گھر میں گھسے چوروں کے خوف سے درد زہ کے بعد خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش

اینجی براؤن - بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گیڈائس

BBC
وہ کہتی ہیں کہ ‘میں اب بھی اس خیال سے خوفزدہ ہو کہ کوئی میرے گھر میں تھا کیونکہ میں زیادہ تر وقت اپنے دو بچوں کے ساتھ اکیلی گھر پر ہوتی ہوں‘

ایک حاملہ خاتون نے گھر میں چور گھس آنے کے بعد خوف سے درد زہ (لیبر پین) کے نیتجے میں بچی کو جنم دیا ہے۔

سکاٹ لینڈ کی 31 سالہ سٹیفانیا گیڈائس نامی خاتون نے بتایا کہ کیسے وہ آدھی رات کے وقت گھر میں گھس آنے والے چوروں سے خوفزدہ ہو کر درد زہ سے گزریں۔

ان کا کہنا تھا کہ آدھی رات کے وقت چوروں کے ان کے گھر میں گھس آنے کے سبب خوف کے مارے انھیں شدید تناؤ محسوس ہوا اور جب وہ اوپری منزل پر اپنے بیڈروم میں تھیں تو انھیں درد زہ کا احساس ہوا۔ جس کے بعد ان کے شوہر نے فوراً انھیں ہسپتال پہنچایا اور چند گھنٹوں بعد انھوں نے ہپستال میں اپنی بیٹی کو جنم دیا۔

تاہم چور ان کے گھر سے ان کے شوہر کی گاڑی چوری کر کے لے گئے ہیں۔

گیڈائس کا کہنا تھا کہ ایڈبرگ میں واقع ان کے گھر میں چور گھر کے ایک پچھلے دروازے سے داخل ہوئے جس پر تالا نہیں لگا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بھوت کے لباس میں لوگوں کو ڈرا کر چوریاں کرنے والا شخص گرفتار

جب حکام کو خوفزدہ خاتون نے درخت پر چھپے ہوئے ایک ’پراسرار جانور‘ کی اطلاع دی

پیرس کے مشہور ہوٹل میں ڈکیتی، زیورات چوری

کار انجن کی آواز

سٹیفانیا گیڈائس اور ان کے شوہر البرٹو 26 مئی کی رات گھر کی اوپر کی منزل پر تھے۔ گیڈائس نے جو نو ماہ کی حاملہ تھیں، بی بی سی سکاٹ لینڈ کو بتایا کہ ’19 ماہ قبل میرے بیٹے کی پیدائش کے بعد سے میں گہری نیند نہیں لیتی اور اگر گھر میں ذرا سی بھی آہٹ ہو تو میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ لہذا جب مجھے نیچے سے کرسی گھسیٹے جانے کی آواز آئی تو میری آنکھ کھل گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج کل میری والدہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں تو پہلے میں نے سوچا شاید وہ ہیں۔ لیکن پھر اچانک سے میں نے اپنے شوہر کی گاڑی کے انجن سٹارٹ ہونے کی آواز سنی اور مجھے فوراً پتا چل گیا کہ یہ ان کی کار ہے۔‘

کیونکہ وہ نو ماہ کی حاملہ تھیں لہذا ان کے لیے ایک دم بستر سے اٹھنا ممکن نہیں تھا اور جب تک وہ آرام سے کروٹ لے کر بستر سے اٹھ کر کھڑکی تک پہنچیں تب تک چور ان کے شوہر کی سفید رنگ کی آڈی ایس فائیو چرا کر لے گئے تھے۔

گیڈائس نے اس واردات کے بعد اپنے شوہر کو جگایا اور پولیس کو کال کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سیڑھیاں اتر کے نیچے نہیں جانا چاہتی تھی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ اب بھی کچھ چور گھر میں چھپے ہو سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس دس منٹ میں ہمارے گھر پہنچ گئی، پولیس کی تقریباً تین چار گاڑیاں آئیں تھی اور ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی مزید گاڑیاں ہماری گاڑی کی تلاش کر رہی ہیں۔‘

’اس وقت مجھے ایک دم صدمہ پہنچا اور مجھے درد زہ ہونا شروع ہوا، میں فوراً باتھ روم میں گئیں جہاں مجھے خون بہنے کا احساس ہوا۔ پہلے بچے کی مرتبہ میرا خون نہیں بہا تھا لہذا میں بہت زیادہ گھبرا گئی۔‘

گیڈائس کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی بیٹی جورجیا کا جنم ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اب بھی اس خیال سے خوفزدہ ہوں کہ کوئی میرے گھر میں تھا کیونکہ میں زیادہ تر وقت اپنے دو بچوں کے ساتھ اکیلی گھر پر ہوتی ہوں۔ میرے شوہر زیادہ تر وقت کام پر ہوتے ہیں۔ ہم نے گھر کے تالے بھی بدل لیے ہیں اور گھر میں سکیورٹی کیمرے بھی لگوا لیے ہیں لیکن میں اب بھی خود کو محفوظ نہیں محسوس کرتی۔‘

گیڈائس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کے متعلق آگاہی پھیلانا چاہتی ہیں تاکہ لوگ زیادہ محتاط اور محفوظ رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں لوگوں سے کہنا چاہتی ہو کہ اپنی گاڑیوں کی چابیاں چھپا کر رکھیں جیسا کہ ہماری گاڑی کی چابی سامنے لٹک رہی تھی۔ اور وہ رات کو سونے سے قبل گھر کی کنڈیاں تالے دیکھ کر سوئیں۔ میں اب بھی یہ سوچتی رہتی ہوں کہ اگر اس رات میں نیچے ہوتی تو کیا ہو جاتا؟ خوش قسمتی سے وہ صرف کار لے کر گئے ہیں اور ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔‘

‘آپ کبھی نہیں سوچتے کہ آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو سکتا ہے لیکن یہ میرے ساتھ ہوا ہے لہذا میں یہ چاہتی ہوں کہ سب زیادہ محتاط رہیں کہ ایسا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔’

بیوی باتھ روم سے واپس آئی اور کہا کہ میرے خیال میں زچگی کا وقت ہے

پولیس کو علم ہوا ہے کہ واردات کے چالیس منٹ بعد البرٹو گیڈائس کی گاڑی مڈلوتھین کے علاقے سٹریٹون میں تھی۔ البرٹو گیڈائس کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس نے بتایا ہے کہ چور اکثر چوری شدہ گاڑی کو سڑک پر چھوڑ جاتے ہیں اور چند دن بعد جب پولیس کی تلاش ختم ہو جاتی ہے تو اسے لینے آ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ بہت عجیب صورتحال تھی، پولیس ہمارے گھر میں موجود تھی اور میری بیوی باتھ روم سے واپس آئی اور کہا کہ میرے خیال میں زچگی کا وقت ہے، میرا خون بہہ رہا ہے، مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، میں نے فوراً اسے اس کی گاڑی میں ہسپتال پہنچایا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘خدا کا شکر ہے کہ بیٹی کی پیدائش ٹھیک طرح سے ہو گئی۔ وہ چند گھنٹے ہم دونوں میاں بیوی کے لیے بہت مشکل تھے۔’

جوڑے کو ابھی تک ان کی چوری شدہ گاڑی واپس نہیں ملی ہے اور پولیس چوروں کی انگلیوں کے نشانات کا سراغ لگا رہی ہے۔

سکاٹ لینڈ پولیس کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جس کسی کے پاس بھی اس سے متعلق کوئی اطلاع ہے اسے پولیس سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19397 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp