اسرائیل کی حزب اختلاف کی جماعتیں بنیامن نتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کے لیے نئی اتحادی حکومت بنانے پر متفق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Naftali Bennett

EPA
نفتالی بینیٹ اسرائیل کی اتحادی حکومت میں نئے وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں

اسرائیل کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں ایک نئی حکومت تشکیل دینے پر متفق ہو گئی ہیں جس کے بعد بنیامین نیتن یاہو کا اسرائیلی وزیر اعظم کی حیثیت سے 12 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اعتدال پسند سیاسی جماعت یش عتید کے رہنما یائر لاپیڈ نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ دھڑوں پر مشتمل اتحاد تشکیل دیا جا چکا ہے۔

اس حوالے سے ہونے والے معاہدے کے تحت دائیں بازو کی یامینا پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ کچھ مدت کے لیے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے اور بعد میں یہ عہدہ یائر لاپیڈ کے حوالے کر دیا جائے گا (یعنی پھر وہ وزیر اعظم ہوں گے)۔

حکومت کی حلف برداری سے قبل ابھی بھی اس معاہدے کو پارلیمانی ووٹ کی ضرورت ہے۔

ایک بیان میں یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ انھوں نے سیاسی جماعتوں کے مابین ہونے والے معاہدے کی بابت اسرائیل کے صدر ریون ریولن کو آگاہ کر دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہ حکومت تمام اسرائیلی شہریوں کی خدمت کرے گی، ان لوگوں کی خدمت بھی جنھوں نے ہمیں ووٹ دیا اور ان کی بھی جنھوں نے ووٹ نہیں دیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل پر 15 برس حکمرانی کرنے والے ’جادوگر‘ رہنما کا کمانڈو سے وزیرِ اعظم تک کا سفر

اسرائیلی انتخابی نتائج میں حیران کن پیشرفت: اقتدار کی کنجی مسلمان رہنما کے ہاتھ میں؟

کیا نیتن یاہو کی حکومت اپنے ہی سابق وزیر کے ہاتھوں ختم ہوگی؟

’حکومت اپنے مخالفین کا احترام کرے گی اور (یہ سیاسی اتحاد) اسرائیلی معاشرے کے تمام حصوں کو متحد اور جوڑے رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘

اسرائیلی میڈیا پر چلنے والی تصاویر میں یائر لاپیڈ، نفتالی بینیٹ اور عرب اسلام پسند رام پارٹی کے رہنما منصور عباس کو معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، بہت سے ناقدین ایسے ہیں جنھیں یہ مجوزہ معاہدہ ناممکن نظر آ رہا تھا۔

https://twitter.com/AnshelPfeffer/status/1400177480917520394


منصور عباس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’یہ فیصلہ سخت تھا اور کئی تنازعات تھے، لیکن معاہدے تک پہنچنا ضروری تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عرب معاشرے کے مفاد کے لیے اس معاہدے میں بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔‘

صدر کو لکھے گئے اپنے نوٹ میں لاپیڈ نے کہا کہ وہ نفتالی بینیٹ کے ساتھ مل کر حکومت کی سربراہی کریں گے، وہ 27 اگست 2023 کو وزیر اعظم کی حیثیت سے اُن کی جگہ لیں گے۔

ریون ریولن نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے جلد سے جلد اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل

Reuters

اگر اتحاد 120 ارکان میں سے اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے تو خطرہ ہے کہ اسرائیل میں دو برسوں میں پانچویں مرتبہ انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

اتحادی اراکین کی جماعتوں میں نیتن یاہو کو ہٹائے جانے کے منصوبے کے علاوہ سیاسی طور پر کچھ مشترک نہیں ہے۔


اتحاد میں شامل جماعتیں:

  • یش عتید، جس کی قیادت یائر لاپیڈ (اس پارٹی کے پاس 17 نشستیں) ہیں
  • کاھول لافان، جس کی قیادت بینی گینٹز کرتے ہیں اور ان کے پاس آٹھ نشستیں ہیں
  • اسرائیل بیٹیینو (دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی قوم پرست جماعت)، ایویگدور لیبرمین کی قیادت میں (سات نشستیں)
  • لیبر (سوشل ڈیموکریٹک)، جس کی سربراہی میروا مائیکل کرتے ہیں اور ان کے پاس سات نشستیں ہیں
  • یمینا (دائیں بازو) نفتالی بینیٹ کے زیر قیادت (سات نشستیں)
  • نیو ہوپ (دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی سیاسی جماعت)، جدعون ساعر کی سربراہی میں (چھ نشستیں)
  • میرٹز (بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک جماعت)، جس کی سربراہی نتن ہورویٹز کرتے ہیں (چھ نشستیں)
  • رام (عرب اسلامی)، منصور عباس کی قیادت میں (چار نشستیں)

61 ووٹ کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے تمام آٹھ دھڑوں کے ووٹ کی ضرورت ہے۔

بدھ کے روز اس حوالے سے طویل مذاکرات تل ابیب کے قریب واقع ایک ہوٹل میں ہوئے، جس میں بھنگ کو قانونی قرار دینا سے لے کر غیر قانونی تعمیرات پر جرمانے اور جوڈیشل سلیکشن کمیٹی کے عہدوں کی گردش تک کے معاملات ایجنڈے میں شامل تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تمام معاملات کو حتمی شکل نہیں دی گئی جس سے یہ شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں کہ آیا اتحاد اعتماد کا ووٹ جیت پائے گا یا نہیں۔

نتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی نے مارچ کے غیر یقینی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں، لیکن مینڈیٹ دیے جانے کے بعد وہ گورننگ الائنس تشکیل دینے میں ناکام رہے تھے۔

نتن یاہو نے مجوزہ نئی حکومت کو ’صدی کی دھوکہ دہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ریاست اور اسرائیل کے عوام کو خطرہ ہے۔

نتین یاہو

EPA

تجزیہ جیریمی بوون، ایڈیٹر مشرق وسطیٰ

بنیامن نیتن یاہو کا کوئی بھی سیاسی دشمن ان کے اکھڑ پن، بے رحمی اور عہدے پر فائز رہنے کے قطعی عزم کو کم نہیں کر سکتا۔ جب تک نئے وزیر اعظم کے ساتھ نئی حکومت کا حلف نہیں لے لیا جاتا، تب تک وہ اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اگر وہ حزب اختلاف کے رہنما بن جاتے ہیں تو وہ ایک کمزور اکثریت والے اتحاد کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جس میں قوم پرست دائیں بازو کی جماعتوں سے لے کر لبرل بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ ان سب کو متحد کرنے والی صرف ایک خواہش ہے کہ وہ نتن یاہو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیں۔نیتن یاہو پہلے ہی مجوزہ نئی حکومت کو ’صدی کا فراڈ‘ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کی ریاست، اسرائیل کے عوام اور اسرائیل کے فوجیوں کو خطرہ ہے۔ تاہم ان کی پرزور شکایت کے باوجود امکان یہ ہے کہ وہ عہدہ سے الگ ہو جائیں گے۔

ان کی شکست بائیں بازو کے مخالفین کے باعث نہیں بلکہ دائیں بازو کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوئی جنھیں انھوں نے اپنی بے رحمانہ اور حاکمانہ انداز کی پالیسوں کے باعث دشمن بنایا ہے۔

کسی کو بھی نئی حکومت سے بڑے، نئے اقدامات کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ نیتن یاہو کے لیے اس قوت عہدہ بچانا بلا شبہ کل وقتی کام ہو گا۔ اس کے مخالفین کو امید ہے کہ اس کا زوال یروشلم کے کورٹ ہاؤس میں جاری رہے گا جہاں وہ پہلے ہی بدعنوانی کے سنگین الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp