سائبر کرائم کی آڑ میں کسے نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سائبر کرائم بل عوام کا محافظ یا طاقتور طبقے کا ملازم؟ کیا ہر قانون غریب پر ہی نافذ ہو گا؟

پاکستان کے ایوان بالا کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 11 اگست 2016 کو الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے متنازع سائبر کرائم بل کی منظوری دے دی تھی۔ اس بل میں ایسے 23 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔

سائبر کرائم ایکٹ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لاگو ہے۔ سائبر کرائم ایکٹ اگر منصفانہ بنیادوں پر نافذ العمل ہو تو اس سے ملک و قوم دونوں کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ سائبر کرائم قانون میں کچھ بے تکی شقیں ہیں جن پر شدید تحفظات کی وجہ سے اسے انسان دوست نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اسے لوگوں کے حقوق کا ضامن قرار دیا جاسکتا ہے، البتہ اسے سیاسی و سماجی حضرات کے جائز و نا جائز حقوق کا رکھوالا ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہتک عزت الگ بات ہے اور اس آڑ میں کسی شخص کا ذاتی ڈیٹا چیک کرنا، اس کے گھر والوں کو تنگ کرنا اور پورے گھر کو قصوروار سمجھنا کچھ اور چیز ہے۔ سائبر کرائم ایکٹ کو یوزر فرینڈلی بنانا حکومتی مشن ہونا چاہیے نہ کہ غیر ضروری چیزوں میں لوگوں کو الجھانا اور ان ریسٹ پیدا کرنا مطمح نظر ہو۔ آزادی اظہار رائے انسان کو جینے کا بنیادی حق بھی فراہم کرتی ہے اور اظہار میں تجاوز سے بھی روکتی ہے۔

سائبر کرائم کی بے صبری میں پاس شدہ شقوں میں کچھ پر نظرثانی ضروری ہے جن میں ’

( 1 ) صارفین کے حساس اعداد و شمار کو چیک کرنا۔ ( 2 ) NATIONAL RESPONSE CENTRE FOR CYBER CRIME ”کے تحت مستثنی افسران (ایف آئی اے )“ کو کسی بھی تحقیق کے دوران کسی بھی کمپیوٹر، موبائل فون یا دیگر آلہ کو غیر مقفل کرنے کی اجازت ہونا۔ ( 3 ) موبائل فون لیپ ٹاپ پر کچھ بھی دیکھتے ہوئے ہر کسی کو مانیٹر کیا جانا ( 4 ) شق 28 کے تحت آپ کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور موبائل کی جانچ کسی وقت بھی کی جا سکتی ہے صرف ایک نوٹس کی ضرورت ہوگی۔ ( 5 ) شق 29 کے تحت حساس اداروں کے لئے ایک سال تک آپ کا ڈیٹا محفوظ کر کے رکھا جائے گا تاکہ بوقت ضرورت کام آئے ( 6 ) بغیر وارننگ کے کسی کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ جرم کے مرتکب فرد کی عمر کیا ہے کیونکہ اس سائبر کرائم بل میں جرم کرنے والے کی عمر کا تعین نہیں کیا گیا۔

( 7 ) دوست ممالک کے خلاف بھی کچھ پوسٹ کیے جانے پر جیل جانا ہوگا اور کسی ادارے یا شخص معلومات تک رسائی کرنے کی کوشش میں تین ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، برائے۔ ( 8 ) غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم ہوگا اور سات سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ ہوگا۔ مگر جرم کے زمرے میں صرف بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم ہوگا، بالغوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم نہیں۔ ( 9 ) سائبر کرائم بل میں اپنے عقیدے کا پرچار کرنا منع ہے اور اقلیتوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کہا جائے، لکھا ہے لیکن توہین رسالت کا کہیں ذکر نہیں۔ ”

اب اگر بات کریں آزاد کشمیر حکومت کی تو آج کل سائبر کرائم کی آڑ میں اپنے غیر قانونی اقدام کو چھپانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔

آزاد کشمیر میں ہر اس آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جو کسی مظلوم کے ساتھ ہو۔ یہاں کا طاقت ور طبقہ ہر طرح کے غیر قانونی اقدام کرتا ہے اور پھر اپنے رتبے کا استعمال کرتے ہوئے اس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دو مہینے قبل ایک نوجوان صحافی عرفان شبیر کو سائبر کرائم کی آڑ میں گرفتار کیا گیا، جعلی آئی ڈی کیس کے نام سے ایک بے بنیاد مقدمہ چلایا گیا جو تاحال ثابت نا ہوسکا۔ عرفان شبیر پر تشدد اور اس کے گھر والوں کو بار بار تنگ کیا گیا، اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک صاحب اقتدار شخص کے کچھ غیر قانونی، غیر اخلاقی کاموں پر رپورٹنگ کی تھی۔ حق کی آواز دبانے کے لیے اس بد مست ہاتھی نے سائبر کرائم کا سہارا لیا جو محض ایک ڈھونگ ہے۔

اسی طرز کا ایک اور کیس گزشتہ ہفتے آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پیش آیا۔ ضلع باغ کے ڈی۔ سی صاحب نے اپنے نائب قاصد (عبدالمجید خان) کو گالم گلوچ کے بعد مار پٹائی کی جس نے بعد میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کے نام درخواست لکھ کر سارا قصہ بیان کیا۔ اس نائب قاصد کے حق میں آواز بلند کرنے والے ضلع باغ کے غیرت مند سپوتوں کو بھی سائبر کرائم کے آڑ میں گرفتار کیا گیا۔ باغ سے تعلق رکھنے والے عثمان کاشر ایک جرات مند، بہادر، حق گو اور طاقت ور طبقے کے لیے حلق کی ہڈی ثابت ہوتے آئے ہیں۔ عثمان کاشر کی آواز کو دبانے کا مقصد طاقتور طبقے کی راہ ہموار کرنا ہے، آخر کار عثمان کاشر کے حق میں پھر عزت آئی اور حکومتی مشینری گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔

عثمان کاشر اور ان کے ساتھیوں پر جو مقدمہ درج کیا گیا وہ جھوٹ کا پلندا ثابت ہوا لیکن بہت سے سوال پیدا کر کیا۔ کیا سائبر کرائم کی آڑ میں حکومتی ادارے کسی بھی شریف انسان پر مقدمہ چلا کر اس کی عزت اچھال سکتے ہیں؟ کیا محافظوں کے ہاتھوں شہری محفوظ رہ سکیں گئے؟ کیا حکومتی ادارے اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عزت مند لوگوں سے معافی مانگ کر ان کی ساکھ کو بحال کریں گئیں؟

ارسطو نے کہا تھا: ”قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں ہمیشہ حشرات یعنی چھوٹے ہی پھنستے ہیں، بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔“

سوشل میڈیا پر لوگ اسلحے کی نمائش کرتے ہیں، غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جاتا ہے، لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانا اور پھر ان کی عزتوں کو سرعام نیلام کرنے والی بہت سے جعلی اکاؤنٹ بنائے گئے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی سامنے نہیں آتی۔

سوال پیدا ہوتے ہیں آزاد کشمیر میں سائبر کرائم کا کوئی قانون موجود ہی نہیں تو کارروائی کس بیس پر کی جاتی ہے؟ سائبر کرائم کی کارروائی صرف حق پرستوں کے خلاف کیوں؟ کیا سائبر کرائم ایک آلہ ہے جس کو استعمال کر کے حق پرستوں کو دبایا جا سکے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *