EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جارج اورول کا ناول 1984 موجودہ دنیا کا عکاس کیوں لگتا ہے؟

جِین سیٹن - ڈائریکٹر جارج اورویل فاؤنڈیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مطلق العنانی کس طرح انسانی سوچ کو جکڑ لیتی ہے، اس موضوع پر مشہور برطانوی مصنف جارج اورول کے ناول ’1984‘ کو اگر آج بھی پڑھا جائے تو آپ کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

پہلا احساس جو اس ناول کو خوفناک بناتا ہے وہ یہ ہے کہ اورول نے ایک مطلق العنان حکومت کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ ہمیں آج کل کے حالات میں سچ دکھائی دیتا ہے۔

مثلاً ڈبل تھِنک ( یعنی بیک وقت دو متضاد خیالات کو درست سمجھنا)، تھاٹ پولیس (خیالات پر قابو پانے والی پولیس)، منسٹری آف لوّ (یا وزارتِ محبت جس کا مقصد اصل میں لوگوں کو تکلیف پہنچانا ہوتا ہے) اور منسٹری آف پِیس (یا وزارتِ امن جو اصل میں جنگیں کراتی ہے)، اور پھر ناول پر ناول لکھنے والا ایک ادارہ جو لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کے لیے اصل مسائل پر لکھنے کی بجائے دھڑا دھڑ فحش مواد شائع کرتا رہتا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ بٹی رہے۔

ان تمام عناصر کو استعمال کر کے ایک مطلق العنان حکومت کس طرح لوگوں کے خیالات پر پہرے لگاتی ہے، جارج اورول کے ناول میں یہ سب کچھ پڑھ کر ہماری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئی تھیں۔

لیکن آج ہم ’1984‘ کو ایک نئی نظر سے پڑھ سکتے ہیں، مگر نئی نظر سے پڑھنے کے باوجود بھی ہمارے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ جاتی ہے۔ کیا واقعی دنیا آج جس روڈ میپ یا نقشۂ راہ پر جا رہی ہے یہ وہی راستہ ہے جسے اورول ’جہنم کا راستہ‘ کہتے ہیں۔

یہ تو ہم نہیں جانتے کہ اوورل کی یہ نقشہ سازی کوئی الہامی پیش گوئی تھی، لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اورول نے اپنے ناول میں جن حالات کا ذکر کیا تھا وہ آپ کو جنجھوڑتے ہیں، ان سے انکار بھی ممکن نہیں، لیکن کیا یہ نقشہ سازی ہماری مدد کر سکتی ہے۔

آٹھ جون 1949 کو شائع ہونے والی یہ کتاب جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں کے پس منظر میں لکھی گئی تھی جب یورپ مکمل تباہ ہو چکا تھا۔ برطانوی قوم بھوک اور افلاس میں گِھر چکی تھی اور مستقبل بھی تاریک دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ ناول آج کل کے حالات پر لکھا گیا تھا اور اورول کی خوبی یہ ہے کہ وہ ناول میں پیش کیے گئے حالات کا مقابلہ کرنے کا سبق بھی دیتے ہیں۔

دورِجدید میں آمریت و جبر کے خدوخال کیا ہوں گے، اس کا اندازہ ہمیں ناول کے اس پہلے فقرے سے ہو جاتا ہے جسے پڑھ کر آپ چکرا سے جاتے ہیں۔ اورول لکھتے ہیں ’یہ اپریل کا ایک سرد اور روشن دن تھا اور گھڑیالوں سے 13 بجے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔‘

ناول کا مرکزی کردار، وِنسٹن سمتھ، وزارتِ سچ میں مواد کو سینسر کرنے کی ذمہ داری پر معمور ہے اور وہ تاریخ کو ہر وقت ایک ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جس سے آپ کو موجودہ حالات بُرے نہیں لگتے اور آپ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔

وِنسٹن سمتھ اور اس کے ساتھیوں پر ہر وقت ’بِگ برادر‘ یا ’بھائی صاحب‘ کی نظر رہتی ہے اور یہ لوگ بِگ برادر کی مٹھی میں ہوتے ہیں کیونکہ وہ جا بجا لگی ہوئی ٹی وی سکرینوں کی مدد سے نہ صرف خود آپ پر نظر رکھتا ہے بلکہ ہر کوئی ایک دوسرے کی جاسوسی کر رہا ہوتا ہے۔

ماسک

Getty Images
اورول کا ناول جابرانہ حکمرانی پر ایک کڑی تنقید ہے

آج اس کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے جو ہماری ہر اس حرکت، خریداری اور رائے کو جمع کرتا ہے جس کا اظہار ہم آن لائن کرتے ہیں۔ اس طرح سوشل میڈیا ہماری مستقبل قریب میں آن لائن ہونے والی ہر حرکت اور ترجیحات کا اندازہ پہلے سے لگا لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس لین دین میں صارفین کو صارفین نہیں سمجا جاتا بلکہ وہ خود مصنوعات بن چکے ہیں۔

انٹرنیٹ پر صارفین کی ترجیحات کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنی مرضی کی سیاسی تحریکوں کی آبیاری کر کے نئی تحریکوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے جمہوریت کی شکل کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

اورول کو اس بات کا اندازہ بخوبی ہو گیا تھا کہ جابرانہ حکومتوں کو ہمیشہ کسی دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے ناول میں انھوں نے دکھایا ہے کہ کس طرح عوامی جذبات کو استعمال کر کے پراپیگنڈا کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق نئے دشمن گھڑے جا سکتے ہیں۔

تاہم اورول نے ’1984’ میں ’دو منٹ کی نفرت‘ کی جو منظر کشی کی ہے، اس میں انھوں نے یہ پیشگوئی بھی کر دی تھی کہ آن لائن پر مختلف گروہ یا جتھے کیسے کام کرتے ہیں۔

ناول میں ہر کردار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پُرتشدد فلمیں دیکھے۔ چنانچہ وِنسٹن سمتھ ’دو منٹ کی نفرت‘ کے حوالے سے کہتا ہے کہ ’دو منٹ کی نفرت کے بارے میں بُری بات یہ نہیں تھی کہ آپ کو اس میں کوئی کردار ادا کرنا ہوتا تھا بلکہ سب سے بُری بات یہ تھی کہ کردار ادا کرنے سے جان چھڑانا ناممکن تھا۔ یوں خوف اور دوسرے سے بدلہ لینے کا گھناؤنا جذبہ گروہ کے ہر رکن کے جسم میں بجلی کے کرنٹ کی طرح دوڑ جاتا ہے اور آپ اپنے مخالف کو قتل کرنے، اس پر تشدد کرنے اور اس کا منھ توڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔‘

آج کل سیاسی، مذہبی اور کاروباری تنظیمیں، ہر طرح کے گروہ آپ کے احساسات اور جذبات کو بھڑکا کر ان جذبات کی تجارت کر رہے ہیں۔ اورول حیرت انگیز طور پر اس رجحان کی پیشنگوئی بھی کر چکے تھے کہ کس طرح لوگ اپنی مرضی سے اس قسم کی نفرت انگیز تحریکوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وِنسٹن سمتھ بھی اپنے اندر اس تبدیلی کو محسوس کرتا ہے۔

CCTV camera

Getty Images
ناول میں ہماری ہر حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ٹی وی سکرینیں تھیں، اور ان کی جگہ آج انٹرنیٹ نے لے لی ہے

بِگ برادر

بات ’1984‘ کی ہو اور اس ڈکٹیٹر کا ذکر نہ ہو جسے اورول نے بِگ برادر یا ’بھائی صاحب‘ کا نام دیا تھا۔ جی ہاں وہی کردار جو جتنا نامعقول ہوتا ہے اتنا ہی بھیانک بھی۔ یاد رہے کہ اورول کے اس ناول کے پس منظر میں دنیا کے بڑے بڑے نظاموں یا ’اِزمز‘ کی درمیان وہ لڑائی ہے جس نے 20ویں صدی کی شکل بگاڑ کے رکھ دی تھی۔

جارج اورول خود سپین کی خانہ جنگی میں فسطائیت (فاشزم) کے خلاف لڑنے کے لیے رضاکارانہ طور پر آمریت مخالف قوتوں کے شانہ بشانہ لڑ چکے تھے، لیکن جب سٹالن مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے لڑتے ان کا پالا سٹالن کے حامی گروہ سے پڑا تو اورول کو لگا کہ اشتراکیت (کمیونزم) کے نعرے بھی کھوکھلے ہیں۔

اورول نے اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کی خود فریبی کا مشاہدہ کر لیا تھا جنھیں ایک نئے نظام پر یقین تھا۔

آج کل ہمیں کچھ نئے قسم کے نظاموں یا ’اِزمز‘ کا سامنا ہے، مثلاً قوم پرستی یا نیشل اِزم اور عوامیت پسندی یا پاپُولرازم۔ آج کل ان نظاموں کی ترویج لوگوں میں نہایت خطرناک جذبات کو ابھار کے کی جا رہی ہے۔

آج کل آپ جس طرف نظر اٹھائیں، آپ کو ایسے افراد اقتدار میں دکھائی دیتے ہیں جنھیں لوگ ’طاقتور‘ سمجھتے ہیں۔ ان تمام طاقتور افراد میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ اپنی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو خوفناک طریقے سے کچل کر خود اپنی ذات کی ترویج کرتے ہیں۔ یعنی بِگ برادر اب محض مذاق کی بات نہیں رہی بلکہ یہ رجحان دنیا بھر میں دستور بنتا جا رہا ہے۔

دو جمع دو برابر ہے پانچ

اورول جس مطلق العنانی کی تصویر کشی اپنے ناول میں کرتے ہیں، اس میں سب سے زیادہ خطرناک چیز زبان یا الفاظ سے ان کی معنی چھین لینا ہے۔

ناول میں سرکردہ افراد کا مقصد الفاظ، خیالات اور جذبات کے اصل معانی کو ختم کرنا ہوتا ہے، یوں حقیقت ان افراد کی اصل دشمن ثابت ہوتی ہے۔

194 کا سرورق

Getty Images
1984 میں حکمران جماعت اپنے مقاصد کے لیے تاریخ کو بھی بدل دیتی ہے

جبر و استبداد کے نظام کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے حقیقی دنیا کو جاننا ناممکن بنا دے، اور اس کی جگہ خوف اور جھوٹ کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔

وِنسٹن سمتھ اس نظام کے خلاف پہلا مزاحمتی قدم اس وقت اٹھاتا ہے جب وہ خود کو ہر جگہ موجود کیمروں کی آنکھ سے بچا کر ڈائری لکھنا شروع کر دیتا ہے، جس میں وہ اپنے اندر کی دنیا کی بات کرتا ہے۔

سمتھ جانتا ہے کہ اگر حکام کو اُس کی حرکت کا علم ہو گیا تو اس کی سزا موت ہو گی۔

اور پھر جب شدید تشدد کے بعد وہ سچ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو کہتا ہے کہ ہاں ’دو جمع دو پانچ ہوتے ہیں۔‘ اپنے اس اعتراف سے پہلے وہ سمجھ چکا ہوتا ہے کہ حکام واقعی ’آپ کے دماغ کے اندر گھُس‘ سکتے ہیں۔

’1984‘ میں جو تشدد دکھائی دیتا ہے اس میں آپ کی اپنی ذات یا روح ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ حقیقی دنیا کو پہچاننے کی صلاحیت بھی۔

اورول کے ناول میں آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ چیزوں کو واپس ٹھیک کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ جب آپ سے الفاظ چھین لیے جاتے ہیں تو لوگوں کے پاس الفاظ کم ہوتے جاتے ہیں اور ان لوگوں کی سوچ کی جگہ ایسے نظریات لے لیتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔

ہر وہ ملک جہاں آمریت راج کر رہی ہے، وہاں جارج اورول کے اس ناول پر پابندی ہے، تاہم وہاں بھی یہ شہرۂ آفاق کتاب خفیہ راستوں سے پہنچ جاتی ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ اب تو دنیا کی مستحکم جمہوریتوں میں بھی اس ناول کی فروخت میں اٰضافہ ہو رہا ہے۔ انڈیا، برطانیہ، چین اور پولینڈ میں لوگ ایک مرتبہ پھر ’1984‘ سے رجوع کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی لوگ ٹرمپ انتظامیہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ ناول پڑھ رہے ہیں اور وہاں بھی اس کی فروخت میں اضافہ ہو چکا ہے۔

جارج اورول کا ایک مجسمہ

BBC
1984 کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لکھنے والے کی شخصیت کو بھی سمجھیں

صاف ظاہر ہے کہ آپ جارج اورول کو ان کے ناول سے الگ نہیں کر سکتے۔ اب زیادہ سے زیادہ لوگ اورول کو ایک ولی اور بزرگ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں، لیکن وہ جا بجا کھڑے اپنے مجسموں کو دیکھ کر ہنستے ضرور۔

مثلاً حقوقِ نسواں کے عملبردار، گوشت خوری کے خلاف تحریکیں چلانے والے گروہ اورول کے خیالات سے کبھی اتفاق نہ کرتے۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اورول کے جو بھی خیالات تھے، انھوں نے اپنی زندگی میں ان اصولوں پر عمل کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے واقعی خود کو غربت کا شکار کیا، وہ ان چیزوں کے لیے لڑے جنھیں وہ درست سمجھتے تھے، انھوں نے کبھی دیگر ادیبوں کے کام میں کیڑے نہیں نکالے اور ہمیشہ ان پر مہربان رہے۔ ان سب کے باوجود انھوں نے دنیا کو اس نظر سے نہیں دیکھا جیسی وہ تھی، بلکہ ایک ایسی دنیا کی طرح دیکھنا پسند کیا جو خود ان کو پسند تھی۔

بات صرف یہ نہیں کہ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس کے جبر کو سمجھنے کے لیے اورول کے خیالات نے ہماری سوچ بدل کے رکھ دی ہے، بلکہ آج 1984 ایک ایسا کتابچہ یا ہدایت نامہ بن چکی ہے جسے آپ مشکل دور میں اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے۔

علم اصل میں ایک قسم کی طاقت ہے اور آج کل ہماری اسی طاقت کا امتحان ہے۔

جین سیٹن لندن کی یونیورسٹی آف ویسٹ منٹسر سے منسلک ہیں جہاں وہ ذرائع ابلاغ کی تاریخ یا میڈیا ہِسٹری کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جارج اورول فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19951 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp