‘اگلی حکومت جو ہماری آئے گی اس میں پاکستان اور تیزی سے اوپر جائے گا'

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو کہا ہے کہ ایک دم جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً چار فیصد شرح نمو سے معیشت ترقی کررہی ہے اور ساری اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ یہ اعداد وشمار ٹھیک نہیں ہیں۔

بلوچستان کے علاقے زیارت کے دورے کے موقع پر قائد اعظم ریزیڈنسی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے سال اور اس کی رفتار بڑھے گی اور جو ‘اگلی حکومت جو ہماری آئے گی اس میں پاکستان اور تیزی سے اوپر جائے گا’۔

ان کے مطابق گذشتہ برس حکومت 0.5 فیصد سے ترقی کررہی تھی، جس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خوشخبری یہ ہے کہ ایک بڑے مشکل وقت سے ہمارا ملک نکل رہا ہے، ہمارے جو مخالف ہیں انھوں نے پہلے سے شور مچا دیا تھا کہ حکومت ناکام ہو گئی، وہ چاہتے تھے کہ حکومت ناکام ہو جائے کیونکہ حکومت اگر اس معاشی بحران سے پاکستان کو نکال دیتی تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہو جانی تھیں لہٰذا ساری قوم کو انھوں نے دو ڈھائی سال تک کہا کہ پاکستان تباہ ہو گیا، معیشت تباہ ہو گئی اور غریبوں کا برا حال ہو گیا۔ یہ سب کچھ یہ کہتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملکی معاشی ترقی کا حکومتی دعویٰ: حقیقت یا اعداد و شمار کا ہیر پھیر؟

’اس حکومت میں کام کرنے والا واحد شخص عمران خان کا کیمرا مین ہے‘

انڈیا سے معمول کے تعلقات کی بحالی کشمیریوں سے بہت بڑی غداری ہو گی: عمران خان

ان کے مطابق کہا جاتا رہا کہ بس اب حکومت گئی اور تین ماہ میں گئی۔ اب مجھے ان پر ترس بھی آ رہا ہے، مجھے تو اب ان کی فکر پڑ گئی ہے کہ یہ اب ساتھ رہ جائیں گے یا نہیں رہیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پشاور میں 2013 میں جب ہماری حکومت آئی تو بہت برا حال تھا لیکن اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران سب سے تیزی سے غربت کا خاتمہ خیبر پختونخوا میں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انسانوں، ان کی تعلیم اور صحت پر سب سے زیادہ خرچ کیا گیا جس کی ایک بڑی وجہ سیاحت تھی، ہم نے پوری طرح سے سیاحت کو صوبے میں بہتر بنایا کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔

عمران خان نے زیارت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام اس علاقے میں اس مقام پر گزارے اور میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ یہاں جاؤں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سارا پاکستان گھوما ہوں لیکن جس طرح سے آج ہیلی کاپٹر سے زیارت کا جائزہ لیا ہے، ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہاں پر موجود چار سے پانچ ہزار سال پرانا جنگل دنیا کا اثاثہ ہے۔

وزیر اعظم نے دہشتگرد حملوں میں مارے جانے والے ایف سی اہلکاروں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت نے بلوچستان پر خاص توجہ دی اور یہاں اس طرح کا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مشکل وقت میں مشکل حالات کے باوجود بلوچستان کو جنتا بھی ہو سکا، انھیں فنڈز دیے اور مجھے خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومتیں کہتی ہیں کہ آپ بلوچستان پر بہت زیادہ مہربان ہو گئے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بلوچستان کو واقعی نظر انداز کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پر جو پیسہ خرچ کیا جانا چاہتا تھا، وہ بھی صحیح طریقے سے خرچ نہیں کیا گیا اور نہ ہی توجہ دی گئی جبکہ جو پیسہ دیا بھی گیا، وہ بھی صحیح معنوں میں خرچ نہیں ہوا، وہ پیسہ صحیح معنوں میں خرچ ہو جاتا تو بلوچستان کے حالات بہت بہتر ہوتے۔

انھوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا، بالکل اسی طرح بلوچستان کے لوگوں کو بھی ہیلتھ کارڈ ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا اور اسی لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی پوری طرح مدد کریں، بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑا علاقہ ہے اور یہاں کنیکٹیویٹی بہت مہنگی ہے، سڑکوں کو ایک دوسرے سے ملانے میں بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صحیح معنوں میں ترقی اسی وقت ہو گی جب سارے ملک کی ترقی ہو، یہاں چھوٹے چھوٹے علاقوں کی ترقی ہوتی ہے لیکن باقی ملک پیچھے رہ جاتا ہے اور اسی وجہ سے بلوچستان بھی پیچھے رہ گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پر ہم خاص طور توجہ دے رہے ہیں۔ ہم قبائلی علاقوں سے شروع کررہے ہیں۔ اس کے بعد بلوچستان، پنجاب کے مغربی علاقے اور اندرون سندھ بھی مدد کریں کیونکہ اندرون سندھ کے علاقے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔

پہلی کوشش ہے کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی ترقی پر کام کیا جائے اور دوسری چیز یہ کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، جو کمزور طبقہ ہے، ان کی ترقی بھی یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں بلوچستان آتا رہوں گا، ہم نے صوبے کو 700 ارب روپے کا سب سے بڑا پیکج دیا ہے، ایک اور سڑکوں کا پیکج دے رہے ہیں اور بلوچستان کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp