سنجیو گپتا نے سکاٹ لینڈ کی حکومت کی مدد سے اپنی صنعتی سلطنت کیسے قائم کی؟

ڈومینک او کونل - ٹوڈے پروگرام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Workers at the Fort William aluminium smelter

BBC

موسم گرما کی آمد آمد ہے لیکن سکاٹ لینڈ کے علاقے فورٹ ولیمز کے قرب و جوار میں واقع پہاڑوں کی چوٹیوں کے کچھ حصے اب بھی برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

شاید آپ سوچ بھی نہ سکیں کہ ان دور دراز علاقوں کے پہاڑیوں کے دامن سے مغربی سکاٹ لینڈ کے سمندر ’لوک لینی‘ کے درمیان قالین کی طرح میلوں پھیلے ہوئے حسین مناظر سے بھرپور اس جگہ پر ایک بہت بڑا صنعتی پلانٹ قائم ہے۔

یہاں اس دور دراز جگہ میں برطانیہ کا اپنی نوعیت کا ایک پلانٹ ابھی تک کام کر رہا ہے۔ اس کارخانے میں ہر برس 48 ہزار ٹن ایلومنیم تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ٹربائینز کے لیے ایک بارہ میل لمبی سرنگ کے ذریعے پانی مہیا کیا جاتا ہے جو بن نیوِس کے گرد چکر لگاتی ہوئی کارخانے تک پہنچتی ہے۔

اس کارخانے کی تعمیر سنہ 1930 میں ہوئی تھی۔ یہ انجینیئرنگ کا ایک شاہکار تھا۔ دھاتیں پگھلانے والے کارخانے کے نئے مالک سنجیو گپتا نے اس علاقے کے دیہات کے لیے ایک نئے قسم کا شاہکار تعمیر کیا ہے، لیکن اس مرتبہ یہ شاہکار مالی نوعیت کا ہے۔

اُنھوں نے اس صنعت سے 60 کروڑ پاؤنڈز بنائے جو کہ ایک وقت میں بند ہونے کے قریب تھی۔ اور اس کامیابی میں سکاٹ لینڈ حکومت کی مالیاتی امداد کا زیادہ بڑا کردار تھا۔ سنجیو گپتا کے ایک ترجمان نے یہ بتانا پسند نہیں کیا کہ حکومت کی جانب سے انھوں نے یہ مالی امداد کس مقصد کے لیے استعمال کی تھی۔

فورٹ ولیم کے بہت بڑے توسیعی منصوبے پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

Ben Nevis and the aluminium smelter

BBC
بن نیوِس پہاڑ فورٹ ولیم کارخانے کے بالکل اوپر قائم ہے۔ یہ سیاہ مائل عمارت اس پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔

یہ سب سنجیو گپتا نے کیسے کر دکھایا – ایک ایسے اثاثے کو از سرِ نو منظم کرنا جس میں پہلے کسی کی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور پھر اُس میں ایسے سیاستدانوں کے لیے ایک دلچسپی پیدا کرنا جو اپنے علاقے میں ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے حالات سازگار بنانا چاہتے ہوں۔ یہ سب کچھ اُنھوں نے اپنے اُس بزنس ماڈل پر عمل درآمد کرتے ہوئے کیا جس کی بدولت انھوں نے دنیا بھر میں اپنے کاروبار کو وسعت دے کر اپنی کاروباری سلطنت قائم کی ہے۔

انھوں نے اور ان کے خاندان نے آسٹریلیا سے چیک جمہوریہ تک کئی سٹیل ملیں، کانیں، بجلی گھر اور دھاتیں پگھلانے والے کارخانے خریدے۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے تھے جن کا ان کی سرمایہ کاری سے پہلے مستقبل مخدوش تھا اور بعض تو بند ہونے کے قریب تھے۔

سیاستدانوں نے انھیں ایک مسیحا کہہ کر ان کی تعریف کی کہ انھوں نے ایک صحیح وقت پر سٹیل اور ایلومنیم کی صنعت میں بہت مقبول قسم کی ماحولیات دوست سرمایہ کاری کی ہے۔

اب انھیں اور ان کی صنعت کو ایک خطرے کا سامنا ہے۔ جس رقم کی وجہ سے ان کی صنعت کو زبردست ترقی کرنے کا موقع ملا وہ انھیں ‘گرینسِل’ نامی کمپنی کی بدولت ملی تھی جو ایک مالی امداد دینے کے کام کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور جو اب خود اس برس مارچ میں دیوالیہ ہو چکی ہے۔ اب جبکہ گپتا سے کئی کمپنیاں اپنے قرضوں کی ادائیگیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں وہ اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

اور ان سب سے بڑی بات یہ کہ اب ان کے کاروباری ادارے جی ایف جی الائنس کو حکومت کی جانب سے دھوکہ دہی کے الزام میں سیریس فراڈ آفس ادارے (ایس ایف او) کی پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ادارہ مبینہ دھوکہ دہی، دھوکہ دہی سے کیے گئے کاروبار اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات کے تحت کارروائی کر رہا ہے، جس میں گرینسِل کا بھی خاص حوالہ سامنے آ رہا ہے۔ جی ایف جی الائنس نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی تفتیش میں بھر پور تعاون کرے گا۔

سکاٹ لینڈ میں وزیروں کی جانب سے اُن کی حمایت کے خلاف سیاسی ردِعمل بڑھ رہا ہے۔ اگر گپتا اپنے کاروبار کے لیے نئی مالی مدد حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور ان کا کاروبار ڈھے جاتا ہے تو پھر یہ امکان بھی ہو گا کہ اس سارے کاروبار کا سارا قرضہ حکومت کو اپنے وسائل سے اد کرنا پڑے۔

سکاٹ لینڈ میں پہلا پراجیکٹ

جب ملکہ وکٹوریہ کے دور حکومت کے آخری برسوں میں پہلی برٹش ایلومینیم کمپنی نے دھات پگلانے کے کام کا آغاز کیا تھا اس وقت سکاٹ لینڈ ہائیڈرو الیکٹرک پاور کا استعمال کرتے ہوئے ایلومینیم بنانے میں ایک عالمی رہنما تھا۔ فورٹ ولیم پلانٹ 1929 میں کھولا گیا تھا اور اس دور کے برطانیہ میں ایلومنیم پگھلانے والا یہ اب آخری کارخانہ ہے۔

کارخانے کے کئی مالکان رہے ہیں یہاں تک کہ اسے سنہ 2007 میں ریو ٹنٹو نے خریدا۔ ایک دہائی سے بھی کم عرصے بعد ہی ریو ٹنٹو نے اس کارخانے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

اُنھوں نے پلانٹ، ہائیڈرو الیکٹرک سکیمیں اور اس سے وابستہ اراضی کو فروخت کرنے کے لیے مارکیٹ میں لگا دیا جس میں 114،000 ایکڑ پر مشتمل ایک بڑی اراضی بھی شامل تھی۔

ابھی تک یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ دھات پگھلانے والے کارخانے کام کرتے رہیں گے یا نہیں۔ یہ عمومی عالمی معیار کے مطابق ایک چھوٹا کارخانہ ہے، اور بجائے اس کے کہ کہیں قریب سے حاصل ہونے والے خام مال پر اس کا انحصار ہوتا، اس کا انحصار درآمد شدہ باکسائٹ پر ہے۔

امو شیوکر جو ایلومینیم کے ماہر ‘ووڈ میکنزی’ سے وابستہ ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘دنیا میں اس سے ایک ہی چھوٹا ایسا کارخانہ ہے جسے میں جانتا ہوں اور وہ کیمرون میں ہے۔’

‘لوک بار سال میں تقریبا 50 ہزار ٹن ایلومنیم بناتا ہے – لیکن بہت سے حریف کارخانے لاکھوں ٹن ایلومنیم بناتے ہیں۔ یہ سمندر میں ایک قطرہ ہے۔’

بہت سے بولی دینے والے پن بجلی گھروں میں دلچسپی رکھتے تھے، اور ان میں بہت ہی کم پگھلانے والے کارخانے میں۔ برائن کنگ جو ریو ٹینٹو کے لئے پلانٹ چلایا کرتے تھے اور اب بھی وہی اسے جی ایف جی الائنس کے ایلومینیم ڈویژن کے لیے ایل وینس یو کے کے چیئرمین کی حیثیت سے چلا رہے ہیں، انھوں نے اس کی فروخت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

شیوکر کہتے ہیں کہ ‘اُس وقت صرف دو بولی لگانے والے تھے جنھیں دھات پگھلانے والے کارخانوں کے کام میں کوئی حقیقی دلچسپی تھی۔ ان میں سے ایک خالصتاً سٹے باز تھا اور دوسرا جی ایف جی تھا۔’

سکاٹش حکومت کو گپتا کے ساتھ معاملہ کرنے کا پہلے بھی تجربہ تھا، کیونکہ اُس نے اس سے پہلے ڈیلزیل اور کلیڈبریج پر خطرے سے دوچار سٹیل کے پلانٹس کی خریداری میں مدد کے لیے قرضے فراہم کیے تھے۔

سنہ 2016 میں یہ سودا کرنے میں وہ کامیاب ہوئے اور ریو ٹنٹو کو 33 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی۔

Brian King, chairman Alvance UK

BBC
ایل وینس یوکے کے چیئرمین برائین کنگ۔

سنجیو گپتا نے اپنی دولت دُگنی کیسے کی

گرینسل کیپٹل کے ذریعے بانڈز جاری کیے گئے۔ یہ بنیادی طور پر سٹی انویسٹرز کو جاری کیے گئے جن سے حاصل ہونے والی قرض کی رقم کنلوکلیوین میں دوسرے پن بجلی گھر کی آمدنی سے چکائی جانی تھی۔ یہ پن بجلی گھر بھی اس اراضی کے ساتھ آیا تھا۔

بی بی سی کی دیکھی گئی مارکیٹنگ دستاویزات کے مطابق، یہ بانڈ ‘وکہم’ نامی ایک قانونی فرم کے ذریعہ جاری کیے گئے تھے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے ذریعے تقریباً 30 کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم حاصل ہوئی تھی، جن میں سے زیادہ تر اس کی خریداری کی قیمت کے حصے کے طور پر سیدھے ریو ٹنٹو کو ادا کیے گئے تھے۔

ایک اور، زیادہ پیچیدہ بانڈ کا لین دین – جس کا انتظام پھر گرینسل نے کیا، اور اس مرتبہ وال سٹریٹ بینک، مورگن سٹینلے کی مدد سے، جس کے لیے سکاٹش حکومت کی واضح حمایت کی ضرورت تھی۔

بی بی سی نے پروجیکٹ بوٹس کی مارکیٹنگ دستاویزات دیکھی ہیں اور یہ ایک غیر مبہم مالیاتی ڈھانچے کا خاکہ پیش کرتی ہیں۔ گپتا کمپنیاں بانڈ کے اجرا میں سرمایہ کاروں کو سہ ماہی واپسی کی ادائیگی کے لیے ناقابلِ تنسیخ سودے کا وعدہ کرتی ہیں۔

رقم کی واپس ادائیگی کے اس وعدے کی ضمانت سکاٹ لینڈ کی حکومت دیتی ہے، جس کے بدلے میں گپتا کو ان اثاثوں پر ایک فیس اور سیکیورٹی ملتی ہے، جو خاص طور پر وہ کمپنیاں ہیں جو پن بجلی گھروں کی مالک ہیں۔ دستاویزات واضح کر دیتی ہیں کہ سہ ماہی ادائیگی جاری رہے گی، یہاں تک کہ چاہے بجلی گھر بند بھی ہو جاتا ہے یا دھاتیں پگھلانے والے کارخانے اس کو ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتی ہیں۔

تجارتی بانڈ کے معاملے کے لیے حکومتی مدد غیر معمولی بات ہے اور دستاویزات سے ممکنہ سرمایہ کاروں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ ‘واضح اور سکاٹ لینڈ کی حکومت کی طے شدہ آمدنی والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک ناقابلِ تنسیخ ضمانت دینا غیر معمولی موقع ہے۔‘

لندن بزنس سکول میں اکاؤنٹنگ فیکلٹی کی چیئر پروفیسر فلورن واسوری کا کہنا ہے کہ ‘میں نے اس سے پہلے بانڈ کی اس قسم کی ٹرانزیکشن نہیں دیکھی۔ بانڈ کے معاملات عام ہیں، کیونکہ عام طور پر صرف دو پارٹیاں ہوتی ہیں جن کے درمیان ایک سودا طے پاتا ہے۔ یہاں ان کی ساخت میں متعدد انفرادی کمپنیاں اور ایک خودمختار گارنٹی ہے۔’

‘مجھے یقین ہے کہ ان کی بہت ہی زیادہ طلب بڑھ گئی ہو گی کیونکہ اس طرح کی مضبوط ضمانت کسی بانڈ کے لیے بہت کم دی جاتی ہے۔’

Molten aluminium is poured into a mould at the Fort William power plant

BBC
فورٹ ولیم کے کارخانے میں ایلومنیم کو پگھلا کر کسی سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔

نجی کاروباری اداروں کے لیے حکومتی مدد سے ریاستی ضمانت کے قواعد میں بہت زیادہ گڑ بڑ دیکھی جا سکتی ہے، لیکن اکاؤنٹینسی فرم ای وائی کے ذریعہ جانچ پڑتال کے بعد وزیروں نے لوک بار معاہدے کو منظور کر لیا۔ ان کے خیال میں یہ بانڈ سرمایہ کاری کے معیار اور سرکاری مالی امداد کے تقاضوں کو پورا کرتا تھا۔

اس کی رپورٹ – پروجیکٹ گالف – کو عام کر دیا گیا ہے، لیکن تجارتی حساسیت کے نام پر اس کا تقریباً سارا حصہ منظر عام پر آنے سے روک دیا گیا۔ بانڈ کے معاملے میں جمع کی گئی رقم کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن پروجیکٹ گالف کی رپورٹوں نے اس کی قیمت 25 کروڑ اور 90 لاکھ پاؤنڈ مقرر کی۔

تاہم یہیں پر فنڈ ریزنگ کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔ پچھلے سال کنلوکلیون میں بجلی گھر کو ایک انفراسٹرکچر سرمایہ کار ایکویٹکس کو فروخت کیا گیا تھا، جس کے لیے شہر کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ اس کی قیمت 15 کروڑ پاؤنڈ بنی تھی۔

جی ایف جی الائنس کا ایک ذیلی ادارہ، سیمیک، جو بجلی کے منصوبے چلاتا ہے، وہ ایک اور منصوبہ بھی چلا رہا ہے، جس میں انورینس میں گلین شیرو کے ایک بڑے ونڈ فارم کے لیے منصوبہ بندی کی اجازت طلب کی گئی ہے۔

مقامی ماحولیاتی گروہ، جیسے جان مویئر ٹرسٹ، جو بین نیوِس سمیت سکاٹ لینڈ کے جنگلی علاقوں کی نگرانی کرتا ہے، ونڈ فارم منصوبوں کے سخت مخالف ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ اس کی جس پیمانے پر تعمیر ہو رہی ہے اس سے ایک قیمتی خطے کی خوبصورتی کو نقصان پہنچے گا۔

سکاٹ لینڈ کی ہائی لینڈ کونسل نے اس منصوبے کو مسترد کردیا ہے، اور اس کی قسمت کا فیصلہ اب سکاٹش حکومت کرے گی۔

سکاٹش حکومت کے مالی مدد کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی سیاسی حمایت موجود ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے سکاٹ لینڈ کی اسمبلی کے رکن، مرڈو فریزر، جو حال ہی میں شیڈو فنانس سکریٹری تھے، اُس کمیٹی کے رکن تھے جس نے اس کی منظوری دی تھی۔

‘ایک حقیقی تشویش تھی کہ دھاتیں پگھلانے والا کارخانہ بند ہوسکتا ہے، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی حدیں پار کر رہی ہے۔ یہ ملک کے معاشی طور پر حساس معاملات میں سے ایک ہے۔’

مسٹر فریزر کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ تھا کہ کیا مسٹر گپتا نے مالی مدد کے بدلے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیا تھا؟

‘اُنھوں نے ایلومینیم وِیل فیکٹری بنانے کا وعدہ کیا جو انھوں نے پورا نہیں کیا، زمین کو علاقے کی کمیونیٹی کی ملکیت میں دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے پر بھی عمل نہیں کیا۔

‘اور اس پر بھی سوالیہ نشانات ہیں کہ کیا سکاٹش حکومت ٹیکس دہندگان کے فنڈز کے بارے میں کافی محتاط تھی، خاص کر ایسے حالات میں کہ آیا جی ایف جی اتنی اضافی نقد رقم جمع کرنے کے قابل ہوسکے گا۔’

سکاٹ لینڈ کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ‘اسٹریٹجک اہمیت’ کے کارخانے کو بچانے کے لئے مداخلت کی ہے اور ‘لوک بار کے کاروبار میں طویل مدتی صنعتی کاروائیوں کے منصوبوں والے کسی بھی بولی لگانے والے’ کو بھی اسی طرح کی مدد کی پیش کش کی گئی تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سکاٹش حکومت نے بانڈز کے لیے جو ضمانت دی تھی اُسے استعمال کرنے کا ابھی تک کسی بھی سرمایہ کار نے مطالبہ نہیں کیا ہے، اور وزرا نے اس بات کو یقینی بنا لیا ہے کہ اگر جی ایف جی کمپنیوں کا دیوالیہ ہوتا ہے تو وہ اس کے کئی اثاثے سرکاری تحویل میں لے لیں گے۔

جی ایف جی نے کہا کہ ویل پلانٹ سکیم کو برطانیہ کی کار مینوفیکچرنگ میں مندی کی وجہ سے چھوڑنا پڑا ہے۔

مسٹر کنگ کہتے ہیں کہ ‘اگر ہم نے یہ تعمیر کیا ہوتا تو یہ اب بیکار کھڑا ہوتا۔ ایلومینیم کی قیمتیں کم ہونے پر اور جی ایف جی نے اس پلانٹ کو کئی سالوں تک چلانے کی کوشش کی تھی اور اس کی وجہ سے انھیں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔’

جی ایف جی اب کسی پلانٹ کے ایلومینیم بِلیٹ، شکل والی ٹیوبیں اور دھات کے چوکور سانچے تیار کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو مینوفیکچرنگ کے مخصوص شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بھی زیادہ لگتی ہے۔ اس پر لگ بھگ نو کروڑ پاؤنڈ لاگت آئے گی اور مزید ساٹھ افراد کو روزگار ملے گا۔

کیا زمینوں کے دعوے پورے کیے گئے؟

سنجیو گپتا نے دھات پگھلانے والے کارخانے کے ساتھ ملنے والی بہت ہی وسیع و عریض زمین کے ٹکڑے کا جس طرح کا انتظام کیا ہے اس کی وجہ سے فورٹ ولیم میں بہت زیادہ ناراضی پائی جا رہی ہے۔

اس معاہدے کے وقت اس نے سکاٹش حکومت کو دیے گئے کچھ وعدوں جن کے کچھ حصے پھر بی بی سی نے دیکھے ہیں میں واضح کیا تھا کہ وہ زمین کو مقامی کمیونیٹیز کے حوالے کردیں گے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ ‘ہم اس کی تعریف کرتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ حکومت کے کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے ایجنڈے کے مرکز میں کمیونٹی کی ملکیت ہے۔’ اس میں مزید کہا گیا کہ مسٹر گپتا نے مقامی گروہوں کے ساتھ ‘اس کے اہم حصوں کے سلسلے میں کمیونٹی کی زمین کے ساتھ اس کے تبادلے کے لئے’ کام کیا ہے۔

An eight tonne bar of aluminium being lifted by a crane

BBC
ایک آٹھ ٹن وزنی ایلومنیم کا ٹکڑا ایک کرین اٹھا رہی ہے۔

اس پیش کش میں نامزد ایسٹ لوک بار اور لاگان کمیونٹی ٹرسٹ کے چیئرمین جان ہچیسن کا کہنا ہے کہ اس وعدے کو پورا کرنے کی کوئی حقیقی کوشش نہیں کی گئی تھی: ‘پانچ سال سے ہم یہیں کھڑے ہیں۔ ہم ابھی بھی منتظر ہیں۔‘

جی ایف جی نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے مقامی گروہوں کو اثاثے دے دیے ہیں اور وہ خیراتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

جولیا سٹوڈارٹ جو کہ زمین کا انتظام کرنے والی جی ایف جی کمپنی کی چیف آپریٹنگ آفیسرہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایسٹ لوک بار اور لاگان کمیونٹی ٹرسٹ نے ہمیں ایسی تجویز پیش نہیں کی جس پر ہم غور کرسکیں۔’

غیر یقینی مستقبل

دھات پگھلانے والے کارخانے اور اس کے ساتھ چلنے والے دوسرے اثاثوں کا مستقبل اب مسٹر گپتا کی سلطنت کے وسیع تر انجام کی وجہ سے پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایس ایف او کی تحقیقات سے نیا سرمایہ کار ڈھونڈنے کے لیے ان کی کوششیں اور ان کے مذاکرات مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

کیلیفورنیا کے سرمایہ کاری کے فنڈ، وائٹ اوک گلوبل ایڈوائزر، نے اپنے آسٹریلیائی اسٹیل سازی کے منصوبے میں کچھ رقم کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، لیکن وائٹ اوک کے لئے برطانیہ میں سرمایہ کاری کے لئے اب اس موضوع پر بات چیت رک گئی ہے۔

لندن کے مالیاتی معاملات کے علاقے، سٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں بہت سارے ہیج فنڈز اور حریف اثاثے خریدنے یا قرض دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہیں اس معاملے کی صورتحال گرینسل اور اس کے قرض دہندگان کو بقایا قرضوں کی وجہ سے پیچیدہ بنا رہی ہے، خاص طور پر سوئس بینک کریڈٹ سوئس، جس نے پہلے ہی جی ایف جی کی دو کمپنیوں سمیت کئی کاروباری اداروں کے خلاف معاملات نمٹانے کے نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

تاہم سنجیو گپتا ایک لحاظ سے خوش قسمت رہے ہیں۔ اِس وقت لوہے اور ایلومینیم کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر ہیں، یعنی فورٹ ولیم سمیت ان کے بیشتر پلانٹ منافع کمائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے قرض دہندگان اور تفتیش کاروں کو اپنے سے دور رکھنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرسکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp