ہیں۔ کیا وزیرستان اور خیبر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھی ہمارا خون ایسے ہی کھولتا ہے۔ کیا جیٹ طیاروں کی اپنے ہی شہریوں پر بمباری ہمیں اتنی ہی بری لگتی ہے جتنی غزہ پر گرتے ہوئے میزائل۔ کیا تزویراتی گہرائی کے نام پر افغانوں سے کھیلی گئی ڈبل اور ٹرپل گیم کی ہم ویسے ہی مذمت کرتے ہیں جیسا کہ امریکا کے اسرائیل فلسطین تنازعے میں ادا کیے گئے کردار کی۔ کیا سندھ میں رقم کی گئی تشدد کی داستانوں پر ہماری آواز اتنی ہی توانا رہی ہے جتنا کہ شیخ الجراح کے بے دخل مکینوں کے لیے اس میں گرج تھی۔ اور تو اور کیا اوکاڑہ میں ہونے والی بے دخلیوں پر بھی ہمارا دل ایسا ہی دکھتا ہے جیسا کہ کبھی یافہ پر لہو ہوا تھا۔

اگر امت کو جسد واحدہ سمجھنے والا فلسفہ مان لیا جائے تو یمن میں غزہ سے کہیں زیادہ مرنے والے مسلمان شیر خوار بچوں پر ہمارا دکھ سوشل میڈیا پر نظر کیوں نہیں آیا۔ اسرائیل پر لعنت بھیجنے والا ٹرینڈ کبھی ایغور مسلمانوں کے کنسنٹریشن کیمپس پر ہمارے ہمالہ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہرے دوستی کے حوالے سے جانے جانے والے برادر ملک کے لیے کیوں نہیں چلا۔ لاکھوں کرد مسلمانوں کی شام، عراق اور ترکی کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی پر ہمارے قلم سے کوئی لہو رنگ حرف کیوں نہیں ٹپکتے۔ فیض صاحب کا فلسطین کے لیے نوحہ تو موجود ہے پر کیا وجہ ہے کہ مسلم کریمین تاتاریوں کی سوویت یونین کے ہاتھوں نسل کشی پر انہوں نے کبھی ایک لفظ نہیں کہا۔ کیوں ہمیں آرمینی مسلمانوں کی تباہی کا علم ہی نہیں ہے۔

یہاں تک مجھے قبول ہے کہ کسی ایک المیے پر لکھے ہوئے کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط بے ہودہ ہے کہ اس کی حرمت اس وقت تک طے نہیں ہو گی جب تک ناقد کے منتخب کردہ المیوں پر لکھنے والے کا احتجاج دریافت نہیں ہو جاتا۔ لیکن یہاں بات ایک مصنف، ایک تحریر یا ایک نظم کی نہیں ہے، یہ تو ایک اجتماعی معاشرتی رویہ ہے جس کی صرف ایک آنکھ کھلی ہے اور وہ کبھی بھی دوسری آنکھ پر بندھی پٹی کھولتا ہی نہیں ہے۔ بصیرت کی تیسری آنکھ کا تو ذکر ہی کیا۔

جن بڑے ناموں کا ہم نے ذکر کیا، ان میں اور ہمارے بیانیے کے علمبرداروں میں فرق یہ ہے کہ ہماری صفوں کے آگے چلنے والوں نے ظلم کو مذہب، زبان، نسل، رنگ، قوم اور جغرافیے میں تقسیم کر دیا ہے۔ ظلم کی ایک متعین شکل بنا دی گئی اور یہ طے کر لیا گیا کہ اس شکل کے علاوہ ظلم کی کوئی اور ہیئت نہیں ہے۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ ظلم ویسے ہی آفاقی ہے جیسا کہ انسان۔ ہم اب انسان کے خلاف ظلم دیکھنے کے قابل نہیں رہے چاہے کہنے کو ہمارا نعرہ انسانیت کا ہو۔

لیکن دنیا کا شعور اجتماعی اس طرح نہیں سوچتا۔ جب اس کے اور آپ کے انسانیت کے پیمانے پر ظلم کی تعریف رکھی جاتی ہے تو آپ کا پیمانہ چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی بات درست ہو بھی تو اسے وہ پذیرائی نہیں ملتی جو ملنی چاہیے کیونکہ دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ آپ ظلم کی کائناتی نہیں بلکہ اختصاصی تعریف پر بضد ہیں۔ اسی لیے کبھی آپ کو جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے، کبھی تاریخی حقائق کو مسخ کرنا پڑتا ہے، کبھی اپنے ہیروز کی ستائش کے لیے بے ایمانی کرنی پڑتی ہے اور کبھی اپنے ولن کے چہرے پر خود ساختہ کریہہ نقاب ڈالنے پڑتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظلم کے خلاف ہم سچ، اصول اور یقین کی زمین پر کھڑے نہیں ہو پاتے۔ ہمارے پیروں کے نیچے ایک سرکتی ہوئی ریت کا میدان ہے جو کبھی ہمیں پورے قد سے ایستادہ ہونے ہی نہیں دیتا۔ اگر آپ واقعی اقبال احمد اور نوم چومسکی کے نام کا پرچم اٹھا کر چلنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے تعصبات کو تو دفن کر دیجیے، پھر اگلی بات کیجیے گا۔

ایڈورڈ سعید فلسطینی امریکی تھے اور اسرائیل کے سخت ناقد۔ ایک لیکچر میں ان سے پوچھا گیا کہ یہودیوں کا سرزمین مقدس پر حق فائق ہونے کا دعوی کس قدر صداقت پر مبنی ہے تو انہوں نے کہا

”یہ دعوی بھی اور بہت سے دعووں کی طرح ایک دعوی ہے۔ میں اس دعوے کا منکر نہیں ہوں لیکن یہ ایسا ہی دعوی ہے جیسا کہ کسی عرب کا ہے یا اور بہت سے ایسے قبائل کا جو کسی نہ کسی زمانے میں اس سرزمین میں آباد رہے۔ اس سرزمین پر یہودیوں کا بھی وہی حق ہے جو کہ مسلمانوں کا۔ یہ حق کس نے کس کو دیا ہے، یہ ایک بحث طلب مسئلہ ہے لیکن مجھے اس پر شک ہے کہ خدا نے کسی کو یہ حق دیا ہے۔ اور اس سے قطع نظر کہ دعوی یہ ہے کہ حق خدا کی طرف سے ودیعت ہوا ہے یا بادشاہ کی طرف سے، کسی کو اس دعوے کی بنیاد پر یہ استحقاق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی اور کو اس زمیں سے بے دخل کر دے۔ یہ ایک فضول منطق ہے“

ایڈورڈ سعید کی اس بات سے اختلاف کیونکر ممکن ہے لیکن اسی بنیاد پر جب ہم صیہونیوں یا یہودیوں کا خدا کو بیچ میں رکھ کر اپنا دعوی تشکیل دینے کے امر کو غلط کہتے ہیں تو ہم بھی محض اس بنیاد پر یروشلم یا بیت المقدس پر حق نہیں جتا سکتے کہ خدا نے اسے ہمارا قبلہ اول بنایا تھا۔ بیت المقدس کے ہیکل سلیمانی اور دیوار گریہ کو ہم اپنی مرضی سے مسجد اقصی کا حصہ نہیں کہہ سکتے۔ جب ہم دلیل کی بنیاد پر صیہونی دعوے کا رد کرتے ہیں تو اسی سانس میں ویسا ہی ایک دعوی خود بنا کر اپنی ہی دلیل کی نفی نہیں کر سکتے۔

ایسے وقت پر جذبات سے لبریز ذہنوں کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ جس طرح صیہونیوں کا دعوی غلط ہے اسی طرح ہمارے دعوے میں بھی سقم ہے۔ مذہبی روایت تاریخی شہادت نہیں ہوتی۔ مسجد اقصی نام کی عمارت رسول اللہ کی وفات کے نصف صدی بعد بھی وجود نہیں رکھتی تھی۔ ہمارے اپنے مورخ ہمیں بتاتے ہیں کہ تقدس کا یہ سارا کارخانہ کیونکر عبداللہ ابن زبیر اور عبدالملک بن مروان کی متوازی خلافت کی وجہ سے وجود میں آیا۔ لیکن ہم یہ بات سننے کو تیار نہیں۔

ہمارے دوست بضد ہیں کہ مسجد اقصی رسول اللہ کی حیات میں موجود تھی۔ جب پوچھا جائے کہ یروشلم میں تو کوئی مسلمان تھا ہی نہیں تو مسجد کہاں سے آتی اور یہ بھی کہ جس مسجد اقصی کو آج وہ قبلہ اول مانتے ہیں، اس کا رخ مکہ کی طرف کیوں ہے تو پھر تاویل کے ایسے دفتر کھول دیے جاتے ہیں کہ بات نہ کرنے میں ہی عافیت رہ جاتی ہے۔

ہم نے اپنی انہی غلطیوں کی وجہ سے ایک خالص انسانی مسئلے کو مذہب کی جنگ بنا دیا۔ انسانیت کے مسئلے پر پوری دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہو سکتی تھی لیکن مذہب کے نام پر ہم نے اس متوقع حمایت کو خود ہی تقسیم کر دیا۔ اس پر ہی بس نہ کر کے ہم نے یہود و نصاری کو ایک صف میں کھڑا کر دیا اور اس کے بعد موتمر عالم اسلامی اور امت مرحوم سے امیدیں وابستہ کر لیں۔ اس سب کا جو نتیجہ نکلا وہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ بات ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ مسئلہ فلسطین کا ”قبلہ اول کی آزادی“ سے کوئی شعوری، تاریخی اور سیاسی تعلق نہیں ہے اور ایسے مذہبی نعرے پر، جس کا کوئی حقیقی پس منظر بھی نہیں ہے، دنیا ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکے گی۔

یہ بھی شاید ہمارے علم میں نہیں کہ آج بھی مسجد اقصی کمپلیکس کی ذمہ داری اور کسٹوڈین شپ اردن کے پاس ہے جو کہ یقیناً ایک اسلامی ملک ہے۔ فلسطین کا مسئلہ عرب قومیت کے ساتھ گندھا ہے اور دنیا اس بات کو سمجھتی ہے لیکن تحریک فلسطین کو تحریک آزادی القدس بنا کر آپ نہ صرف ایک غلط بیانیے کی تشکیل کرتے ہیں، بلکہ دنیا میں تنہا بھی ہو جاتے ہیں۔ یروشلم کی مشرق وسطی میں وہی سٹریٹیجک حیثیت رہی ہے جو کہ یورپ کے دروازے پر قسطنطنیہ کی رہی۔ اسی لیے ان دو شہروں کے لیے اپنے اپنے وقت کی سپر پاورز میں خوں ریز جنگیں ہوتی رہیں۔

یورپ میں بھی محض مذہبی جذبات بھڑکانے کے لیے ان جنگوں کو کروسیڈز میں بدلا گیا اور ہمارے یہاں بھی مذہبی شعلے بھڑکائے گئے۔ فرق اب یہ ہے کہ یورپ کے عیسائی اب اس نظریے یا مفروضے سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں تاہم ہم اب بھی کچھ صدیاں پہلے سانس لینے پر بضد ہیں۔ صیہونیوں کے لیے مسلمانوں کے برعکس قومیت اور مذہب ایک ہی سکے کے دو رخ رہے اس لیے ان کے لیے یہ زمین لوٹنے کی جا تھی جہاں انہیں ایک ایسا وطن قائم کرنا تھا جس کا وعدہ ان سے ان کے خدا نے کیا تھا۔ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی تو اس فلسفے کی پیروکار نہیں ہے پھر ہم کیوں ان کے نقش قدم پر ہیں جن سے ہمارا شدید ترین نظریاتی اختلاف ہے۔ اس سوال کا جواب ہمارے عرب امپیریلزم سے رومانس میں چھپا ہے جس سے اور کسی نے نہیں، شاعر مشرق علامہ اقبال نے خبردار کیا تھا۔

ایڈورڈ سعید کی بات تو ہو گئی۔ آئیے اب آپ کو نارمن فنکل سٹائن سے ملواتے ہیں۔ فنکل سٹائن یہودی ماں باپ کی اولاد ہیں اور امریکی شہری ہیں۔ مشہور ماہر تعلیم، سیاسی تجزیہ نگار، مصنف اور اسرائیلی پالیسیوں کے شدید ناقد ہیں۔ کچھ برس پہلے یونیورسٹی آف واٹرلو میں ایک خطاب کے بعد سوال جواب کے دور میں ایک نوجوان لڑکی کے مائیک سنبھالا اور فنکل سٹائن پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں اس ہال میں موجود کچھ یہودیوں کو نازیوں سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس طرح انہوں نے ایسے کتنے ہی لوگوں کے جذبات مجروح کیے ہیں جو خود جرمن ہیں اور نازیوں کے ظلم کا شکار رہے ہیں۔

اتنا کہہ کر لڑکی کی آواز بھرا گئی اور پورے ہال نے اس کے بہتے آنسو دیکھے۔ اب سارے کیمرے نارمن فنکل سٹائن پر تھے۔ سب کو توقع تھی کہ وہ اپنے ریمارکس پر شاید معافی مانگ لیں گے یا لڑکی کو تسلی دیں گے لیکن فنکل سٹائن کا جواب سب کی توقعات سے الگ تھا۔

”میں مگرمچھ کے آنسوؤں کی عزت نہیں کر سکتا“ ۔ ہال میں لوگ بھونچکا رہ گئے۔ کچھ نے اپنی سیٹوں سے اٹھ کر چلانا شروع کر دیا۔ ادھر روتی ہوئی لڑکی اب باقاعدہ ہسٹیریا کا شکار تھی لیکن فنکل سٹائن کسی دباؤ میں نہیں آئے۔

”میں مگرمچھ کے آنسوؤں سے متاثر نہیں ہوتا۔ میری ماں بھی جرمن تھی، میرا باپ بھی۔ دونوں نے یہودی ہونے کی سزا نازی عقوبت خانوں میں پائی۔ میرے خاندان نے نازیوں کی بربریت کا شکار لاشیں اٹھائی ہیں۔ یہ میرے والدین کے پڑھائے ہوئے سبق ہی ہیں جس کی بنیاد پر میں چپ نہیں رہ سکتا جب اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اس سے زیادہ شرمناک کیا ہو گا کہ جن یہودیوں نے نازیوں کا تشدد سہا، جو ان کے ہاتھوں شہید ہوئے، آج انہی کی قربانی کا سہارا لے کر فلسطینیوں کی بے دخلی، ان کے گھروں کی تباہی اور ان پر ہونے والے جبر کی کوئی تاویل دے، اسے صحیح ثابت کرے۔ مجھے آپ ان آنسوؤں سے، اس دھونس سے مرعوب نہیں کر سکتے۔ آج یہاں، اس جگہ، اگر آپ کے سینے میں واقعی دل ہے تو روئیے، فلسطینیوں کے لیے روئیے“

نارمن فنکل سٹائن ایک یہودی ہونے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ ظلم ایک آفاقی تعریف رکھتا ہے۔ کسی ایک ظلم کو دوسرے ظلم کا جواز اور کسی ایک مظلومیت کو دوسری مظلومیت کے رد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس رویے کا موازنہ اس رویے سے کیجیے جو ہمارے یہاں عام ہے۔

ہمارے ایک تجربہ کار، کہنہ مشق مگر ذرا غیر معروف صحافی عدیل راجہ صاحب سی این این سے علیحدہ کیے جاتے ہیں کیونکہ فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے کی گئی اپنی ٹویٹ میں وہ کہتے ہیں ”دنیا کو آج ایک ہٹلر کی ضرورت ہے“

یہی نہیں۔ ، اسی دوران دریافت کرنے پر ان کا 2014 کا بھی ایک ٹویٹ مل جاتا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں۔

”میں فٹبال ورلڈ کپ میں جرمنی کی صرف اس لیے حمایت کر رہا ہوں کہ یہ ہٹلر کا ملک ہے جس نے یہودیوں کے ساتھ بالکل درست سلوک کیا تھا“

اس کے بعد راجہ صاحب کے دانشور اور صحافی دوست ان کی حق گوئی اور بہادری کے ٹرینڈ چلاتے ہیں۔ راجہ صاحب بھی ہمارے اسی طرح ہیرو قرار پاتے ہیں جیسا کہ ارون دھتی رائے۔ حد ہو گئی

عدیل راجہ صاحب کے ہی نقش قدم پر ہمارے کتنے ہی دوست تاریخ کے سب سے بڑے نسل کشی کے مجرم ہٹلر کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ ان کے نزدیک ظلم صرف وہ ہے جو مسلمان پر روا رکھا جائے۔ انسانی تاریخ کے بدترین قاتل کو اپنا رہنما مان کر ہم اپنا اخلاقی مقدمہ اتنا کمزور کر لیتے ہیں کہ کوئی ہماری بات سننے کا روادار نہیں رہتا۔ نفرت کے پیمبروں کو سر پر بٹھانے والوں کو کوئی کیسے درست مان سکتا ہے۔ ہم نفرت کا پرچار کر کے دنیا سے محبت کی توقع کرتے ہیں اور پھر اس کی عدم دستیابی پر حیران بھی ہوتے ہیں۔

سوچیے، نارمن فنکل سٹائن کے سامنے اگر عدیل راجہ کھڑے ہوتے تو انہیں کیا جواب ملتا؟

تو بھیا، اقبال احمد، نوم چومسکی اور ایڈورڈ سعید کا صرف نام لینا کافی نہیں ہے۔ ان کے نقش قدم پر پورا پیر دھرنا پڑتا ہے ورنہ سمت کے تعین میں وہی غلطی ہوتی ہے جس کے بعد آج نیلی جھیلوں کی تلاش میں نکلے ہوئے ہم اپنے آپ کو دشت ادبار میں پاتے ہیں۔

جھوٹی بیساکھیوں پر کھڑا ہمارا یہ مقدمہ ابھی پاتال کے سفر سے تھکا نہیں ہے۔ انصار عباسی صاحب جیسے موقر صحافی لبنان کی برسوں سال پرانی تصویر جس میں ایک لبنانی سپاہی ایک زخمی عورت کو سہارا دے کر لے جا رہا ہے، لگاتے ہیں اور اسے غزہ کے حالیہ سانحے سے منسلک کر کے یہ تاثر دیتے ہیں جیسے ایک اسرائیلی سپاہی کسی فلسطینی دوشیزہ کی عزت کے درپے ہے۔ ایک تشدد سے بھری نظم بڑے جید دانشوروں کی طرف سے اپنی دیوار کی زینت بنائی جاتی ہے، یہ کہہ کر کہ یہ اسرائیل کے قومی ترانے کا ترجمہ ہے۔

حالانکہ اس نظم کا اس ترانے سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لندن میں فلسطین کے حق میں نکلی ریلی کے بعد کچھ گاڑیاں سڑکوں پر نکلتی ہیں جس میں سوار افراد میگا فون پر یہ نعرے لگاتے ہیں کہ ہر یہودی کو خون میں نہلانا ہے اور ان کی بیٹیوں کی عصمت دری کرنی ہے۔ صرف ہولوکاسٹ کی تعریف اور تحسین نہیں کی جاتی بلکہ صدیوں پرانے بنو قریظہ کے قتل عام کو بھی پھر سے اجاگر کرنے کی مہم چل نکلتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کربلا پر صدیوں بعد بھی ماتم کناں ہیں پر بنو قریظہ کے بچوں کے قتل کو ساتھ ساتھ درست کرنے کی ہزار تاویلات ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہو تو کیسے کھڑا ہو۔ یروشلم ڈے پر آتش بازی سے اقصی کمپلیکس میں مسجد سے دور ایک درخت میں لگی آگ کی پرانی ویڈیو کو گھنٹوں میں پورے میڈیا پر مسجد اقصی پر حملہ آور یروشلم ڈے پر رقص کناں اسرائیلیوں کو اس حملہ کا جشن مناتے ہوئے بتا دیا جاتا ہے اور صم بکم عمی فہم لایعقلون نہ صرف امت مسلمہ اس جھوٹی خبر پر ایمان لے آتی ہے بلکہ بڑے بڑے میڈیا گروپ بھی اس خبر کو ایسے ہی ٹی وی چینلز پر چلا دیتے ہیں۔ اپنی بے عقلی کا ماتم کریں کہ صحافت کے زوال کا نوحہ پڑھیں۔

اپنی اخلاقی برتری کا ترانہ پڑھنے والوں کو اہل شام سے ہوئے حضرت عمرؓ کے معاہدے کو بھی پڑھ لینا چاہیے۔ خلافت نے اقلیتوں پر کیا شرائط عائد رکھیں، وہ بھی محل نظر ہونی چاہئیں۔ عبادت گاہوں کے بارے میں ہمارے تاریخی رویے جو آج بھی ابا صوفیہ میں دیکھے جا سکتے ہیں، ان پر بھی سوچ لینا چاہیے۔ میں یہ ماننے کو تیار ہوں کہ اقوام متحدہ کی تشکیل کے بعد عالمی قوانین بدل گئے ہیں لیکن یہ بھی تو مانیے کہ یہ قوانین اسی لیے وضع کرنے پڑے کہ استعماری اور سامراجی قوتوں نے اخلاقی قدروں کو ہر دور میں پامال کیا۔

اور کسی زمانے میں وہ عرب بھی اسی غیر اخلاقی استعمار اور سامراج کے پیمبر تھے، جن کی تاریخ کے سلنڈر سے لگی مصنوعی آکسیجن کو ہم اپنے برگد کے درختوں سے چھن کر آتی ہوا پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہماری تاریخ اخلاقی حوالوں سے تابناک نہیں ہے اس لیے اسے مثال بنا کر اسرائیل پر سنگ زنی کرنا ممکن نہیں ہے پر کیا کیجیے کہ ہم پہلے کون سا کام سیدھا کرتے ہیں۔

سنہ 1947 کی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست چوالیس فی صد تھی۔ چوالیس فی صد فلسطینی ریاست کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ تعلیمی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو مضبوط بناتے۔ ہر دفعہ وہ معاہدے کی میز سے عرب ریاستوں کے دباؤ کی وجہ سے اٹھ آئے اور پھر ہر دفعہ اس خواہش کا اظہار کرتے پائے گئے کہ کاش وہ پچھلا معاہدہ کر لیتے۔ عرب ریاستوں کے پاس پیسہ موجود تھا جس سے فلسطین کی معاشی اور سماجی مدد ممکن تھی۔ لیکن یہ پیسہ جنگوں میں جھونک دیا گیا۔

ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، سولہ دفعہ عرب ریاستوں نے اسرائیل سے جنگ چھیڑی۔ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ بڑھتا چلا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ وہی نصف خطے پر بنی فلسطینی ریاست سکڑ کر 10 فی صد کے قریب رہ گئی ہے۔ غزہ، جو دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ ہے، اس کو محصور کرنے کا ذمہ دار اسرائیل سے زیادہ ہمارا برادر اسلامی ملک مصر ہے۔ کیا ہم مصر سے بھی سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔

ترکی، جسے ہم فلسطین اسرائیل تنازعے میں اپنا سرخیل سمجھتے ہیں، اسرائیل سے سات ارب ڈالر کی تجارت کرتا ہے، کیا ہم اسے آئینہ دکھانا پسند کریں گے۔ بلیک ستمبر پر فلسطینیوں کا تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام مسجد اقصی کے کسٹوڈین اردن نے کیا تھا اور وہ بھی افواج پاکستان کی مدد سے، مرد مومن ضیاء الحق کی سپہ سالاری میں۔ یہ تاریخ کیا ہم کبھی اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ اگر اس وقت پی ایل او دہشت گرد تھی تو آج حزب اللہ اور حماس کیوں نہیں ہیں؟

اسرائیل کے صیہونی کارپردازوں کے ظلم کی حمایت تو ممکن ہی نہیں پر اپنے گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ہے۔ حماس ہر رمضان میں اسرائیل پر راکٹوں سے ایک بڑا حملہ ضرور کرتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئرن ڈوم کی موجودگی میں ان کا حملہ بڑی حد تک ناکام رہے گا۔ اس کے بعد لامحالہ اسرائیلی جواب کے تناظر میں حماس پوری دنیا سے فنڈ اکٹھا کرتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر پیسے کا کھیل ہے جس میں قربانی مظلوم فلسطینیوں کی ہوتی ہے۔

اس برس بھی دو بچوں سمیت بارہ اسرائیلی شہریوں کے بدلے غزہ میں ڈھائی سو جانیں گئی ہیں جن میں 65 بچے بھی مرے ہیں، اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ غزہ کی معیشت جو پہلے ہی تباہی حال تھی، اپنے گھٹنوں پر آ گئی ہے اور سیز فائر کے بعد سے حماس اور امت مسلمہ فتح کا جشن منا رہی ہے۔ دماغی معذوری کا کوئی اور ثبوت چاہیے کیا ہمیں۔

ہم نے عرب صیہونی تنازع کر مسلم یہودی تنازع بنا کر اپنا مقدمہ کمزور کیا۔ پی ایل او کو فلسطینی سیاست سے باہر کر کے حماس اور حزب اللہ جیسی متشدد تنظیموں کو کھڑا کیا جو انسانی ڈھال کے پیچھے اسکولوں اور ہسپتالوں میں اپنا اسلحہ رکھ کر ہزاروں فلسطینی جانوں کے زیاں کا سبب بنے۔ تاریخ سے مکمل نا آشنائی کے ساتھ ہم نے مقدسات پر جذبات کی خرید و فروخت کی۔ اسرائیل کی ترقی اور عرب دنیا کی پس ماندگی بھی سب کے سامنے ہے۔

صرف سائبر سیکیورٹی میں دنیا کی پوری سرمایہ کاری کا بیس فی صد اسرائیل کو ملتا ہے جس کی آبادی دنیا کی آبادی کے ایک فی صد کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔ یہ انہیں اس لیے نہیں ملتا کہ وہ یہودی ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اس قابل ہیں۔ یہ یاد رہے کہ اسرائیل میں آج بھی دس لاکھ مسلمان شہری ہیں جو اسرائیل کی شہریت ترک نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ اس معاشرے کو اپنی لیے فائدہ مند خیال کرتے ہیں۔

ظلم کی آفاقی تعریف کو سامنے رکھیے۔ جھوٹ اور سچ میں تفریق کرنا سیکھ لیجیے۔ سیاست کے معنی بھی دیکھ لیجیے اور مورخ کے لفظ بھی پرکھ لیجیے۔ اسرائیل کے مظالم اور اسرائیل کی جارحیت کا دفاع کوئی باشعور شخص نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے کرنا چاہیے۔ بس کرنا یہ ہے کہ مذہب کے تنگ دائرے سے باہر اس المیے کو انسانی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ستر سالوں میں سولہ جنگوں کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بس یہی ایک لائحہ عمل رہ گیا ہے کہ راکٹ برسائے جائیں اور بدلے میں اپنی رہی سہی مال و متاع بھی گنوا دی جائے۔

کیا فلسطین کا مسئلہ واقعی کسی میدان جنگ میں حل ہو گا یا کسی مذاکرے کی میز پر۔ اسرائیل کو کیا پتھروں اور غلیلوں سے شکست دینا ممکن ہے یا ان کا مقابلہ علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کرنے کی ضرورت ہے۔ احتجاج کے لیے کیا حماس اور حزب اللہ کا منشور درست ہے یا اس جدوجہد کا کوئی نیا دستور مرتب کرنا پڑے گا۔ سوال بہت سے ہیں۔ جواب تاریخ میں بھی چھپا ہے اور آج کے عالمی منظر نامے میں بھی۔ لیکن جو، جس طرح، جیسے ہوتا آیا ہے، سچ یہ ہے کہ اس میں فلسطینیوں نے کھویا بہت ہے، پایا کچھ نہیں ہے۔ کیوں نہ کچھ بدل کر دیکھا جائے، شاید کہیں گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے سورج کی کوئی کرن روپہلے افق میں بدل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 169 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “فلسطین اور اسرائیل۔ کچھ سچ، کچھ جھوٹ

  • 01/06/2021 at 1:02 pm
    Permalink

    مسجد اقصی نام کی عمارت رسول اللہ کی وفات کے نصف صدی بعد بھی وجود نہیں رکھتی تھی۔ ہمارے اپنے مورخ ہمیں بتاتے ہیں کہ تقدس کا یہ سارا کارخانہ کیونکر عبداللہ ابن زبیر اور عبدالملک بن مروان کی متوازی خلافت کی وجہ سے وجود میں آیا۔ لیکن ہم یہ بات سننے کو تیار نہیں۔
    یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اس میں مسجد اقصیٰ کا ذکر موجود ہے (اسراء 1) لیکن آپ کی تحریر میں اس کی نفی کی گئی ہے۔۔۔کیا ملیحہ لودھی کی طرح آپ کی یہ ایک غلطی بھی آپ کے پوری تحریر کے لیے”کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا”نہیں ثابت ہو رہی؟

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *