حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کا دعوی: 'اب اگر لڑائی ہوئی تو مشرق وسطی کا نقشہ بدل جائے گا'

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے رہنما یحییٰ السنوار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل سرنگوں کے اس نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے جسے گذشتہ ماہ کی لڑائی میں تباہ کرنا اس کا اہم مقصد تھا۔

اسرائیل میں ان سرنگوں کے جال کو میٹرو کہا جاتا ہے۔

ہفتے کے روز غزہ میں کی گئی ایک تقریر میں حماس کے رہنما یحییٰ السنوار نے کہا کہ اسرائیل ان کی سرنگوں کا تین فیصد سے بھی کم نیٹ ورک تباہ کر پایا ہے۔

حماس کے اخبار ’فلسطین‘ کی ویب سائٹ پر پانچ جون کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں علمی اور عوامی زندگی سے وابستہ لوگوں سے خطاب کے دوران یحییٰ السنوار نے کہا: ’اسرائیل کے ساتھ جاری رہنے والی 11 روزہ جنگ حماس کی فوجی صلاحیتوں کو آزمانے کا ایک موقع تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے عرب ممالک کے اقدامات نے بھی تل ابیب کو غزہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔

‘مشرق وسطی کا نقشہ بدل جائے گا’

انھوں نے کہا کہ حماس نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کی تنظیم نو کا حق جیت لیا ہے۔ اب اس میں حماس اور اسلامی جہاد سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کو نمائندگی کا حق ملے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ: ، ‘اگر اسرائیل کے ساتھ دوبارہ تنازع شروع ہوا تو مشرق وسطی کا نقشہ بدل جائے گا۔

‘غزہ میں سرگرم فلسطینی گروہوں نے اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپ میں صرف اپنی نصف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ دشمن یروشلم اور شیخ جراح کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکے گا اور نہ ہی وہ فلسطینیوں کے مابین اختلافات سے فائدہ اٹھا سکے گا۔’

حماس رہنما یحییٰ السنوار نے کہا: ‘ہم نے دشمن کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ ہم مسجد اقصیٰ کے محافظ ہیں اور یہ سٹریٹیجک مقصد فلسطینیوں نے حاصل کر لیا ہے۔ غرب اردن اور اسرائیلی عربوں کے کھڑے ہونے سے ان پر بہت دباؤ پڑا ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل فلسطین تنازع: ‘خان یونس کے قصائی’ یحییٰ السنوار کے گھر پر حملہ

حماس کے محمد ضیف، جو کئی برسوں سے اسرائیلیوں کو چکما دے رہے ہیں

حماس کے ہتھیاروں کی طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟

غزہ

Getty Images

‘اسرائیل پر واضح کردیا کہ چھوٹے پیمانے پر جنگ کیسی ہوتی ہے؟’

یحییٰ السنوار نے کہا: ‘اسرائیلیوں کا ارادہ 50 فیصد مزاحمت کرنے والوں کو ختم کرنا اور غزہ کو دہائیوں پیچھے لے جانے کا تھا لیکن اسے صرف صفر حاصل ہوا۔’

انھوں نے کہا: ‘ہم نے سمندر پر متعدد بار اپنے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم ان کی مشق کرتے رہیں۔ یہ صرف ہماری صلاحیتوں کے لیے کی جانے والی ایک مشق تھی اور اسرائیل کو پر یہ واضح کرنا تھا کہ چھوٹی سطح کی جنگ کیسی ہو سکتی ہے۔’

غزہ کی تعمیر نو کے بارے میں سنور نے کہا: ‘ہم ان تمام فریقین کے لیے دروازہ کھولیں گے جو غزہ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں اور ان کے کام میں آسانی پیدا کریں گے۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘غزہ کی تعمیر نو کے لیے مختص رقم حماس اور مزاحمت کے لیے استعمال نہیں ہو گی اور ہم کسی بھی پہلو سے غزہ کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔’

واضح رہے کہ 21 مئی کو غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی ہوئی ہے۔ یہ جھڑپ 11 دنوں جاری رہی جس میں غزہ میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

حالیہ قضیے کا آغاز یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تشدد اور فلسطینی خاندانوں کو شیخ جراح سے نکالنے کے منصوبے کے بعد ہوا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp