لبنیٰ غزل صاحبہ کا ناول: لاریب

ہر شام انتظار کی چوکھٹ پر دل چراغ بن کر جلتا اور آنکھوں سے قطرہ قطرہ بہنے لگتا ”
کس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں ”
آئی ہوا تو کتنے ورق ہی الٹ گئے ”
”نرم چاندنی کا فسوں ساری کائنات پر پھیلا ہوا تھا سامنے درختوں سے اوپر چاند جھانک رہا تھا۔“
تمہاری چوکھٹ پر رکھ آئی ہوں
اپنے انتظار کی خوابیدہ آنکھیں ”
”ریان نے اپنی مرضی کا ایک خوبصورت میرون رنگ کا ہلکا کامدانی سوٹ نکالا“ ”

”آسمانی دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ممتا کا نور اور عبادت کا تقدس انہیں اس کے چہرے پر جگمگاتا نظر آیا“

”دن بھر کے تھکے ماندے سورج کی آج کی مسافت، اب گھنے درختوں میں ڈوبتی کرنوں کے ساتھ تھک کر اتر آئی تھی۔ شام کی اداسیوں میں آب معصوم پرندوں کے سر بھی مدھم ہو گئے تھے۔ مگر ایک مسافر اب بھی اس کی تلاش میں امید کے چراغ لے کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔“

”رات قطرہ قطرہ کر کے کائنات کے سینے پر بہہ رہی تھی۔“

جی یہ ناول لاریب کے جاندار رومانوی احساس سے بھرے نرمل کومل جملوں کی لطافت ہے، سچ پوچھیے تو ناول شروع کیا تو میرے پہلو میں انیس سو اسی کی دہائی سانس لینے لگی۔ بشری رحمن رضیہ بٹ کے ناول یاد آ گئے۔ سب سے بڑھ کر مجھے ایسے لگا جیسے میں اپنی نوعمری میں لوٹ چکی ہوں۔ کہا جا سکتا ہے کہ میری روم روم میں رومان بھرنے والے جملوں کا تعلق پاکیزہ، زیب النساء نقوش جیسے ماہناموں کی ورق گردانی کے سبب ہے۔

ناول کی فضا اور انداز بیان وہی تھا جو اتنے سال پہلے مجھے باغوں میں جھولے جھلاتا تھا۔

مربوط کہانی کرداروں کی زبان ان کے مطابق استعمال کی گئی، جزئیات نگاری اور زبان کی چاشنی سے بھرے فقرے اپنے پڑھنے والیوں کو باندھتے ہیں۔

ایک روایتی سماج کے روایتی کرداروں کی کہانی جو اپنے بیٹوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں دیتے اور ان کی زندگیوں میں زہر گھولتے ہیں۔

نتیجے کی پرواہ کیے بغیر کہ اس سے کیا زیاں ہو گا والدین لڑکے سے وابستہ لڑکی ہیروئن پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ لاریب ناول میں والد صاحب کے کردار بخاری صاحب سے انیس سو اسی کی دہائی میں بننے والی فلموں میں والد کا کردار ادا کرنے والے مرحوم طالش یاد آ گئے۔

یہ بات نہیں ہے کہ اب ہم یا ہمارا سماج مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ مسائل اب بھی وہی ہیں، جو پچھلی صدی میں تھے۔ ہلکی پھلکی تبدیلی کی لہر تو چلی ہے مگر بہت سے خصوصاً درمیانے طبقے کے مسائل خاصے حد تک ایسے ہی ہیں۔ فرد کی خوشیوں کو خاندان کی خوشی پر قربان کرنے کا رواج ہے۔ والدین شادی جیسا اہم حق کسی صورت نوجوانوں کو دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ رشتہ دو خاندانوں کے بیچ ہونے جا رہا ہے نہ کہ دو انسانوں کے درمیان ہے۔

جبر کی شکلیں بدلی ہیں مگر لاکھ ترقی پسند ہونے کے باوجود اذہان کو بدلنے میں بہت عرصہ لگے گا۔ شرافت کا روایتی تصور ہے جو خاندان کی امارت اور شان و شوکت سے بندھا ہے۔ مصنفہ نے اس ناول میں اس تصور پر بھی طنز کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اس کا تعلق انسان کی ذاتی فطرت سے ہے بعض اوقات گدلے پانیوں میں بھی کیچڑ کھل اٹھتے ہیں۔

لاریب کا کردار اسی کی عکاسی کرتا ہے۔ فطری معصومیت اور حسین ہونے اور صنف نازک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ایک ایسے معاشرے میں جو استحصالی ہے کس کس طرح اس لڑکی کو استعمال کیا گیا جو حقیقت کے خاصا قریب ہے خال ہی کوئی فرد ہو جو ایسے میں کسی سے خالصتاً انسانیت کی بنیاد پر تعلق رکھے۔ لاریب ناول کی ہیروئن پاپولر فکشن کی ہیروئنوں کی طرح ہر خوبی سے مالا مال ہے۔ وہ نیک بھی ہے اور نیک فطرت بھی جب کہ اس کے مقابل رقیب حسب دستور بہت ہی بڑی نخوت سے بھری ہوئی تنگ نظر خاتون ہے۔

اماں بی کا کردار محبت اور خلوص کی علامت ہے جو پورے ناول کو آکسیجن فراہم کر رہا ہے۔ ریان انتہائی اچھا لڑکا ہے ایک طرف اس کی کمٹمنٹ اپنی محبت کے ساتھ ہے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے خاندان سے جڑا ہے جیسے کہ سچ میں ہمارے ہاں ہوا کرتا ہے تھوڑا روایتی تھوڑا بزدل تھوڑا نیک تھوڑا کٹھ پتلی جس کو اپنے خاندان سے لگاؤ کا خوب خمیازہ بھگتنا پڑا۔ معاشرے میں نرینہ اولاد کی اہمیت کے مسئلے کو بھی خوب ہائی لائیٹ کیا ہے اور جڑواں بچیوں کے ہونے پر تاثرات بیان کیے گئے ہیں۔

بہر حال لبنی غزل صاحبہ نے ناول کی کہانی کو بہت عمدگی سے سمیٹا۔ مین کرداروں کی زندگیوں سے سارے کانٹے صاف کیے اور لاریب کو اس کا حق دلایا۔ ایسا رومانی روایتی ناول پڑھانے پر لبنی صاحبہ کی شکرگزار ہوں دراصل آپ ہماری وہ محسن مصنفہ ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے ہم جیسے بہت سے قارئین کو حرف کے سحر میں مبتلا کیا جوڑا اور پختہ تر کیا۔ ناول کے کرداروں کے نام حور، نور، رجاء، لاریب سب نام بہت پیارے ہیں۔ پدرسری نظام میں اولاد کو صنف نازک ہو یا نرینہ اولاد کیسے برتایا استعمال کیا جاتا ہے اس پر خوب طنز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words