تحقیقی عمل کا طریق کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحقیقی کام دیگر نگارشات کی نسبت نہ صرف ایک مشکل کام ہے بلکہ ایک منفرد اور الگ نوعیت کا کام ہے بنیادی فرق یہ بھی ایک طرح کا سمجھا جاتا ہے کہ تحقیقی کام کا زیادہ تر مواد لائبریریوں سے دستیاب ہوتا ہے جس میں مختلف طرز اور نوعیت کے ہوتے ہیں کیوں کہ بعض کتب اتنی پرانی ہو جاتی ہیں کہ ان کا کوئی نیا ایڈیشن دستیاب نہیں ہوتا اور اس طرح بعض اوقات لوگوں کو پسند کا مواد مل جائے تو وہ چرانے سے بھی بعض نہیں آتے وغیرہ۔

ایک معیاری تحقیقی کام کوئی اتنا آسان نہیں تاہم اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اپنا ہی لطف ہے یہ کام نہ صرف آپ کے لیے علمی ترقی کا ثمر ہے بلکہ ایک بڑے چیلنج پر پورا اترنے کی تسکین بھی۔ تحقیقی طریقہ کار کا مرحلہ وار جائزہ لینے سے بیشتر متعدد جزئیات سے قطع نظر لازم ہے کہ پیش نظر کام اہم بنیادیں دریافت کر لی جائیں۔ تحقیقی کا عمل جہتی لوازمات پر مبنی ہے۔

1۔ تلاش
2۔ مطالعہ
3۔ تسوید
1۔ تلاش:

اکثر لوگ موضوع کی تلاش کے ضمن میں زیادہ محنت سے کام نہیں لیتے یا محنت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ جو تحقیقی نقطہ نظر سے اہم خامی سمجھی جاتی ہے تاکہ چاہیے یہ کہ عام روش سے ہٹ کر موضوع کے بارے زیادہ اہمیت سے کام لیں، اس کے ساتھ شاید ہی ایسا ہوتا ہے کہ فراہم شدہ مواد پر سرسری غور و فکر کرتے ہی اچھا موضوع سوجھ جائے اس کے علاوہ ایک تحقیقی کار حصول مواد کی غرض سے کارڈ کیٹلاگ کی رہنمائی کے علاوہ دیگر موثر طریقہ کار بھی اختیار کرنے ہوں گے۔

2۔ مطالعہ:

مطالعہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ فراہم شدہ معلومات کی تفہیم کر سکیں بلکہ تحقیق کار کو اس قابل ہونا چاہیے کہ ایسے مواد کی نشاندہی کر سکیں جو مخصوص تحقیقی مقصد کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہو ایسا نہ ہو جو آپ مواد تلاش کریں جو آپ کے ممکن موضوع کی مکمل ترجمانی نہ کرتا ہو یا اس کے ایک حصے کو اپنے دائرے کار میں لاتا ہو۔ مطالعہ سے تحقیق کار کو مواد کے ساتھ اپنے موضوع کے بنیادی اصولوں کا بھی ادراک ہوتا جائے گا گویا اس کی تحقیق کس حوالے سے اور کس نقطہ نظر پر ہوگی؟ اور وہ اپنے تحقیقی کام کو شاندار بنانے کے لیے اور کون سے تحقیقی کام سر انجام دیتا ہے۔ اور اس کے تحقیقی عمل میں کن کن مسائل کا اسے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

3۔ تسوید:

چونکہ ایک تحقیق کار نے اپنے دریافت شدہ مصادر سے معلومات و خیالات کا بہت بڑا ذخیرہ فراہم کر لیا ہے سو اس قدر زیادہ مواد کو ذہانت سے مربوط و منظم کرنا، اگر اچھے اسلوب سے بڑا نہیں تو اس کے برابر کا کام ضرور ہو۔ کیونکہ ایک تحقیق کار اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلوب نگارش کی اہمیت کم ہے اصل میں تحقیق کار اپنی تحقیقی کام کی وجہ سے اصل متن کی ایک طرح سے پذیرائی کر رہا ہوتا ہے۔

اور بعض اوقات تحقیقی کام دیکھ کر اصل متن کے پوشیدہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں اور ایک تحقیق کار کی مدد سے اس فن پارے کی جو پذیرائی حاصل ہوتی وہ پہلے اس سے محروم سمجھا جاتا ہے۔ یہ تینوں کام موثر قوت فیصلہ اور لسانی مہارت کے موزوں استعمال کے متقاضی ہیں صفائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے تحقیقی کام صرف کرانے والے نقطہ نظر نہیں بلکہ یہ امر ایک تحقیق کار کے اپنے مفاد میں بھی اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک بہت بڑے ذخیرہ معلومات کے حوالے سے کام کرتے ہوئے لا پرواہی کرنے سے بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

اس نوع کی مہارتوں اور قوت فیصلہ کے اکتساب کے لیے وقت اور تجربہ درکار ہے سو پہلے تحقیقی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی غرض سے چند ہفتوں کی نہیں بلکہ مہینوں بھی کی منصوبہ بندی کرنا بھی تحقیق کار کا ایک اہم کام ہے۔ اور پھر اس مواد کا طریقہ استعمال اور اس تحقیق کے لیے مستقل مزاجی دوسری اہم خوابی کا ہونا بھی ضروری ہے۔

مواد کے حصول کے ذرائع:

کسی بھی زبان کے ادب کا جتنا مواد موجود ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے کسی ادیب کے جملہ نگارشات موجود نہیں ہیں مثلاً غالب روزانہ کسی نہ کسی کاغذ پر کچھ نہ کچھ لکھتے ہوں گے ان سے کتنی چیزیں محفوظ ہیں ہمارے بڑے شعراء اور نثر نگاروں نے اپنی تخلیقات کو ایک بار یا کئی بار ہاتھ سے لکھا ہوگا تب طباعت کے لیے رہا ہوگا۔ کس کس کے پہلے دوسرے اور آخری مسودے محفوظ ہیں۔ سترہویں اٹھارہویں صدی اردو کے کتنے زیادہ شعراء ہوں گے ان سے کتنی محدود تخلیقات باقی ہیں۔

انگریزی کے محقق ”رچرڈایلٹک“ نے بیان کیا ہے ایک جگہ پر
”ہر قدیم دریافت شدہ مخطوطے کے پیچھے دس ہزار مخطوطات ہمیشہ کے لیے تلف ہو گئے ہیں“
ڈاکٹر گیان چند اپنی کتاب ”تحقیق کا فن میں لکھتے ہیں :
ادبی مواد متعدد قسم کا ہوتا ہے دو مختلف بنیادوں پر مواد کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔
1۔ اولین (Primary) اور ثانوی
2۔ داخلی اور خارجی
1۔ اولین (Primary) اور ثانوی:

ان اقسام کا اطلاق زیادہ تر ایک مفرد ادیب پر تحقیق کے سلسلے میں ہوتا ہے اولین مواد زیر تحقیق ادیب کی جملہ تخلیقات اور دوسری مثلاً مسودوں، ڈائری، خطوط وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ تاریخی دستاویزات، تعلیمی ریکارڈ، ملازمت کا ریکارڈ وغیرہ بھی اولین ماخذ ہیں۔ بقیہ مواد ثانوی ہے۔ داخلی اور خارجی مواد یا شہادت کا تعلق کسی متن سے ہوتا ہے۔

2۔ داخلی اور خارجی:

داخلی مواد کسی مصنف کی نگارشات کے مشمولات ہیں بقیہ سب خارجی مواد ہے اس طرح اقبال کا میونسپل رجسٹرڈ کا اندراج تعلیمی ریکارڈ وغیرہ اولین رکارڈ ہوتے ہوئے بھی خارجی مواد ہیں داخلی نہیں۔ ادبی تحریروں کے علاوہ بعض اوقات غیر ادبی تحریروں میں بھی ادیبوں کے بارے مفید معلومات مل جاتی ہیں۔

ماخذی مواد:
ماخذی مواد کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ کتابیں :کتابوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں اول مطبوعہ ”ب“ ، ”قلی یا خطی“ ان میں ادبی مخطوطات کے علاوہ مسودے، ڈائریاں، میونسپل رجسٹرڈ، اسکول رجسٹرڈ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

2۔ جریدے :جریدوں میں رسالوں کے علاوہ اخبار بھی شامل ہیں۔

3۔ دوسری کاغذات:کاغذات میں منجلہ دوسری چیزوں کے ذیل کے کاغذات قابل ذکر ہیں۔ کسی مصنف کے منتشر کاغذات، خطوط، تاریخی دستاویزات، قانونی دستاویزات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔

4۔ بصری مواد:بصری مواد میں فلم، ٹیلی وژن وغیرہ یا کسی بڑے ادیب یا شاعر کے تاریخ وفات والے دن مختلف ادیبوں کی تقریریں شامل ہوتی ہیں۔

5۔ سمعی مواد:سمعی مواد میں رکارڈ یعنی کیسیٹ ”Cassette“ ریڈیو کے ادبی پروگرام یعنی تقریریں مباحثے وغیرہ شامل ہیں۔

6۔ مائیکر و فلم:جس مواد کو (Micro Graphics) کہا جاتا ہے اس میں زیراکس اور دوسرے عکس رکھیے۔
7۔ لوحیں :لوحیں قبروں کے تعویذ، دیواروں پر لوحیں، مقبروں کے گنبد، دروازوں پر نقوش۔
8۔ ملاقات (انٹرویو )
9۔ مراسلت: مراسلت کے ذریعے سوال نامے تیار کیے جاتے ہیں۔
مواد کی فراہمی کے سلسلے میں تحقیق کو شہد کی مکھی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں۔

” تحقیق میں لکھنے سے کہیں زیادہ وقت مواد کی فراہمی میں صرف ہوتا ہے اپنے موضوع سے متعلق نہ صرف تمام اردو کتابوں کو چھان مارنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ رسالوں میں بھی اپنے کام کے مقالے کھوجنے چاہیے کیوں کہ بعض ایسی چیزیں مل سکتی ہیں جو کتابی صورت میں نہیں آئیں گی۔“

جس طرح شہد کی مکھی سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح شہد کی مکھیاں مختلف پھولوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں اسی طرح ایک محقق کو بھی مختلف مواخذ کو شامل کر کے اپنی تحقیق کو بہترین بنانا چاہیے۔

پروفیسر عبدالستار دلوی کے مطابق:
”خالص مواد کی شکل مال سے تجزیہ، درجہ بندی اور تحقیق کے ذریعہ نتائج اور عام اصول وضع کیے جاتے ہیں۔“

تحقیقی مواد کو جمع کرتے وقت بنیادی ماخذات زیادہ اہم اور اہمیت کے حامل ہیں۔ جب کہ ثانوی ماخذات اس درجہ تک نہیں پہنچ پاتے۔ بنیادی ماخذات میں کسی بھی ادیب کی سوچ کا جو ادراک ہوتا ہے اور فن پارے سے جو رہنمائی ملتی وہ کسی اور صورت میں حاصل نہیں ہو پاتی کیوں کہ ثانوی ماخذات ایک الگ شخصیت کے نقطہ نظر میں آتے ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر خالق داد ملک نے اپنی کتاب ”تحقیق و تدوین کا طریق کار“ میں مواد کی جمع آوری کے مصادر کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا ہے کہتے ہیں :مصادر کی پہلی قسم تیار شدہ مواد کے مصادر (Ready data sources) کہتے ہیں جس میں کتابیں، انسائیکلو پیڈیا، مجدات و رسائل، لیکچرز اور دستاویزات شامل ہیں۔

دوسری قسم کو خود تیار کردہ مواد کے مصادر (Initiated data sources) کہتے ہیں جس میں انٹرویوز، سوال نامے، مشاہدہ، تجزیہ اور آزمائش شامل ہیں۔ ایک تحقیق کار کو مواد اکٹھا کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جس موضوع پر مواد کو تلاش کر رہا ہے اگر اسی موضوع کے مختلف نسخے مختلف اوقات میں سامنے آئے تو وہ ان تمام نسخوں کو اکٹھا کرے اس طرح ہرگز نہ کرے کہ ایک ہی نسخے پر اتفاق کرے ایسے تحقیقی کام کو کوئی خاص معیار حاصل نہیں ہوگا۔

اس کے ساتھ تحقیق کا ر کو اپنے عہد اور اپنے عہد سے پہلے کی زبان پر بھی مکمل عبور حاصل ہو کیونکہ ممکن ہے کسی نسخے میں کوئی ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے جو موجودہ دور میں متروک ہو چکے ہیں۔ تو تحقیقی کام کرتے وقت اسے ان الفاظ کے معانی و مفہوم کا مکمل طور پر ادراک ہو۔ سب سے اہم کام مواد کے حصول میں کس کا خیال رکھا جائے وہ یہ کہ جو مواد وہ مختلف ذریعے سے حاصل کرتا ہے اس مواد میں کوئی سرقہ نہ ہو اور یہ بھی خیال رکھے کہ یہ مواد گویا اسی عہد کا ہے جس کی تلاش ایک تحقیق کار کو ہوتی ہے۔

دراصل کوئی بھی موضوع بظاہر کتنا ہی دل کش کیوں نہ ہو اگر اس موضوع پر مواد کا حصول ممکن نہ ہو تو اس پر تحقیق نہیں ہو سکتی۔ تحقیق کو اگر ایک مجسم شکل قرار دیا جائے تو اس کے وجود کی تشکیلی اکائیاں وہ مواد ہے جس سے مل کر یہ وجود پیکر محسوس میں ڈھلا ہے۔ تحقیق میں مواد کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مواد کے بغیر تحقیق بالکل اسی طرح ہے جس طرح روح کے بغیر انسانی جسم، یعنی مواد کے بغیر تحقیق کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔

تحقیق کی بنیاد مواد پر ہی استوار ہوتی ہے اور کسی بھی تحقیقی منصوبے کی کامیابی و ناکامی کا پہلا دار و مدار مواد پر ہی ہوتا ہے۔ تحقیق کے لیے مطلوب مواد ہی دراصل وہ اولین بنیاد ہے جہاں سے محقق اپنے سوالوں کے جوابات تلاش کر سکتا ہے۔ محقق کو مواد کے حصول میں نہایت حساس اور محتاط ہونا پڑتا ہے بسا اوقات موضوع سے متعلق عمومی نوعیت کے نکتہ سے بھی بہت بڑے علمی خزانے کے ہاتھ آنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے اس لیے محقق اپنے موضوع پر ہونے والا مواد ہر طرح کی علمی و تحقیقی سر گرمیوں کو پیش نظر رکھتا ہے اور جہاں کہیں مطلوبہ مواد سیر آئے اسے حاصل کرنے میں پوری تگ و دو کرتا ہے۔

محقق کو موضوع کے اعتبار سے مفید مواد کے حصول کے لیے حریص ہونا چاہیے مفید مواد جہاں بھی چلے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض قلمی نسخے نادر و نایاب ہوتے ہیں اور صرف مخصوص مقامات پر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ ایسے علمی ذخیروں تک رسائی اور ان سے استفادہ عموماً سہل نہیں ہوتا۔ اس لیے محقق کو چاہیے کہ جب اس طرح کا موقع میسر آئے تو مطلوبہ مواد کی کاپی کروانے کی کوشش کرے۔ اس کے علاوہ ضروری نہیں کہ کسی نادر قلمی نسخے یا دستاویز تک محقق کو اگر ایک بار رسائی ملی ہے تو یہ موقع دوبارہ بھی میسر آ سکے۔ اس لیے حصول مواد کے ایسے مواقع کو غنیمت جاننا چاہیے۔

مواد کی تنظیم و ترتیب:

مواد کی جمع آوری، چھان بین اور تدوین جو محقق نے مختلف کارڈز یا فائلوں میں کی ہے، کے بعد اس کی ترتیب و تنظیم کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ مرحلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اس لیے محقق نظم و احتیاط سے کام لے اور تمام جمع شدہ مواد کی کانٹ چھانٹ بڑی توجہ اور محنت سے کرے۔ غیر ضروری مواد الگ کر دے تاکہ موضوع سے متعلقہ مناسبت اور مطابقت رکھنے والے مواد کو بطریق احسن ترتیب دیا جا سکے، اور عمدہ و معیاری نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

لہٰذا محقق اس جمع شدہ مواد کو اس نے کانٹ چھانٹ کے بعد اخذ کیا ہے بڑی ترتیب و تنظیم سے مختلف ابواب و فعول میں تقسیم کر دے۔ اس کے علاوہ محقق کو ان سارے مراحل میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کوئی ایسا مواد شامل نہ ہو جو اس کی تحقیق کی ہوئی محنت پر پانی ڈال دے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالحمید عباسی نے اپنی کتاب میں عبدالرزاق قریشی کا قول نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں :

”سارا ممکن الحصول مواد کو اکٹھا کر لینے کے بعد اب ضرورت ہے کہ اسے ترتیب دیا جائے، یعنی آغاز کار سے اب تک جو نوٹ لیے گئے ہیں انھیں ان کے عنوانات کے تحت مرتب کیا جائے۔ ان کو مرتب کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ جو غیر اہم یا غیر ضروری نوٹ آ گئے ہیں انہیں الگ کر دیا جائے۔ جس طرح نوٹ لیتے وقت باقاعدگی اور احتیاط کا خیال رکنا ضروری ہے۔ جس کام میں تنظیم و ترتیب ہوتی ہے اس کا نتیجہ خاطر خواہ اور خوشگوار ہوتا ہے۔“

ادبیات میں متن کی ترتیب و تنظیم ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔ ادب کے مطالعے میں متن کی تحقیق اس کی درست قراؔت اور پھر اس کی تصحیح و ترتیب کی بے حد اہمیت ہے۔ جب تک کہ متن کو صحت کے ساتھ پڑھا نا جائے اور درست متن پیش نظر نہ ہو۔ تو اس مطلوبہ متن کی ترتیب بھی ممکن نہیں ہو پاتی اور نہ اس تمام پہلوؤں کا ادراک ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مواد کی ترتیب و تنظیم میں جو ایک بنیادی مسئلہ درپیش آ سکتا ہے وہ املا کا ہے کیوں کہ ایک محقق کو تحقیق کے دوران بہت سے ایسے نسخے موجود ہوں گے جن کے الفاظ موجود دور نہیں متروک ہو چکے ہوں گے یا ان کا رسم الخط اور ہوگا۔

لیکن ایک محقق کو مواد ترتیب دیتے وقت ان تمام جملہ امر کو سامنے رکھنا ہوگا اور اس میں جلد بازی سے بچنا ہو گا کیوں کہ اس کی تحقیق کا سارا انحصار اس کی مواد کو ترتیب سے گڑ بڑ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محقق کو تلاش کیے ہوئے مطلوبہ مواد کی کانٹ چھانٹ کے لیے اسے بار بار اپنی نظر سے گزارنا ہو گا تب جا کے جو حقیقی معنی میں اسے مواد درکار ہوگا وہ ترتیب پائے گا۔

مواد کا تجزئیاتی طریقہ کار:

تحقیق میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ تجزیہ کرتے وقت مواد کی درجہ بندی صاف اور کھلے الفاظ میں بیان کیا جائے تاکہ دوسرے محققین جب ان کے تجزیوں کا مطالعہ کریں تو وہی نتیجہ نکال سکیں اور مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ مواد کی درجہ بندی ابتدائی بنیاد پر یا منطقی خیالات کی مدد سے پہلے والی دستاویزات کو دیکھ کر کی جائے۔ موجودہ دور میں درجہ بندی ابتدائی مواد کی پرکھ کے بعد کسی خاص ترتیب کے مطابق کی جا سکتی ہے اس لیے کسی بھی مواد کی دستاویزی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ مواد کی درجہ بندی کسی خاص مقرر کردہ اصولوں کے مطابق کی جائے اور یہ درجہ بندی مقرر کردہ عنوانات میں سے ہونی چاہیے اور ایسے مواد کو نظر انداز کر دینا چاہیے جن کا عنوانات سے تعلق نہ ہو۔ اس کے علاوہ دستاویزی تحقیق کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایسا مواد لکھا ہوا اور چھپا ہوا ہو جس پر تحقیقی بنیاد ہوتی ہے اور جس کی مدد سے کسی عنوان پر تحقیق کی جاتی ہے۔ کسی بھی مواد کا تجزئیاتی تجربہ کرتے وقت درج ذیل باتوں کو جانچنا ضروری ہے۔

دستاویز یا تخلیق کار کون ہے؟

ہر دستاویز یا تخلیق یا کتاب کے مصنف کے متعلق مکمل معلومات ہونی چاہئیں کہ مصنف کون ہے اس کی قوم، مذہب اور تحریک جماعت کا علم ہو اس کے علاوہ مصنف کی اہلیت، تربیت، ذہنی خصوصیت کا علم ہو اور اس کو مدنظر رکھ کے آپ اس کے فن پارے کے مواد کا تجزئیاتی مطالعہ کریں۔

کسی بھی دستاویزی مواد کو قبول کرنے کے لیے چند درج ذیل باتوں کا ادراک ہونا انتہائی اہمیت کے حامل ہے :

اس تخلیق سے مصنف کے حقیقی معنی کیا ہیں؟
اس تخلیق میں مصنف نے دستاویزات کا استعمال کیوں کیا؟
تخلیق میں مصنف نے حقائق کو ختم کرنے کی کوشش تو نہیں کی ہے؟
تخلیق میں مصنف نے سچ کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں؟
کیا مصنف نے علم و ادب کی مدد سے سچ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؟
کیا مصنف ایک اچھا تجزیہ نگار ہے؟

اس کے علاوہ اگر کسی دستاویز یا تحقیق میں زیادہ تر مصنف ایک خیال سے متفق ہوں اور چند ایک یا کم مصنف دوسرے خیال سے، تو محققین کو مصنفین کی تعداد دیکھ کر اس سے ہمنوائی نہیں کرنی چاہیے۔ ممکن ہے مصنفین کی اکثریت غلطی پر ہو۔ اس لیے پہلے صحیح اندازہ کیا جائے اور پھر اس کی تائید کی چاہے تھوڑے ہی مصنفین کے خیالات، صداقت اور حقائق کے قریب ہوں۔ پھر بھی ان کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کے لیے اپنے ثبوت دے کر نتائج نکالنے چاہئیں اور یہ ثابت کیا جائے کہ صحیح اور حقیقت پسندانہ رائے کون سی ہے۔

اصل میں ہر تحقیق سے پہلے کچھ تحقیق موجود ہوتی ہے بعد کے تحقیق کار کو ماضی کی تحقیق یعنی پہلے سے موجود مواد کو پرکھنا، چھاننا ہوتا ہے مواد کی فراہمی اور تسوید کیے درمیان کی منزل ہے مواد کا جائزہ لینا، پایہ اعتبار متعین کرنا اور تصحیح کرنا۔ یہی تحقیق کا مرکزی کام ہے۔ تحقیق کار کا علمی سرمایہ جتنا کثیر اور اس کی نظر جتنی تیز و عمیق ہوتی ہے اسی اعتبار سے وہ اپنے حاصل مطالعہ کا بہتر تجزیہ و قدر نمائی کر سکتا ہے۔ ماضی کے مواد کا صحت متعین کرنے کے لیے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ لکھنے یا بیان کرنے والا راوی کون ہے۔ اور کتنا معتبر ہے؟ مثلاً اسلام میں حدیث کی جانچ کے لیے جو اصول بتائے گئے تھے وی تحقیقی مواد کی صحت طے کرنے کے لیے بھی مثالی کسوٹی مانے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں لکھتے ہیں :

” روایت کے بارے میں ان کے حزم و احتیاط کا عالم یہ تھا کہ نبر و مفازی تو بہت بڑی چیز ہے۔ وہ عام خلفا یا سلاطین کے حالات اس وقت تک بیان نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس آخری راوی سے لے کر چشم دید گواہ تک تسلسل کے ساتھ روایت موجود نہ ہو۔“

یعنی جو واقعہ لیا جائے وہ اس شخص کی زبانی موجود خود شریک واقعہ رہا ہو اور اگر وہ شریک واقعہ نہیں تھا تو اس واقعے تک تمام درمیانی راویوں کے نام ترتیب کے ساتھ بیان کیے جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی تحقیق کی جائے کہ وہ لوگ کون تھے؟ کیسے تھے؟ ان کے مشاغل کیا تھے؟ ان کا کردار کیسا تھا؟ وغیرہ یعنی ان کے بارے میں مکمل تفصیل بیان کی جائے اسی طرح ایک تحقیق کار کو تحقیقی کام میں مواد کی پرکھ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی واقعے کے بیان میں دس فی صدی ترمیم کردے تو وہ واقعہ جب دس راویوں کی زبان سے گزرے گا تو بدل کر تقریباً دو تہائی چھوٹ بن جائے گا۔

عام باتونی افسانوں اور افواہ بازوں کی حد تک یہ قابل در گزر ہو سکتا ہے۔ لیکن محقق کی زبانی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ ادب ایسے ہی نام نہار محققین کی بیان کردہ روداد ہے جو حزم و احتیاط کے قائل نہیں تھے۔ آج کے محقق کا کام ایسے مورخوں اور پرانے محققین کے بیانات ہی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرنا ہے۔

ایلٹک ادبی تاریخ میں تحقیقی غلطی کے بارے لکھتے ہیں :

”نقل کی غلطی، طرح طرح کے تعصب، سوانح نگار کا حقائق پر لفظی ترصیح کو ترجیح دینا، حافطہ کا طباعت کی فروگزاشت، قباس کو یقین بنا دینا وغیرہ۔“

نقل کی غلطی کا سب سے اچھا اندازہ اس سے ہو سکتا محبوب الرحمٰن ہے کہ آپ نے اپنی تحریر کی پہلی تسوید سے جو مسودہ تیار کیا ہے اسے اگر دوسری بار پڑھ جائے تو ایک محقق کو کئی غلطیاں ملیں گی جن میں بعض ایسی بھی ہوں گی جن سے آپ کا عندیہ ہی بدل گیا ہو۔ سو کتابت و طباعت کے کرشمے نقل میں اسی قسم کی غلطی کے سبب ظہور آتے ہیں۔ اصل میں تحقیق کے عمل کے میں ہر ایک چیز اہمیت کے حامل ہے چاہے وہ موضوع کا انتخاب ہو یا مواد کی تلاش ہو یا پھر مواد کی ترتیب و تنظیم ہو کیوں کہ تحقیق کا کام کوئی بھی تحقیق اس وقت بہت اہم طرح سر انجام سے سکتا ہے جب وہ تحقیق کرتے وقت ہر ایک پہلو پر اپنی مکمل دل چسپی، محنت، توجہ اور لگن سے کام لے گا اور مواد کی پرکھ کرنا اور ایسے ایک منظم طریقے سے بیان میں لانا ہی تو اصل محقق کا کام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
 حذیفہ ارڑہر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *