آم جو پھٹ گئے

گرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ہر گھر میں ”قتل آم“ شروع ہو چکا ہے۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ کہا تو اور بھی بہت کچھ جاتا ہے جیسا کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو کون کیا کہہ رہا ہے، جو کہتا ہے اسے کہنے دیں۔

تو ہم ذکر کر رہے تھے پھلوں کے بادشاہ کا۔ ویسے یہ محاورہ تو کسی نے بھی پہلے نہیں سنا ہو گا کہ ایک جگہ دو بادشاہ اکٹھے نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ محاورہ علامہ شریف رانا دامت برکاتہم العالیہ نے ابھی ابھی ایجاد کیا ہے۔ خیر اپنی تعریف کر کے اپنے منہ میاں مٹھو کیا بننا، ہمیں میاں مٹھو بنانے کے لئے تو ہماری اماں ہی کافی ہیں۔

بات ہو رہی تھی بادشاہوں کی، جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اسی طرح ایک جگہ میں دو بادشاہ نہیں رہ سکتے۔ اور اگر بات ہو پھلوں کے بادشاہ آم کی تو وہ کیسے کسی اور کو رہنے دے گا چاہے وہ بادشاہ ”مرد حق“ ہی کیوں نا ہو۔

آم بھی عجیب میٹھا اور ذائقے دار پھل ہے۔ مرزا غالب و اقبال کی طرح ہمیں بھی بہت پیارا ہے اور ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ آم ہوں، میٹھے ہوں اور بہت زیادہ ہوں۔ لیکن کبھی کبھی آم خراب بھی ہو جاتے ہیں یا پھٹ جاتے ہیں۔ خراب آموں کا کھانا جہاں صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے وہاں آموں کا پھٹنا جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔

آموں کے پھٹنے سے یاد آیا آج کی تحریر تو ہم آموں کے پھٹنے کے بارے لکھنے جا رہے تھے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا انہیں ہمیشہ پچھتاوا رہتا ہے جیسا کہ ہمیں ہمیشہ اس بات کا پچھتاوا رہے گا کہ ہم بانوے کا ورلڈ کپ کیوں جیت گئے۔ اور کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی ہمیشہ خوشی رہتی ہے جیسا کہ آم پھٹنے کی خوشی۔ آج سے تین دہائیاں قبل اگر ورلڈ کپ جیت جانے کا ہمیں افسوس ہے تو چار دہائیاں قبل آم پھٹ جانے کی خوشی بھی ہے۔

حال ہی میں ہم نے بی بی سی کے کالم نگار جناب محمد حنیف صاحب کی کتاب ”پھٹتے آموں کا کیس“ پڑھی ہے۔ جو کہ حقیقت کو بنیاد بنا کر لکھا جانے والا ایک ناول ہے۔ سنا ہے کتاب کو کچھ ادبی انعامات وغیرہ بھی مل چکے ہیں۔ اردو ترجمہ کاشف رضا نے کیا ہے۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اردو ترجمہ مارکیٹ سے نہیں ملتا، اسے چند خفیہ کے لوگوں مارکیٹ سے اٹھوا لیا ہے اور دوبارہ اشاعت ممنوع کر دی ہے۔

حیرت تو یہ ہے کہ کتاب 2008 میں پہلی دفعہ شائع ہوئی اور اردو ترجمہ 2019 میں شائع ہوا۔ اردو میں ترجمہ ہونے کے بعد کسی کو یاد آیا کہ اوہو کتاب میں تو بہت کچھ غلط ہے، اسے تو نہیں چھپنا چاہیے تھا۔ چلو اس پہ اب پابندی لگا دیتے ہیں۔

پابندی لگانے والوں کا شکریہ کہ ان کی بدولت ناول کا مزید چرچا ہوا اور اسی بہانے ہم نے بھی پڑھ لیا چاہے سال ڈیڑھ سال دیر سے ہی کیوں نا۔ لگتا ہے میری طرح خفیہ والوں کا بھی ”ہتھ انگریزی توں ذرا تنگ اے۔“ سوچتا ہوں پابندی لگانے والوں کو شاید انگریزی نہیں آتی تھی جو کتاب انگریزی میں اتنے سال پڑھی جاتی رہی، اور اس کی ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی کی جاتی رہی۔ پھر سوچتا ہوں پابندی لگانے والوں کا کیا قصور آخر ایک ایف اے پاس شخص کتنی انگریزی جانتا ہو گا۔ جو اسے انگریزی میں شائع ہونے والی کتاب کے بارے علم ہو۔

”پھٹتے آموں کا کیس“ کا اردو ایڈیشن مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہاں مگر A story of exploding mangoes کے نام سے انگریزی ایڈیشن ابھی بھی بآسانی دستیاب ہے بلکہ مختلف سرکاری لائبریریوں میں بھی مل جاتا ہے۔ کتاب پاک ائر فورس کے ایک انڈر آفیسر علی شگری کی روداد بیان کرتی ہے جس کے والد کو جنرل ضیاءالحق کے حکم پر میجر کیانی نے قتل کیا تھا۔ انڈر آفیسر شگری کے اندر انتقام کی اگ جلتی رہتی ہے اور وہ جنرل ضیاء الحق سے بدلہ لینے کی ٹھان لیتا ہے۔

دوسرے کرداروں میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل، خاتون اول، آئی ایس آئی چیف جنرل اختر، بریگیڈئیر ٹی ایم وغیرہ شامل ہیں۔ کتاب میں او بی ایل (اسامہ بن لادن) کا امریکی سفیر اور پاکستانی جرنیلوں کی پارٹی میں آنے کے واقعہ کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور دوسری طرف پانچوں نمازیں ادا کرنے والے، ٹی وی اینکروں تک کو دوپٹہ اوڑھنے والے مگر گوری چمڑی والی خاتون صحافی کے سینے پر موجود روشن گلوبوں پر نظر رکھنے والے ضیاء کی منافقت کا پردہ چاک کرتی ہے۔

سعودی شہزادے کے اس ڈاکٹر کا بھی ذکر ہے جو بالخصوص عضو خاص کی حفاظت کے لئے رکھا گیا تھا۔ سوچتا ہوں آخر کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمان دو ٹانگوں کے بیچ میں سے نکل کیوں نہیں آتے۔ ہمارا دماغ ہر وقت وہیں کیوں اٹکا رہتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ناول میں ”ان“ کے خلاف لکھا گیا تھا اس لئے انہوں نے اسے اٹھوا لیا۔ سوچتا رہا کہ وہ تو اپنے خلاف بات کرنے والوں کو اور ان کی کتاب تک کو اٹھا لیتے ہیں تو پھر آم کو کیسے بخش دیا بعد میں سمجھ آئی اس کو بھی بخشش نہیں ملی بلکہ ملتان میں قتل آم کر کے وہاں ڈی ایچ اے بنایا جا رہا ہے۔ بہرحال ”پھٹتے آموں کا کیس“ اچھی کتاب ہے۔ جملے نگاری، کردار اور خاکہ نگاری کمال ہے۔ واقعات کو ایسے بیان کیا گیا ہے جیسے قاری کی انکھوں کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اب اس میں حقیقت کتنی اور فکشن کتنا ہے، یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ آپ بھی کتاب پڑھیں اور اپنی رائے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words