سینکڑوں جرائم پیشہ افراد ایف بی آئی کی خفیہ ایپ کے جھانسے میں آ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


A man is arrested in Australia as part of Operation Ironside

Australian Federal Police
More than 200 people were arrested in Australia

امریکی حکام کے مطابق ایف بی آئی کی ایک خفیہ کارروائی میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے 800 سے زیادہ مشتبہ مجرموں کو ایک اینکرپٹڈ ایپ کے ذریعے جھانسا دیکر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کارروائی کا منصوبہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن) اور آسٹریلیا نے مل کر بنایا تھا۔

اس کارروائی میں ’اے این او ایم‘ یا اینوم نامی ایپ خفیہ طور پر دنیا کے کئی ممالک میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد میں تقسیم کی گئی، جس کی مدد سے پولیس ان افراد کی آپس میں گفگتو اور پیغامات کی نگرانی کرتی رہی۔ ان پیغامات میں متشبہ افراد منشیات کی سمگلنگ، منی لانڈرنگ، حتیٰ کہ قتل کے منصوبے بنا رہے تھے۔

امریکی اور آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بڑے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایک تاریخی پیشرفت ہے۔

اس کارروائی کا ہدف منشیات فروشوں کے بڑے گروہ اور ایسے لوگ تھے جن کے تانے بانے بڑے جرائم پیشہ گروہوں یا مافیا سے ملتے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک درجن سے زیادہ ممالک میں کی جانے والی اس خفیہ کارروائی کے نتیجے میں منشیات، اسلحہ، کئی مہنگی گاڑیاں اور بھاری نقدی تحویل میں لی گئی ہے۔ ان میں آٹھ ٹن کوکین، 250 بندوقیں اور مختلف ممالک کی کرنسیوں اور کرپٹو کرنسی کی شکل میں چار کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم شامل ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ یہ دنیا میں منظم جرائم کے خلاف ایک بہت بڑی کارروائی ثابت ہوئی ہے۔

یورپی یونین کی پولیس ’یورو پول‘ نے ’آپریشن ٹروجن شیلڈ‘ کے نام سے کی جانے والی اس کارروائی کو ’اینکرپٹڈ یا خفیہ پیغام رسانی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

ایمنوم نامی ایپ نے کیسے کام دکھایا؟

اس خفیہ آپریشن کے لیے ایف بی آئی نے اے این او ایم (یا اینوم) نامی ایک ایپ کا استعمال کیا اور اپنے مخبروں کی مدد سے پیغام رسانی کے ایسے آلات متشبہ افراد میں تقسیم کرائے جن میں یہ ایپ لگی ہوئی تھی تاکہ ان افراد کی ایک دوسرے سے گفتگو اور پیغامات پر نظر رکھی جا سکے۔

حکام کو یہ ایپ استعمال کرنے کا خیال اس وقت آیا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسی دو اینکرپٹڈ ایپس کو انٹرنیٹ سے ہٹا دیا، جس کے بعد جرائم پیشہ گروہ مجبور ہو گئے کہ وہ اب ایسے موبائل یا ایپس خریدیں جن کے ذریعے وہ خفیہ طور پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکیں۔

اینوم سے لیس یہ موبائل فون شروع میں جرائم پیشہ گروہوں کے کرتا دھرتا افراد تک پہنچائے گئے، جس سے دوسرے متشبہ افراد کو بھی اعتبار آنے لگا اور وہ بھی پیغام رسانی کے لیے یہی ایپ استعمال کرنے لگے۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق اس خفیہ ایپ سے لیس خفیہ طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو مشتبہ گروہوں کے سینیئر افراد تک پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ آپ ان افراد کو جان سکیں۔ یہ فون عام موبائل فونز کی طرح کام نہیں کرتے بلکہ آپ صرف اسی شخص سے رابطہ کر سکتے ہیں جو اُس پلیٹ فارم پر موجود ہوں جو آپ کے فون میں لگا ہوا ہے۔

تحویل میں لی جانے والی اشیاء میں قیمتی موٹرسائیکل اور نقدی بھی شامل ہے

Australian Federal Police
تحویل میں لی جانے والی اشیاء میں قیمتی موٹرسائیکل اور نقدی بھی شامل ہے

اس خفیہ آپریشن میں پولیس کو سب سے زیادہ مدد آسٹریلیا کے ایک مفرور مجرم اور منشیات کا دہندہ کرنے والے شخص، حکان ائیک سے ملی جس نے غیر دانستہ طور پر اپنے ساتھیوں کو بھی یہ ایپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ حکام نے حکان ائیک تک اس ایپ سے لیس آلہ پولیس کے مخبر کے ذریعے پہنچایا تھا۔

حکان ائیک کو آسٹریلیا میں ‘فیس بُک گینگسٹر’ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر لگانے کے لیے مشہور ہیں۔ ان تصاویر میں ان کے جسم پر بڑے بڑے ٹیٹُو دکھائی دیتے ہیں اور لگتا ہے وہ اپنے ورزشی بدن کی نمائش کرنا پسند کرتے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب آخری مرتبہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو حکان ائیک فرار ہو کر ترکی چلے گئے جہاں وہ اپنی ولندیزی بیوی کے ساتھ پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ حکان ائیک کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ جلد از جلد خود کو پولیس کے حوالے کر دیں کیونکہ ناداسنتہ طور پر ایف بی آئی کی مدد کرنے کے بعد اب انہیں دیگر جرائم پیشہ لوگوں کی طرف سے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکام کے مطابق اس بہت بڑی خفیہ کارروائی کے لیے دنیا کے ایک سو سے زیادہ ممالک میں تقریباً تین سو مشتبہ افراد میں ایپ سے لیس بارہ ہزار فون تقسیم کیے گئے تھے۔

حکام نے کیا کچھ برآمد کیا؟

اس کارروائی کے دوران خفیہ اداروں اور پولیس کے اہلکاروں نے ایسے لاکھوں پیغامات کا سراغ لگایا جن میں لوگوں کے قتل کے منصوبوں اور بڑے پیمانے پر منشیات کی سودا بازی کے علاوہ دیگر جرائم کے منصوبے بنائے جا رہے تھے۔ اس کارروائی کی خاص بات یہ تھی کہ جس وقت متشبہ افراد ایک دوسرے کو پیغامات بھجوا رہے تھے، سرکاری حکام کو وہ پیغامات اسی وقت مل رہے تھے اور وہ ان کا مسسلسل جائزہ لے رہے تھے۔

آسٹریلین فیڈرل پولیس کے کمشنر، ریس کرشا کا کہنا تھا کہ ‘یہ لوگ ہر وقت منشیات، پرتشدد کارروائیوں، ایک دوسرے کو نشانہ بنانے، معصوم لوگوں کے قتل کے علاوہ بہت سی دیگر مجرمانہ کارروائیوں کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔’

بحثیت مجموعی اس کارروائی میں دنیا بھر کے نو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اس حوالے سے ایف بی آئی کے تفتیشی شعبے کے سربراہ، کیلوِن شیورز کا کہنا تھا کہ اس کارروائی نے ‘جرائم پیشہ تنظیموں کے کھیل کو الٹ کے رکھ دیا ہے’ کیونکہ خفیہ نگرانی سے پولیس کو ایسی معلومات حاصل ہوئیں جن کی مدد سے ہم نے قتل سمیت کئی جرائم کو روکا ہے۔ ‘ہمیں اس دوران سینکڑوں ہزاروں ٹن کوکین کو دیکھنے کا موقع ملا جسے پھلوں کے ڈبوں میں چھپا کر ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچایا جا رہا تھا۔’

گاذ فادر کا پوسٹر

Australian Federal Police
پولیس نے جو اشیاء برآمد کیں ان میں مشہور فلم ’گاڈ فادر‘ کے پوسٹر وغیرہ بھی شامل ہیں

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات میں ان میں سے کسی شخص کا بھی نام نہیں ظاہر کیا گیا جنہیں اس کارروائی میں حراست میں لیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں 224 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں غیرقانونی موٹر سائیکل گینگ، مافیا، ایشیائی جرائم پیشہ گروہوں، اور دیگر منظم جرائم میں ملوث گروہوں کے افراد شامل ہیں۔

جبکہ نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا تھا کہ انھوں نے کل 35 افراد کو حراست میں لیا ہے اور تقریباً 27 لاکھ ڈالر مالیت کے اثاثوں کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے نیشنل آرگنائزڈ کرائم گروپ کے ڈائریکٹر گریگ ولیمز کے بقول ‘ہمیں یقین ہے کہ ان گروہوں کے خاتمے سے ہم نیوزی لینڈ میں منظم جرائم پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔’

اس تاریخی خفیہ کارروائی کے حوالے سے یورپی یونین کی پولیس، یورو پول کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ‘غیر معمولی کامیابی’ ہے۔

یورو پول نے یہ نہیں بتایا کہ یورپی یونین کے ہر ملک میں کتنے افراد کو پکڑا گیا ہے، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے لوگوں میں سے 70 کو سویڈن سے گرفتار کیا گیا جبکہ ہالینڈ میں 49 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سویڈن کی خفیہ پولیس کی سربراہ لِنڈا سٹاف کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں قتل کی دس وارداتوں کو روکنے میں کامیابی ہوئی۔

توقع ہے کہ ایف بی آئی کے حکام کئی ممالک میں بیک وقت کی جانے والی اس بڑی کارروائی کی مزید تفصیل جمعرات کو بتائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp