نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے سربراہ شیخاؤ کی پھر ہلاکت کی خبریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بکو حرام

AFP

نائجیریا میں عسکریت پسند گروہ بوکو حرام کے ایک مخالف گروہ نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیخاؤ نے خود کشی کر لی ہے۔

مقامی خبررساں اداروں کو موصول ہونے والے اس آڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ دو حریف گروہوں کے درمیان لڑائی کے دوران بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیخاؤ نے خود کو بم سے اڑا کر ہلاک کر لیا ہے۔

شیخاؤ کی ہلاکت کے بارے میں گزشتہ ماہ بھی اطلاعات ملی تھیں۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ان کے ہلاکت کی خبریں آتی رہی ہیں۔ تاہم نائجریا کی حکومت یا عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام نے ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

آڈیو ریکارڈنگ میں کیا کہا گیا؟

اس آڈیو پیغام میں، جس کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کب ریکارڈ کیا گیا تھا، سنائی دی جانے والی آواز کے متعلق یہ خیال ہے کہ یہ مغربی افریقہ کے صوبے میں دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو مصب البرناوی کی ہے۔

اس ریکارڈنگ میں کہا گیا ہے ’شیخاؤ نے اس زندگی میں بے عزت ہونے سے بہتر سمجھا کہ وہ موت کے بعد بے عزت ہوں۔‘

بکو حرام

Reuters

گذشتہ ماہ شیخاؤ کے ہلاک ہونے کی جب خبریں پھیلی تھیں تو نائجریا کی فوج نے کہا تھا کہ وہ اس کی تحقیق کریں گے۔

نائجریا کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد یرما نے بی بی سی کو اس وقت بتایا تھا کہ فوج اس بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور جب تک اس کے ٹھوس ثبوت نہیں مل جاتے کوئی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔

ایک صحافی جس کے فوج اور سکیورٹی فورسز میں قابل اعتماد ذرائع ہیں ان کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی نائجیریا کے جنگلات میں مخالف گروہ کی جانب سے بوکو حرام کے اڈوں پر حملے کے دوران شیخاؤ کی ہلاکت ہوئی۔

واضح رہے اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ان کی ہلاکت کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں لیکن وہ ہر مرتبہ زندہ سامنے آ جاتے ہیں۔

نائجیریا میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے میڈیا کی طرف سے بھی شیخاؤ کی ہلاکت کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔


بوکو حرام کا مستقبل کیا ہو گا

میینی جونز بی بی سی نیوز لاگوس

یہ واضح نہیں ہے کہ شیخاؤ کی موت سے بوکو حرام پر کیا اثر پڑے گا لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مغربی افریقہ میں جہاد کے نام پر تشدد ختم ہو جائے۔

اس خطے میں عسکریت پسند گروہ آئی ایس ڈبلیو اے پی بہت مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور اس نے نائجیریا کی فوج کے خلاف چند کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ گروہ اب شیخاؤ کے جنگجوؤں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ اچھا بھی ہے اور برا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نائجیریا میں 110 لڑکیوں کی بازیابی کی کوششیں تیز

نائجیریا: لاپتہ طالبہ ’بچے کے ہمراہ ملی ہیں‘

نائجیریا میں 40 افراد کو ’ریپ‘ کرنے والا شخص گرفتار

شیخاؤ کی ہلاکت سے ایک اچھی بات تو یہ ہو گی کہ دونوں حریف گروہوں کی آپس کی لڑائیاں بند ہو جائیں گی۔ لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ مغربی افریقہ میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کا اثر بہت بڑھ جائے گا۔

شیخاؤ کے جنگجوؤں کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ دوسرے گروہوں میں شامل ہو جائیں یا پھر اپنا علحیدہ گروہ تشکیل دیں۔

شمال مشرقی نائجیریا جو پہلے ہی خونی جنگ کی زد میں ہے وہاں صورت حال مزید خراب بھی ہو سکتی ہے اور مسلح گروہوں کی آپس کی لڑائیوں سے شہریوں کے نشانہ بننے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔


ابو بکر شیخاؤ کون ہیں؟

بوکو حرام کے سابق سربراہ کی سنہ 2009 میں پولیس کی حراست میں موت کے بعد ابو بکر شیخاؤ نے عسکریت پسند گروہ کی قیادت سنبھالی تھی۔ بوکو حرام کا سربراہ بننے کے بعد ابوبکر شیخاؤ نے اس گروہ کو خفیہ تنظیم سے ایک ایسی قوت میں تبدیل کر دیا جس نے نائجیریا کے پورے شمال مشرقی خطے میں امن اور استحکام کو برباد کر دیا۔

شیخاؤ کی سربراہی میں بوکو حرام نے خطے بھر میں بم حملے کئے، اغوا کی کارروائیاں کیں اور جیل توڑ کر مجرموں کو فرار کروایا۔

سنہ 2014 سے اس نے دیہات اور قصبوں پر قبضے کرنا شروع کر دیئے تاکہ یہاں شریعت نافذ کر کے اسلامی ریاست تشکیل دی جائے۔

شیخاؤ جن کی عمر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چالیس برس کے پیٹے میں ہیں انھوں نے اپنی پراپیگنڈا ویڈیوز میں جہادی مہم کی حمایت کی اور وہ اپنا موازنہ اسامہ بن لادن سے کرتے تھے۔

سنہ 2012 میں اپنی ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے لوگوں کو قتل کرنے میں ویسا ہی مزہ آتا ہے جیسے بکریوں یا مرغیوں کو ذبح کرنے میں۔‘

ان کے بوکو حرام کے سربراہ بننے کے بعد سے نائجیریا میں 30 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ عسکریت پسند گروہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر سامنے آیا تھا جب اس گروہ نے سنہ 2014 میں سینکڑوں لڑکیوں کو چیبوک کے علاقے میں ایک سکول سے اغوا کر لیا تھا۔

امریکہ نے اس کے بعد شیخاؤ کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا تھا اور ان کے سر کی قیمت ستر لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

شیخاؤ انتے شدت پسند خیالات کے حامی تھے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

بوکو حرام کا کیا بنے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شیخاؤ کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو بھی یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ بوکو حرام ختم ہو جائے گی۔ مبصرین کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ کے گروہ (آئی ایس ڈبلیو اے پی) کے قیام کے بعد سے اس نے خطے میں بوکو حرام کی بلادستی ختم کر دی ہے۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ شیخاؤ کی موت سے دونوں گروہوں میں لڑائیاں ختم ہو جائیں گی اور بوکو حرام کے جنگجو دولت اسلامیہ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے لیکن چند مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا اور یہ جنگجو اپنی سوچ اور عقائد پر قائم رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19457 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp